یو این آئی
نئی دہلی// زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کو کہا کہ جون میں 33 فیصد کم بارش کے بعد جولائی میں صورتحال میں سدھار آیا ہے اور اب یہ کمی گھٹ کر 24 فیصد رہ گئی ہے نیز حالیہ دنوں میں ملک کے کئی حصوں میں اچھی بارش ہوئی ہے، جس سے کم بارش والے اضلاع کی تعداد 262 سے گھٹ کر 178 رہ گئی ہے۔ چوہان نے کل یہاں اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش، راجستھان، کرناٹک، بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور اوڈیشہ جیسی ریاستوں میں خصوصی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ جولائی میں بارش اور رفتار پکڑے گی، جس سے خریف کی بوائی میں تیزی آئے گی۔وزیر زراعت نے بتایا کہ فی الحال 350.85 لاکھ ہیکٹر میں بوائی ہوئی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے تقریباً 91.95 لاکھ ہیکٹر کم ہے۔ مانسون میں تاخیر کا اثر سویا بین اور کپاس پر پڑا ہے، لیکن کسانوں کو مکہ، باجرہ اور مونگ جیسی کم مدت اور کم پانی والی فصلوں کی بوائی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس چیلنج کے لیے پہلے ہی اپریل سے تیاری شروع کر دی تھی۔ آئی سی اے آر کے تعاون سے متاثر ہونے کے امکان والے اضلاع کے لیے ہنگامی منصوبہ (ایمرجنسی پلان) تیار کر کے ریاستوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ جون کے مہینے میں چلائی گئی ”کھیت بچاؤ مہم“ کے تحت 1.24 لاکھ سے زیادہ پروگرام منعقد کیے گئے اور 80 لاکھ سے زیادہ کسانوں تک براہ راست پہنچ بنائی گئی۔ چوہان نے کہا کہ بیج کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 1.75 لاکھ کوئنٹل کا قومی بیج ذخیرہ تیار رکھا گیا ہے، تاکہ کسی بھی صورتحال میں بوائی متاثر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی کسان کریڈٹ کارڈ مہم کو تیز کرتے ہوئے 30 جون تک موصولہ 1.14 لاکھ درخواستوں میں سے 94 ہزار سے زیادہ کو منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم فصل بیمہ یوجنا کے تحت کسانوں کی شرکت بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ چوہان نے بتایا کہ ال نینو کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے نگرانی کا نظام پوری طرح سرگرم ہے۔ افسران مسلسل مانسون، بوائی، فصل اور بازار کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔