بلاشبہ زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے،اگرچہ اس میں انسانی ہاتھ کا کوئی عملِ دخل نہیں ہوتا،پھر بھی یہ آفات آندھی،طوفان ،سیلاب ،زلزلے وغیرہ صورت میں انسانی آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہے یا پھرانہیں بڑے پیمانے پرجانی و مالی نقصانات سے دوچارکرکے آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہے۔
جموں کے ضلع ڈوڈہ و کشتواڑ کے ملحقہ علاقوں میںحالیہ دنوں کے دوران شدید بارشوں اوربادل پھٹنے کے نتیجے میںپہاڑی ڈھلوانوں سے پتھر گر آنے اور سیلابی ریلوں نے جو تباہی مچادی ،اُس پر جموں و کشمیر کا ہر فردِ بشر غم اندوہ اور افسردہ ہے۔اس خوفناک آفاتی صورت حال کے سبب اگرچہ ان علاقوں کے لوگوں کو جانی نقصان سے ددوچار نہ ہونا پڑا لیکن بڑے پیمانے پر مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑ اہے۔درجنوں رہائشی مکانات ،سینکڑوں دوکانات و دیگر املاک سمیت درجنوں موٹر گاڑیاں اور دوسرے ویکلز ڈَھہ اور بہہ کر پہاڑی ریلوں کے ملبے اور پتھروں کے نیچے دب کر تباہ و برباد ہوئے۔ جس کے باعث ان علاقوں کے باشندگان اپنے آشیانوں سمیت اپنے مال و اسباب سے محروم ہوکر لاچار اور بے بس ہوکر رہ گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ جب بھی کہیں آفتِ الٰہی آنی ہوتی ہے تو اُسے کوئی انسانی طاقت روک نہیں سکتی اور نہ ہی انسان کی کوئی ہُنر کام آتی ہے۔چنانچہ اپنی اس وادیٔ کشمیرکے اطراف و اکناف میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران ، خصوصاً موسم سرماکے قبل سے ہی اس طرح کے آفات ِالٰہی کے واقعات کا جو سلسلہ چلا آرہا ہے،اُس میں بھی لوگوں کو مالی اور جانی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔خطۂ چناب کےان علاقوںمیںپیش آئے اس تازہ قدرتی آفات کی وارادت میں اگرچہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہوا ،تاہم بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کامالی نقصان ہوا ہے۔جبکہ اہم رابطہ سڑکیں نیست و نابود ہوچکی ہیں اور ڈوڈہ ۔کشتواڑ قومی شاہراہ بھی لینڈ سائیڈنگ اور ملبے کے باعث بند ہوگئی ہے۔
جس کے نتیجے میںزیادہ تر متاثرہ لوگوں کی نظام ِزندگی بُری مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ہر باشعور اور ذی حِس انسان اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ جس کسی بھی فرد یا افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی ،مال و اسباب اور زندگی گذارنے کا آشیانہ جب چھِن جاتا ہے تو جینے کے لئےاُس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔ان موقعوں پربے شک حکومتی ادارے فوراًحرکت میں آجاتے ہیںاور متعلقہ ادارےحتی الامکان اپنی ذمہ داریاں نبھاتےہیںجبکہ بعض رضاکار تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔گویا ہرادارہ آفات زدہ متاثرین کو راحت پہنچانے کی حتی المکان کوشش کرتارہتا ہے ،مگر پھر کچھ دن گذر جانے کے بعد ہی معاملہ ٹھنڈا پڑجاتاہےاورآیا گیا ہوجاتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا اِسی طرح کے امداد سے متاثرین کی زندگی بحال ہوجاتی ہے؟جس پر سنجیدگی کے ساتھ غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
بے شک کسی بھی قدرتی آفت کے شکار لوگوں کی زندگی بحال کرنےکی اہم ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے،تاکہ متاثرین جسم و جان کا رشتہ برقرا ر رکھ سکیں اوراُن کی زندگی کی بحالی کے لئےایسا سب کچھ کرے،جس سے وہ اپنے معاشرے میںپہلے جیسے کی طرح زندگی کا گذر بسر کرسکیں،کیونکہ اسی مقصد کے تحت حکومت،حکومت کہلاتی ہے ۔اگرچہ جموں و کشمیر کے گورنر مسٹر سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےصورت حال کا نوٹس لیتے ہوئےمتاثرہ لوگوں کو ہر ممکن امداد پہنچانے،رابطہ سڑکوں اور خصوصاً ڈوڈہ۔کشتواڑ شاہراہ کو بحال کرانےکے ساتھ ساتھ صاف پانی ،بجلی مواصلات اور دوسرے ریلیف کاروائیوں میں تیزی لانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں، تاہم دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر ہنگامی سطح پر عملدرآمد ہورہا ہے یا نہیں۔ کیونکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ابھی بھی ان علاقوںمیں شدیدبارشیں ہونے، تیز ہوائیں چلنےیا لینڈ سلائیڈنگ ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ یوٹی حکومت اپنے اُن اداروں کو متحرک ہونے کے لئے سخت احکامات صادر کریں ،جو آفات سے متاثرہ لوگوں کی راحت اور بحالی کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔خصوصاًمحکمہ آفات ِ سماوی کے عملےاورپولیس محکمے کے جوانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ متاثرین کے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹیں متعلقہ محکمہ تک پہنچانے میں کوئی تاخیر نہ کریں، تاکہ بر وقت متاثرین کی ہر وہ سامان فراہم ہو پائے،جس کی اِس وقت اُنہیں اشد ضرورت ہے۔