رفعت النساء قادری
جناب عبدالودود انصاری اردو دنیا کی ایک ہمہ جہت ادبی اور سائنسی شخصیت ہیں۔ وہ بہترین شاعر، خاکہ نگار، افسانہ نگار اور عالمی سطح پر معروف سائنسی قلم کار کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی انچاسویں (49ویں) کتاب ”آؤ جانوروں سے ملیں” قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام منظرِ عام پر آئی ہے۔ 135 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت190 روپےہےاور اس کے ناشرقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی ہے۔
یہ کتاب اپنے عنوان ہی کی طرح نہایت دلچسپ، معلومات افزا اور دل کش ہے۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں جانوروں کی منفرد خصوصیات اور ان سے متعلق عجیب و غریب حقائق اس انداز سے پیش کیے گئے ہیں کہ قاری ابتدا ہی سے کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ علمِ حیوانات کی متعدد کتابوں کے مطالعے کے باوجود ایسی بہت سی معلومات کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں جو مصنف نے اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کی ہیں۔ بلاشبہ انہوں نے ’’دریا کو کوزے میں بند‘‘کر دینے کا ہنر دکھایا ہے۔
کتاب بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید اور دلچسپ ہے۔ اس میں 32 جانوروں کے بارے میں نہایت آسان اور دل نشین اسلوب میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مصنف نے جانوروں کی خصوصیات کو محض تحریری انداز میں ہی نہیں بلکہ رنگین تصاویر کے ذریعے بھی بڑی خوب صورتی سے پیش کیا ہے، جس سے کتاب کی دل کشی اور افادیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
کتاب میں متعدد نئی اور حیرت انگیز معلومات شامل ہیں، مثلاً-ببون کے انسانوں کی طرح 32 دانت ہوتے ہیں۔بکری کے دودھ میں گائے کے دودھ کے مقابلے میں چربی کی مقدار کم ہوتی ہے۔کیپ بھینسا شیر جیسے طاقتور درندے کو بھی ہلاک کر سکتا ہے۔بھینس، بیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت رکھتی ہے۔گائے سیڑھی پر چڑھ تو سکتی ہے لیکن آسانی سے اتر نہیں سکتی۔ہرن ایک عمدہ تیراک ہے اور بلند چھلانگ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھیڑ بعض پودوں کے ذریعے اپنے علاج کی فطری صلاحیت رکھتی ہے۔گیدڑ کو عموماً بزدل جانور تصور کیا جاتا ہے۔مشک بلاؤ اپنی خوشبو کے باعث مشہور جانور ہے وغیرہ اس نوعیت کی بے شمار دلچسپ اور معلوماتی باتیں کتاب کی اہم خصوصیت ہیں۔اسکے علاوہ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر ایک جانور کی منفرد خصوصیات کے ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ اس جانور کا تعلق کس ملک سے ہے۔
مجموعی طور پر کتاب ”آؤجانوروں سے ملیں” ایک عمدہ، سبق آموز اور معلوماتی کتاب ہے، جو بچوں کو جانوروں کی حیرت انگیز دنیا سے متعارف کراتی ہے اور ان میں قدرتی ماحول، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ کا شعور بیدار کرتی ہے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کے توازن، آلودگی میں کمی اور عالمی حدت (Global Warming) جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے جانوروں اور فطری ماحول کی اہمیت سے آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ کتاب نہ صرف طلبہ اور اساتذہ بلکہ عام قارئین کے لیے بھی یکساں طور پر مفید ہے۔ اس معلوماتی اور دل چسپ تصنیف کی موجودگی ہر اسکول، کالج اور عوامی کتب خانے میں ہونی چاہیے۔ ایسی بہترین اور مفید کتاب مرتب کرنے پر جناب عبدالودود انصاری بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
[email protected]
�������������������