سمت بھارگو
راجوری//فوج کے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دور جموں و کشمیر کے دوران جمعرات کو لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں کا دورہ کیا اور سرحدی علاقوں میں تعینات فوجی دستوں کی آپریشنل تیاریوں، سیکورٹی صورتحال اور انسدادِ شورش نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔جنرل دھیراج سیٹھ نے جموں صوبے کے ان تینوں اضلاع، جموں، راجوری اور پونچھ کا دورہ کیا جو لائن آف کنٹرول سے متصل ہیں۔ اس دوران انہوں نے پونچھ سیکٹر، راجوری کے بھمبر گلی سیکٹر اور جموں کے سندربنی سیکٹر میں اگلے مورچوں کا معائنہ کیا۔آرمی چیف کے ہمراہ شمالی کمان کے آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما اور وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران انہیں سرحدی علاقوں میں موجودہ سیکورٹی صورتحال، فوجی تعیناتیوں، نگرانی کے جدید نظام، فیلڈ سطح پر متعارف کرائی گئی نئی اختراعات اور مجموعی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔جنرل دھیراج سیٹھ اس خطے سے گہری واقفیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں کاؤنٹر انسرجنسی فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ بھی رہ چکے ہیں۔ یہ فورس پہلے راجوری، جموں، رام بن اور ریاسی اضلاع میں تعینات تھی اور بعد ازاں اسے لداخ منتقل کیا گیا تھا۔ اسی تجربے کے باعث انہیں خطے کی جغرافیائی،سیکورٹی اور آپریشنل ضروریات کا وسیع علم حاصل ہے۔فوجی ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے وائٹ نائٹ کور کے انسدادِ ملی ٹینسی گرڈ کا بھی جائزہ لیا اور بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول کے تناظر میں فوج کی حکمت عملی اور تیاریوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں میں جاری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ملک کے پہلے سرحدی دیہات کو بااختیار بنانے کے لیے فوج کی عوام دوست سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔دورے کے دوران جنرل دھیراج سیٹھ نے فوج کے جوانوں اور افسران سے براہِ راست ملاقات کی۔ انہوں نے دیگر سیکورٹی اداروں کے افسران سے بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں ڈپٹی ایس پی آپریشنز راجوری ڈاکٹر شمی کمار بھی شامل تھے۔ آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی سلامتی کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مستعدی اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دینے کی تلقین کی۔فوج کے مطابق جنرل دھیراج سیٹھ نے تمام رینکس کی آپریشنل کارکردگی اور غیر متزلزل عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیکورٹی چیلنجز کے پیش نظر ہر اہلکار کو مشن پر مکمل توجہ مرکوز رکھتے ہوئے چوکسی، تیاری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فوج اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرتی رہے گی۔