عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کو مسلسل 19ویں دن بھی جاری رہا۔ ماحولیاتی و سماجی کارکن سونم وانگچک کا احتجاجی مظاہرے کی حمایت میں جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال 11ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ پر بضد ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا الزام ہے کہ طلبہ کے مستقبل سے متعلق مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ادھر احتجاج کے دوران مظاہرین کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کے الزامات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے اپنی شناخت ایک کسان کے طور پر ظاہر کی لیکن بعد میں وہ دہلی پولیس کا افسر نکلا۔ تنظیم نے اسے پرامن احتجاج پر نظر رکھنے اور مظاہرین کو دھمکانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے وضاحت طلب کی ہے۔جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مسلسل 19ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ان کے مطالبات پر مثبت اقدامات نہیں کرتی۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ تعلیم کے اہم مسائل پر حکومت کی پالیسیاں طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہیں اور ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ مظاہرین نے ملک بھر کے طلبہ، والدین اور شہریوں سے پرامن احتجاج کی حمایت میں سامنے آنے کی اپیل کی۔سماجی کارکن سونم وانگچک کاکروچ تحریک کی حمایت کے لیے گذشتہ 11 دنوں سے غیر معینہ مدت کی (انشن) بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق، انشن کے دوران ان کا سات کلو گرام زیادہ وزن کم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور وقتاً فوقتاً ان کے بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور دیگر ضروری ٹیسٹ کر رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت بدستور تشویشناک ہے تاہم اس کے باوجود انہوں نے اپنا انشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی طلبہ کے مستقبل کے لیے ہے اور حکومت کو اس تحریک کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔احتجاج کے مقام پر ایک نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب مظاہرین نے الزام لگایا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک شخص ان کی ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپک نے کہا کہ جب اس کی شناخت پوچھی گئی تو اس شخص نے خود کو ایک کسان بتایا جو احتجاج کی حمایت میں آیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ دہلی پولیس کا افسر تھا۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے۔ تاہم اس معاملے پر دہلی پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔