مصنف : ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
تبصرہ نگار : مقصوداحمدضیائی
ادبی دنیا کی مایہ ناز، مخلص اور منفرد شخصیت، محب گرامی ڈاکٹر مشتاق احمد وانی سے ماہ صیام کے اواخر میں ان کے دولت خانہ (جموں) پر ہونے والی ملاقات میرے لیے محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ علم و دانش کا ایک یادگار، سحر انگیز اور تاحیات نقش رہنے والا تجربہ رہی۔ جن کی خالص علمی و ادبی گفتگو جہاں دل کی گہرائیوں کو موہ لیتی ہے اور روح کو تازگی بخشتی ہے، وہاں قدرت کی طرف سے انہیں عطا کردہ انشاء کا پاکیزہ اور لطیف ذوق ان کی گفتگو اور تحریر کے وقار کو چار چاند لگا دیتا ہے اور اسی پرخلوص و پروقار ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی نئی مایہ ناز ادبی کاوش ’’جو کبھی دیکھا نہ تھا‘‘ بطور ہدیہ و شفقت عنایت فرمائی جس کے خوبصورت سرورق پر اپنے مبارک ہاتھوں سے موتیوں جیسی چمکتی، نفیس اور دلکش تحریر میں میرا نام رقم کرنا اور برائے مطالعہ ایک بصیرت افروز مضمون کی فرمائش کرنا میرے لیے دلی مسرت اور حد درجہ گراں قدر اعزاز کا باعث ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ راقم الحروف نے اپنی مصروفیات اور ذاتی رحجان کی وجہ سے باقاعدگی کے ساتھ کبھی ناولوں کا مطالعہ نہیں کیا ہے، لیکن وانی صاحب کی سحر انگیز علمی شخصیت، اُن کے بلند ادبی ذوق کے حد درجہ احترام اور اس کتاب کے اچھوتے پن کی کشش نے مجھے اس نادر دستاویز کو اول تا آخر گہری توجہ کے ساتھ پڑھنے پر مجبور کر دیا ،کیونکہ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے کتاب کے سرورق پر بالکل سچ اور بجا لکھا ہے کہ یہ نئے موضوع پر ایک ایسا ناول ہے جس میں آفاقیت بھی ہے۔ لطافت بھی، صداقت بھی ہے، نزاکت بھی، اور یہ جملہ محض ایک روایتی دعویٰ یا تعریفی کلمہ نہیں ہے بلکہ پوری کتاب کے فکری تانے بانے اور اس کی روح کا نچوڑ ہے جس کا کینوس روایتی، فرسودہ اور گھسے پٹے افسانوی موضوعات سے ہٹ کر ایک ایسے بالکل اچھوتے اور اچھلتے ہوئے موضوع کا احاطہ کرتا ہے جو ہر موڑ پر قاری کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے کائنات و انسانیت کے پوشیدہ فلسفے پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس ناول کی تہوں میں آفاقیت اس طرح سے رچی بسی دکھائی دیتی ہے کہ کہانی کے اندر چھپے ہوئے پیغامات اور فکری ابعاد کسی ایک مخصوص خطے، نسل، معاشرے یا دور کے لیے نہیں ہیں، بلکہ پوری نوعِ انسانی کے آفاقی مروجہ اصولوں کا احاطہ کرتے ہیں، اور مصنف نے انسانی جذبات کی کشمکش، رشتوں کے لمس، معاشرتی نشیب و فراز اور پیچیدہ نفسیاتی پہلوؤں کو اتنی باریکی، نزاکت اور فکری لطافت کے ساتھ کاغذ پر تراشا ہے کہ زبان و بیان کا ادبی حسن اور چاشنی کہیں بھی ماند نہیں پڑتی۔ جبکہ ناول کا ہر کردار اپنے اندر ایک جیتی جاگتی حقیقت سمیٹے ہوئے ہے اور کہانی کا ہر موڑ زندگی کی سچی تلخیوں، سماجی صداقتوں اور حقائق کا ایک شفاف آئینہ دار معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کا اسلوبِ نگارش حد درجہ جادوئی، شگفتہ اور رواں ہے، وہ عام ڈگر اور مروجہ تکنیک سے ہٹ کر الفاظ کو اس طرح سے ترتیب دیتے ہیں اور جملوں کو اس خوبصورتی سے بنتے ہیں کہ قاری بغیر کسی ذہنی تھکن کے کہانی کے فکری سحر اور اس کے بہاؤ میں گم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ایک غیر روایتی ناول قاری ہونے کے باوجود، اس کتاب کے سحر نے مجھے کہیں بھی اکتاہٹ یا بوریت کا معمولی سا احساس بھی ہونے نہیں دیا، جو کہ دراصل مصنف کی اپنے فن پر مکمل گرفت، مضبوط پلاٹ اور تخلیقی گہرائی کی ایک بین اور واضح دلیل ہے۔ لہٰذا یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ ’’جو کبھی دیکھا نہ تھا‘‘ محض ایک فرضی فکشن، کہانی یا تفریحی قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی زندگی اور کائنات کو ایک بالکل نئے زاویے اور گہری نظر سے دیکھنے کی ایک کامیاب، بصیرت افروز اور شاہکار کوشش ہے جس کے پرمغز مطالعے کے ذریعے فاضل مصنف نے اردو ادب کے دامن کو ایک قیمتی، لازوال اور نایاب موتی سے نوازا ہے اور یہ لازوال کتاب ہر اس قاری کے لیے ایک بہترین علمی تحفہ اور سرمایۂ حیات ہے جو سچے انسانی جذبات، گہرے فلسفے، اچھوتے خیالات اور پاکیزہ ادبی زبان کا رسیا ہے۔ اب کاتب السطور اس مقام پر پہنچا ہے کہ جہاں حاصل مطالعہ ذکر کیا جاسکتا ہے تو آئیے چلتے چلتے اس ناول کے چند اقتباسات بھی دیکھتے چلیں۔
پیارے طلبہ!
آج میری آنکھوں میں آنسو آرہے ہیں وہ اس لیے کہ آج آپ یہاں سے جا رہے ہیں، زندگی میں وہی لوگ کامیاب اور خوشحال ہوتے ہیں۔ جو اللّٰہ تعالٰی کے احکامات پر اس کے پیارے نبیؐ کے طریقوں کے مطابق عمل کرتے ہیں، ثناءاللّٰہ اور اس کے تمام ساتھیوں نے اس اسکول کے نظم وضبط اور اس کے وقار کو قائم رکھنے میں ہمارا ساتھ دیا ہے، میری نیک دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، اللّٰہ آپ کو زندگی کےہرمیدان میں کامیاب کرے۔ آپ سدا خوش رہیں،آخرپرمیں مجروح سلطان پوری کا یہ شعر سناکے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔کہ؎