عظمیٰ نیوز سروس
سورت//گجرات کے سورت شہر اور ضلع میں گزشتہ 38 گھنٹوں سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ اس دوران شہر میں اوسطاً 19 انچ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں بھی 7.59 انچ سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔سورت شہر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اوسطاً 347 ملی میٹر (13.7 انچ) بارش ہوئی ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث شہر کے 148 مقامات پر پانی بھر گیا ہے۔ انتظامیہ نکاسی آب کے نظام کی صفائی کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اب تک 3,416 لوگوں کو راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر نکالا جا چکا ہے، جب کہ 3,862 کو قریبی کمیونٹی عمارتوں اور اسکولوں میں منتقل کر کے پناہ دی گئی ہے۔ تمام متاثرہ رہائشیوں میں مجموعی طور پر 9,565 فوڈ پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔سورت کے دیہی علاقے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اوسطاً 192.72 ملی میٹر (7.59 انچ) بارش ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں میں 19 مقامات پر پانی جمع ہوگیا ہے اور انتظامیہ پانی کی نکاسی کے لیے کام کر رہی ہے۔پانی کے شدید بہاؤ سے کامریج تعلقہ میں اتمیا ولا سوسائٹی کی دیوار گر گئی۔ سوسائٹی میں کھڑی دو کاریں، ایک ٹیمپو اور ایک موپیڈ پانی کے بہاؤ میں بہہ گئی۔
اس بارے میں سوسائٹی کے صدر راجیش بھائی گونڈالیہ نے بتایا کہ “کل (7 جولائی) دوپہر 2:30 بجے اچانک پانی کے بہنے سے 40 سیکنڈ میں 10 فٹ پانی کی دیوار ٹوٹ گئی۔ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔” مکین اپنے طور پر سڑک بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔اس موسلادھار بارش میں اب تک نو افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بجلی کا کرنٹ لگنے، درخت گرنے اور ڈوبنے کے واقعات شامل ہیں۔ سورت شہر کی پانچ میں سے چار ندیاں بہہ رہی ہیں، جس سے نشیبی علاقے مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں۔ پودار مارکیٹ میں 250 دکانوں میں پانی داخل ہونے سے ٹیکسٹائل مارکیٹ کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے، تاجروں نے 200 کروڑ سے زیادہ کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں بچاؤ کارروائیوں میں لگاتار مصروف ہیں، لیکن مقامی باشندوں کو اب بھی پینے کے پانی اور دودھ جیسی بنیادی اشیاء کی قلت کا سامنا ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث اسکول اور کالج بند کردیے گئے ہیں جب کہ ٹریفک کے حلقوں میں لوگوں کے گھنٹوں پھنسے رہنے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے سورت میں تاجروں اور عام لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ انتظامیہ نے امدادی کاموں میں تیزی لائی ہے۔