بھارت کا سیشلز کے ساتھ باہمی تعلقات تاریخی روابط اور سیشلز کی سلامتی و ترقی کے لیے ہماری مسلسل حمایت سے عبارت ہیں۔آج بھارت اور سیشلز کے تعلقات گہری دوستی، باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کی بہترین مثال ہے۔
سال 1770 میں پانچ بھارتیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ، سات افریقی غلاموں اور 15 فرانسیسی نوآبادکاروں کے ساتھ باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کے طور پر سیشلز پہنچا اور ان لوگوں کو ہی ان جزائر کے پہلے باشندے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔برطانوی نوآبادیاتی دور میں سیشلز ایک عرصے تک بمبئی پریذیڈنسی کے زیرِ انتظام رہا اور اس دوران بھارت کے ساتھ باقاعدہ بحری جہازوں کی آمدورفت کے ذریعے سامانِ تجارت اور ضروری اشیائے صرف کی مسلسل فراہمی جاری رہی ۔ان تجارتی روابط نے بھارتی تاجروں کی ایک ایسی برادری کی سیشلز ہجرت کو فروغ دیا، جو مشرقی افریقہ میں تجارتی مواقع محدود ہو جانے کے بعد بہتر مواقع کی تلاش میں تھی۔
سیشلز کی آزادی کے بعد 1976 میں بھارت اور سیشلز کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے،جب سیشلز نے 29 جون 1976 کو آزادی حاصل کی، تو بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس نلگیری کے ایک دستے نے یومِ آزادی کی تقریبات میں حصہ لیا،بھارتی مشن 1979 میں وکٹوریہ میں قائم کیا گیا، جبکہ ہائی کمشنر دارالسلام میں واقع تھا اور بیک وقت سیشلز کے لیے بھی منظورِ نظر تھے۔پہلے مستقل ہائی کمشنر کا تقرر 1987 میں کیا گیا، جبکہ سیشلز نے نئی دہلی میں اپنا مستقل سفارتی مشن 2008 کے اوائل میں قائم کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا سیشلز کا سرکاری دورہ (10۔11 مارچ 2015) 34 برسوں میں بھارت کے کسی وزیر اعظم کا سیشلز کا پہلا کامیاب سرکاری دورہ تھا۔ جس کے دوران چار معاہدوں/مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط، ساحلی نگرانی ریڈار نظام (سی آر ایس) منصوبے کا افتتاح، سیشلز کو دوسرا ڈورنیئر طیارہ تحفے میں دینے کا اعلان، اور سیشلز کے شہریوں کے لیے بھارت کے سفر کی غرض سے 3 مہینے کا مفت ویزا فراہم کرنے کے اعلان سمیت اہم نتائج حاصل ہوئے۔
جمہوریۂ سیشلز کے نو منتخب صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمینی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی غرض سے بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھاکرشنن نے 26۔27 اکتوبر 2025 کو سیشلز کا دورہ کیا۔اس سے قبل آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی (1976 اور 1981)، صدر جمہوریہ ہند آر۔ وینکٹ رمن (1989)،نائب صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما (1991)،نائب صدر جمہوریہ ہند جناب بھیرون سنگھ شیخاوت (2003)اور صدر جمہوریہ ہند محترمہ پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل (2012).
وزارتی سطح کے دورے کئے تھےجبکہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے نومبر 2020 میں سیشلز کا دورہ کیا۔دیگر اعلیٰ سطحی دوروں میں وزیر خارجہ جناب ایس ایم کرشنا (جولائی 2010) اور وزیر دفاع جناب اے کے انتونی (جولائی 2010) کے دورے بھی شامل ہیں۔
وفد سطح کے دورے : لوک سبھا کی اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن کی قیادت میں 8 رکنی وفد نے سیشلز کی میزبانی میں 8۔13 جنوری 2018 سے منعقد ہونے والی کامن ویلتھ کانفرنس آف اسپیکرز اینڈ پریزائیڈنگ آفیسرز (سی ایس پی او سی) کے 24ویں اجلاس میں شرکت کی۔8. اپریل 2021 میں ایک ورچوئل تقریب کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صدر واویل رام کلاوان نے مشترکہ طور پر حکومتِ ہند کی عطیات کی مدد سے سیشلز میں تعمیر کردہ مختلف منصوبے کا افتتاح کیا،اپریل 2022 میں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر ہری کمار نے سیشلز کا دورہ کیا،ستمبر 2023 میں چیف الیکشن کمشنر نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے سیشلز کا دورہ کیا، جہاں سیشلز کے الیکٹورل کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
بھارت کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل جناب گریش چندر مرمو نے اکتوبر 2024 میں سیشلز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیشلز کے آڈیٹر جنرل کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے،دہرادون کے نیشنل ہائیڈرو گرافک آفس کے ایک وفد نے نومبر 2024 میں سیشلز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیشلز کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائیڈروگرافی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
سیشلز کی طرف سے ہونے والے دورے :
صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمینی نے 5۔10 فروری، 2026 میں بھارت کا سرکاری دورۂ کیا،ان کے ہمراہ فرسٹ لیڈی مسز ویرونیک ہرمینی اور کابینہ کے 7 وزراء بھی موجود تھے۔صدر ڈاکٹر ہرمینی نے اپنے دورے کے دوران چنئی، ممبئی اور نئی دہلی کا دورہ کیا، چنئی میں کئی اسپتالوں کا معائنہ کیا اور نیشنل سینٹر فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ گئے،انہوں نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فیکی) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کاروباری تقریب میں بھی شرکت کی ۔ ممبئی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کاروباری تقریب میں شرکت کی جبکہ نئی دہلی میں ان کی آمد پر انہیں باقاعدہ استقبالیہ پیش کیا گیا۔ 9 فروری کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے، جن میں باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔وزیرِ اعظم کی جانب سے سیشلز کی ترجیحات ،صحت، قابلِ تجدید توانائی، تعلیم، سماجی رہائش، ای۔موبیلیٹی اور بحری سلامتی—کی معاونت کے لیے 175 ملین امریکی ڈالر پر مشتمل ایک خصوصی اقتصادی پیکج (ایس ای پی) کا اعلان کیا گیا۔پائیداری، اقتصادی ترقی اور مضبوط روابط کے ذریعے سلامتی (ایس ای ایس ای ایل) کے لیے ایک مشترکہ وژن بیان بھی منظور کیا گیا،مزید برآں، صحت/فارما، سمندری سائنس، غذائی تحفظ، ثقافت، استعدادِ کار کی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی وغیرہ کے شعبوں میں 7 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کئے گئے۔ صدر ڈاکٹر ہرمینی نے اپنے اعزاز میں صدر جمہوریہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی۔
سیشلز کے نائب صدر عالی جناب مسٹر سیبسٹئن پلے نے (16۔22 فروری 2026) کو نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کیا، انہوں نے وزیر مملکت جناب جتن پرساد ، نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھاکرشنن سے بھی ملاقات کی اور این ڈی آر ایف، این بی سی سی، سی۔ڈیک، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اور گتی شکتی کی ٹیم سے بھی ملاقی ہوئے۔
وزیرِ خارجہ اور ڈائسپورا، عزت مآب مسٹر بیری فوئر نے نئی دہلی میں (مارچ 05۔07) میں منعقد ہونے والے رائزینا ڈائیلاگ کے 11ویںایڈیشن میں شرکت کی غرض سے بھارت کا دورہ کیا اور وزیرِ خارجہ امور ڈاکٹر ایس جئے شنکر سے ملاقات کی ۔انہوں نے ماریشس میں (اپریل 10۔12) میں منعقد ہونے والی9 ویں انڈین اوشین کانفرنس کے دوران بھی وزیرِ خارجہ امور سے ملاقات کی۔ سیشلز کے سابق نائب صدر عالی جناب مسٹر احمد عفیف نے 9 جون 2024 کو نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور بھارتی وزراء کونسل کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کیااور صدرِ جمہوریہ، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی۔
سیشلز کے سابق صدر فرانس البرٹ رینے نے 1980، 1986 اور 1990 میں بھارت کا دورہ کیا،اس کے بعد نائب صدر جیمز ایلکس مشیل نے 1994، 1996 اور 1999 میں بھارت کا دورہ کیا اور بعد ازاں صدر کی حیثیت سے جولائی 2005، جون 2010، فروری 2011، فروری 2012 اور اگست 2015 میں بھی بھارت کے دورے کئے۔ نائب صدر ونسنٹ میریٹن نے 11۔14 فروری 2017 کو چنئی کا دورہ کیا، اورایم آئی او ٹی اسپتال کے ایک نئے ونگ کا افتتاح کیا۔ سیشلز کی حکومت (جی او ایس) اپنے مریضوں کو علاج کے لیے اسی اسپتال بھیجتی ہے۔
سیشلز کی قومی اسمبلی کا 12 رُکنی وفد اسپیکر پیٹرک پلے کی قیادت میں 9۔13 اگست 2017 میں بھارت کے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی اور ہمارے صدر جمہوریہ، وزیرِ اعظم اور نائب صدر جمہوریہ سے بھی ملاقات کی۔قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے، صدر واویل رام کلاوان نے 2018 کے جنوری میں اوورسیز انڈین اوریجن (پی آئی او) پارلیمنٹیرینز کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کیا۔ سیشلز کے اُس وقت کے صدر ڈینی فاؤرے نے 2018 میں دو دفعہ بھارت کا دورہ کیا۔ 2023 کے فروری میں سیشلز کے سابق وزیر برائے ماہی گیری اور بلیو اکانومی جین فرانسوا فیراری انڈیا انرجی ویک 2023 میں شرکت کی غرض سے بنگلورو کا دورہ کیا،.2023 کے اکتوبر میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کی اسمبلی کے 6ویں اجلاس میں شرکت کنے کے لئے سیشلز کے سابق وزیر برائے زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات فلاویئن ژوبر نے نئی دہلی کا دورہ کیا. اس دورے کے دوران انہوں نے بجلی اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کے وزیر جناب آر کے سنگھ سے بھی ملاقات کی۔
سابق وزیر جوبرٹ نے بالترتیب جنوری 2023، نومبر 2023 اور اگست 2024 میں منعقد ہونے والے وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ (وی او جی ایس ایس) کے تینوں ورچوئل اجلاس میں بالترتیب شرکت کی ۔ 2023 کے نومبر میں جمہوریہ سیشلز کے سابق وزیر برائے خارجہ امور و سیاحت مسٹر سلویسٹر راڈیگونڈے نے دوطرفہ مذاکرات کی غرض سے بھارت کا دورہ کیا۔ وزیرِ خارجہ اور سیشلز کے وزیرِ خارجہ کے درمیان جامع مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں دو مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔
سیشلز کے اٹارنی جنرل مسٹر فرینک ایلی نے 27۔28 نومبر 2023 کو منعقد ہونے والی قانونی امداد تک رسائی سے متعلق پہلی علاقائی کانفرنس میں شرکت کی، جبکہ 2۔4 فروری 2024 کو نئی دہلی میں منعقدہ کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (سی ایل ای اے) اٹارنیز اینڈ سالیسٹرز جنرلز کانفرنس 2024 (CASGC’24) میں بھی شریک ہوئے۔ بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر کی دعوت پر سیشلز کے وزیر برائے داخلی امور مسٹر ایرول فونسیکا نے بالترتیب مئی 2023 میں ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں منعقدہ ہندوستانی بحرِ ہند کانفرنس کے 6ویں اجلاس اور فروری 2024 میں پرتھ، آسٹریلیا میں منعقدہ اسی کانفرنس کے 7ویں ایڈیشن میں شرکت کی۔ 2025 کے فروری میں سیشلز کے وزیر برائے اراضی و رہائش بلی رنگاسامی نے پریاگ راج میں منعقدہ کمبھ گلوبل سمٹ برائے پائیدار ترقی اور استحکام میں سیشلز کی نمائندگی کی۔
17۔19 دسمبر 2025 کو نئی دہلی میں منعقدہ روایتی ادویات پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے دوسرے عالمی سربراہی اجلاس میں سیشلز کے وزیرِ صحت ڈاکٹر مارون فینی نے شرکت کی۔
باہمی معاہدے/مفاہمتی یاد داشتیں :
دونوں ممالک کے درمیان کئی باہمی معاہدے/ایم او یوز پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ابتدائی اہم ایم او یوز/معاہدوں میں درج ذیل شامل ہیں۔ ایئر سروسز معاہدہ (1981)، سیاحت سے متعلق معاہدہ (1996)، تجارتی معاہدہ (2000)، جوائنٹ بزنس کونسل (2000)، صحت کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت (2003)، دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون کے لیے ایم او یو (2003)، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے ایم او یو (2003)، ثقافتی تبادلہ پروگرام (2003-05)، باہمی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کا معاہدہ (بی آئی پی پی اے) (جون 2010)، سیشلز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام کے لیے ایم او یو (فروری 2010) اور پولیس ریسرچ و ٹریننگ سے متعلق ایم او یو (اپریل-مئی 2012)۔2026 کے فروری میں صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمنی کے سرکاری دورۂ ہند کے دوران، صحت و ادویات، بحری سائنس، غذائی تحفظ، ثقافت، صلاحیت سازی، ڈیجیٹل تبدیلی اور دیگر شعبوں میں 7 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے سیشلز کے سرکاری دورے کے دوران مارچ 2015 میں 4 مفاہمتی یادداشت/معاہدات پر دستخط کیے گئے، جن میں شامل تھے۔ قابلِ تجدید توانائی میں تعاون، ہائیڈروگرافی کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت؛ نیویگیشنل چارٹس/الیکٹرانک نیویگیشنل چارٹس کی فروخت سے متعلق پروٹوکول؛ اور جزیرہ اسَمپشن پر سہولیات کی ترقی کے لیے معاہدہ۔
سابق صدر جیمز مشیل کے اگست 2015 میں ملک کے دورے کے دوران درج ذیل مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ دوطرفہ ایئر سروسز معاہدہ، ایک دوسرا ڈورنئیر میری ٹائم طیارہ بطور تحفہ دینے سے متعلق مفاہمتی یادداشت، ٹیکس معلومات کے تبادلے کا معاہدہ (ٹی آئی ای اے)، آئی سی اے آر اور سیشلز ایگریکلچر ایجنسی کے درمیان زرعی تحقیق اور تعلیم میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت اور بلیو اکانومی کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک سے متعلق پروٹوکول۔
جون 2018 میں اس وقت کے صدر ڈینی فوئر کے پہلے (1) سرکاری دورۂ ہند کے دوران درج ذیل 6 معاہدے/ایم او یوز پر دستخط کیےگئے۔ وائیٹ شپنگ ڈیٹا معاہدہ، سائبر سکیورٹی سے متعلق ایم او یو (2018)، چھوٹے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایم او یو، انڈیا کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ اور سیشلز کی وزارتِ خارجہ کے درمیان ایم او یو، ثقافتی تبادلہ پروگرام (2018-2022)اور کارپوریشن آف دی سٹی آف پنجی (میونسپل کارپوریشن) اور سیشلز کے شہر وکٹوریا کے مابین انتظامی شراکت داری معاہدہ۔مئی 2022 میں دونوں ممالک نے کوڈ۔19 ویکسینیشن سرٹیفکیٹس کے باہمی اعتراف کے لیے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے۔ ستمبر 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان انتخابی انتظام و انصرام کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے،نومبر 2023 میں وزیرِ خارجہ رادیگونڈے کے بھارت کے دورے کے دوران نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور مقامی اداروں، تعلیمی و پیشہ ورانہ اداروں کے ذریعے چھوٹے ترقیاتی منصوبوں (مرحلہ II کے نفاذ کے لیے بھارتی گرانٹ امداد سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے سیشلز کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پبلک سیکٹر آڈٹ کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
تجارت اور سرمایہ کاری :
سیشلز کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور کاروبار نسبتاً محدود ہے، جس کی بڑی وجہ بھارت اور سیشلز کے درمیان براہِ راست بحری ترسیلی لائن کا نہ ہونا ہے۔ اس وقت سیشلز کی جانب سے بھارت سے درآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں چاول، مختلف اقسام کی خوراک، سیمنٹ، لینن، کپاس، گاڑیاں اور متعلقہ ٹرانسپورٹ آلات، ادویات، اور طبی، جراحی و دندان سازی کے آلات و سازو سامان شامل ہیں۔ بھارت نے 2023-24 کے دوران سیشلز کو 76.19 ملین امریکی ڈالر کی مالیت کی اشیاء برآمد کیں اور سیشلز سے 8.69 ملین امریکی ڈالر مالیت کی اشیاء درآمد کیں، جس کے نتیجے میں( 2022-23 کے مقابلے میں مجموعی تجارت میں 14.96% ) اضافہ ہوا۔ 2024-25 میں اپریل 2024 سے فروری 2025 کے عرصے کے دوران دو طرفہ تجارت مستحکم رہی اور مجموعی تجارت 72.92 ملین امریکی ڈالر رہی، جس میں (بھارت سے برآمدات 68.64 ملین امریکی ڈالر اور سیشلز سے درآمدات 4.28 ملین امریکی ڈالر تھیں)۔
سیشلز میں کئی بھارتی کمپنیاں موجود ہیں۔بینک آف بڑودہ نے وکٹوریا میں اپنے بیرونِ ملک برانچ کو 1978 سے کامیابی کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہے۔نجی شعبے میں، بھارٹی ایئرٹیل ٹیلی کام گروپ نے سیشلز میں ایئرٹیل موبائل ٹیلی فون اور انٹرنیٹ خدمات کے قیام کے لیے 25 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے جو 1998 سے جاری ہے. ٹاٹا نے سیشلز کے لیے ماہے اور پراسلن میں چلنے والی بسوں کے بیڑے کا بڑا حصہ فراہم کیا ہے، جبکہ اشوک لیلینڈ ایک نیا شریکِ کار ہے۔ ستمبر 2014 میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کے تحت، ایئر سیشلز نے ماہے اور ممبئی کے درمیان 2 دسمبر 2014 کو براہِ راست ہفتہ وار تین پروازیں شروع کیں،فی الحال ممبئی اور ماہے کے درمیان ہفتہ وار پرواز چل رہی ہے۔ ٹیکس معلومات کے تبادلے کے معاہدے (ٹی آئی ای اے) پر اگست 2015 میں صدر کے بھارت کے دورے کے دوران دستخط کیے گئے۔
توانائی اور ماحولیات :
اگست 2015 میں بھارت اور سیشلز کے درمیان بلیو اکانومی سے متعلق ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے. دونوں ممالک بین الاقوامی فورمز پر ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق امور میں ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں. ستمبر 2017 میں بین الاقوامی سولر الائنس (آئی ایس اے) کے فریم ورک معاہدے کی توثیق کے ساتھ، سیشلز باضابطہ طور پر آئی ایس اے کے بانی اراکین میں شامل ہو گیا۔ سیشلز کے وزیرِاعظم کے مارچ 2015 کے دورۂ بھارت کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے تعاون سے متعلق دوطرفہ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کے تسلسل میں، سیشلز کے 3 رکنی وفد نے باہمی تعاون کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کی غرض سے فروری 2016 میں نئی دہلی میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔ نومبر 2022 میں COP27 کے موقع پر سیشلز نے انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت پراسلن آئی لینڈ پر 5 میٹرک ٹن صلاحیت کی سولر پاورڈ کولڈ اسٹوریج سہولت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیااور اکتوبر 2024 میں اسے باضابطہ طور پر فعال کیا گیا۔ سیشلز میں بھارتی تارکینِ وطن کی نمایاں موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط بنیادی طور پر کمیونٹی کی سطح پر قائم رہے ہیں، جنہیں دونوں حکومتوں کی معاونت حاصل رہی ہے۔ جون 2022 میں سیشلز کے مشہور پیس پارک، وکٹوریا میں مہاتما گاندھی کا مجسمہ نصب کیا گیا، جہاں یہ مجسمہ نیلسن منڈیلا، جنوبی افریقہ کے پہلے صدر، اور سر جیمز منچم، سیشلز کے بانی صدر جیسے رہنماؤں کے مجسموں کے درمیان بلند و بالا موجود ہے۔ سیشلز کے ساتھ بھارت کا ایک اہم تاریخی رشتہ بھی ہے اور پہلی بار پانچ بھارتی افراد کا ایک چھوٹا گروہ سیشلز میں 1770 میں پہنچا تھا، بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک تک بھارتیوں کی ایک مسلسل آمد جاری رہی، جن میں زیادہ تر تمل ناڈو/پڈوچیری سے اور بعد میں گجرات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، جو تاجروں، مزدوروں، تعمیراتی کارکنوں اور حالیہ دور میں پیشہ ور افراد کی حیثیت سے سیشلز آئے۔ سیشلز کی شہریت رکھنے والے بھارتی نژاد افراد (پی آئی اوز) کی تعداد کی تقریباً 6000 ہے، جو لگ بھگ 120,000 کی کل آبادی والے ملک میں ایک نمایاں تعداد ہے،ان میں سے اکثریت کا تعلق گجراتی اور تمل برادریوں سے ہے۔ اس کے علاوہ، 9,000 سے زائد غیر مقیم بھارتی (این آر آئی) بھی گینفل ایمپلائمنٹ پرمٹ کے تحت سیشلز میں کام کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر تعمیراتی شعبے کے کارکن، دکانوں کے معاون عملہ اور چند پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ سیشلز کی سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی کروناکرن کو 2015میں باوقار پرواسی بھارتیہ سمان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سیشلز کے نوجوان وفود ہر سال نئی دہلی میں منعقد ہونے والے باوقار نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) یوتھ ایکسچینج پروگرام میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ سیشلزی وفود بھی ہر سال ہریانہ کے فرید آباد میں منعقد ہونے والے سورج کنڈ بین الاقوامی دستکاری میلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 78ویں یومِ آزادیٔ ہند کے موقع پر مسلسل دو ہفتے سیشلز۔انڈیا ڈے نہایت جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس موقع پر مردوں اور خواتین کے دوستانہ کرکٹ میچ، قومی شطرنج ٹورنامنٹ، اور آئی سی سی آر کے دورہ کرنے والے ثقافتی گروپ کی وکٹوریا کے آئی سی سی ایس نیشنل آڈیٹوریم اور نیشنل ہسٹری میوزیم میں شاندار ثقافتی پرفارمنس سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ بھارت کے 76ویں یومِ جمہوریہ کےموقع پر بھارتی ثقافتی تعلقات کونسل (آئی سی سی آر) کے تعاون سے 9 رکنی بھارتی لوک رقص “بھانگڑا” کا ایک ثقافتی گروپ 25۔27 جنوری 2025 تک سیشلز کے دورے پر رہا. تقریبات کے سلسلے میں ’’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ (او ڈی او پی)‘‘کو فروغ دینے کے لیے بھارتی روایتی ملبوسات کی ایک نمائش کا اہتمام سیشلز کے نیشنل ہسٹری میوزیم میں 27 سے 31 جنوری 2025 تک کیا گیا. نمائش کے دوران اسی مقام پر ’’انڈیا کارنر‘‘بھی قائم کیا گیا۔
دفاع اور سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون :
بھارت اور سیشلز کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کا ایک جامع اور مضبوط نظام موجود ہے، جو اسٹریٹجک بحرِ ہند کے خطے میں قزاقی کے بڑھتے ہوئے خطرے اور دیگر معاشی جرائم کے پیشِ نظر برسوں کے دوران مزید مستحکم ہوا ہے۔
بھارت نے بالترتیب 2005اور 2014میں گشتی کشتیاں پی ایس ٹوپاز اور پی ایس کانسٹینٹ سیشلز کو بطور تحفہ فراہم کیں. انڈین کوسٹ گارڈ کی فاسٹ انٹرسیپٹر بوٹ سی۔405 (جس کا نیا نام پی بی ہرمس رکھا گیا) 2016 میں سیشلز کو بطور تحفہ دی گئی، جبکہ اس کے متبادل جہاز پی بی ہرمس کو بھی بطور تحفہ فراہم کیا گیا اور 25 فروری 2025 کو سیشلز کے صدر اور نائب صدر کی موجودگی میں باضابطہ طور پر خدمت کے لیے کمیشن کیا گیا۔ اب تک بھارت اور سیشلز کے درمیان دو سالہ مشترکہ فوجی مشق ’’لامیتیے‘‘کے 11ایڈیشن منعقد ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین مشق 09-20 مارچ 2026 کو وکٹوریا میں منعقد ہوئی۔ 11 واں ایڈیشن اس مشترکہ فوجی مشق کا پہلا تینوں مسلح افواج پر مشتمل ایڈیشن تھا. بھارت نے اپریل 2021 میں فاسٹ پٹرول ویسل ایس سی جی پی ایس زوروسٹر سیشلز کوسٹ گارڈ کے حوالے کیا۔ 29 جون 2025 کو منعقد ہونے والی 49ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کی غرض سے آئی این ایس تیگ نے 26 سے 30 جون 2025 تک سیشلز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بھارتی فوج کی ٹیم ’’ڈیئر ڈیولس‘‘ نے بھی شرکت کی اور اپنے حیرت انگیز اور کششِ ثقل کو چیلنج کرنے والے کرتبوں سے عوام کو محظوظ کیا۔ اس سے قبل 2024 میں آئی این ایس سُنینا نے بھی 26 سے 30 جون تک سیشلز کا دورہ کیا اور 48ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کی، جس کے دوران اس کے جہاز کے مارچنگ دستے اور بینڈ نے بھی پریڈ میں حصہ لیا، مزید برآں، آئی این ایس سُنینا نے جولائی 2023 میں’’آپریشن سدرن ریڈینس‘‘کے تحت کومبائنڈ میری ٹائم فورسز میں بھی حصہ لیا، آئی این ایس شردھا نے نومبر 2023 میں آئی او این ایس میری ٹائم ایکسرسائز آئیمیکس۔23 میں شرکت کی، جبکہ آئی این ایس تیر فرسٹ ٹریننگ اسکواڈ نے فروری تا مارچ 2024 کے دوران ایکسرسائزکٹلیس ایکسپریس میں شرکت کے ساتھ ساتھ سیشلز کوسٹ گارڈ کے لیے ڈورنیئر انجنز اور اسپیئرز کی حوالگی بھی انجام دی۔
سیشلز ڈیفنس فورسز کے بحری جہاز پی ایس زورسٹر نے فروری 2026 میں وشاکھاپٹنم میں منعقدہ مشق ملان اور بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی ،مشق کے اختتام کے بعد پی ایس زورسٹر کی جی آر ایس ای، کولکاتہ میں بلا معاوضہ مرمت اور تزئینِ نو کی گئی، جس کے بعد آئی این ایس ترکش نے 12 جون 2026 کو پی ایس زورسٹر کو بحفاظت سیشلز واپس پہنچانے کے لیے اس کے ہمراہ گئے۔یہ اقدام بھارت اور سیشلز کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ 14 مارچ 2024 کو وکٹوریا میں بھارت۔سیشلز سیمینار برائے بھارتی دفاعی سازوسامان کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارت کی 9 دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں نے شرکت کی اور سیشلز ڈیفنس فورسز کی دلچسپی کے مختلف دفاعی آلات اور سازوسامان کی نمائش کی۔
ترقی اور باہمی تعاون :
باہمی تعاون کا ایک اہم پہلو آئی ٹی ای سی، آئی سی سی آر اور بھارت۔افریقہ فورم سمٹ (آئی اے ایف ایس) کے تحت سیشلز کو فراہم کیے جانے والے مختلف ترقیاتی معاونتی پروگراموں پر مشتمل ہے۔مقامی آبادی کے 1% سے زائد افراد آئی ٹی ای سی پروگرام کے سابق تربیت یافتگان میں شامل ہیں، جنہوں نے اس پروگرام کے تحت مختلف تربیتی کورسز سے استفادہ کیا ہے۔. فروری 2026 میں صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمینی کے سرکاری دورۂ بھارت کے دوران، وزیرِاعظم نریندر مودی نے سیشلز کی ترقیاتی ترجیحات کی معاونت کے لیے175 ملین امریکی ڈالر کے خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا۔ بھارت کی حکومتِ ہند کی معاونت سے وکٹوریہ میں قائم کردہ آئی ٹی سینٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح اپریل 2011 میں مونٹ فلوری، ماہے میں کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے سیشلز کو لائن آف کریڈٹ (ایل او سی) کی فراہمی 1980 کی دہائی کے اوائل سے جاری ہے۔ 2012 کے صدارتی دورے کے دوران امریکی ڈالر 50 ملین کی لائن آف کریڈٹ اور امریکی ڈالر 25 ملین کی گرانٹ کا اعلان کیا گیا۔ اس گرانٹ کے عملی نفاذ کے بعد 28 نومبر 2017 کو سیشلز پیپلز ڈیفنس فورسز (ایس پی ڈی ایف) کو 10 ہلکی گاڑیاں، جن میں 4 ٹاٹا سفاری اسٹورم اور 6 ٹاٹا زیسٹ شامل تھیں، جن کی مالیت 183,000 امریکی ڈالر تھی۔ جون 2018 میں سیشلز پولیس کے نارکوٹکس ونگ کے لیے مزید 10 ٹاٹا گاڑیاں ، جن کی مالیت 250,000 امریکی ڈالر تھیں، فراہم کی گئیں۔ اسی طرح سیشلز پبلک ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس پی ٹی سی) کے لیے 3.5 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے 71 بسیں اور 6 ہلکی گاڑیاں حاصل کی گئیں جبکہ 10 ایمبولینسیں 385,000 امریکی ڈالر کی مالیت سے خریدی گئیں۔ سیشلز کے مختلف جزائر میں سی آر ایس اسٹیشن کی بحالی کے منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 4,704,135 امریکی ڈالر مختص کیے گئے۔ اپریل 2021 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صدر واویل رام کلاوان نے ایک مشترکہ ای۔افتتاحی تقریب کے دوران سیشلز میں حکومتِ ہند کی عطیاتی امداد سے تعمیر کردہ متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سیشلز کو 10 ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈولپمنٹ پروجیکٹس (HICDPs) اور سولر پی وی سسٹمز کا منصوبہ حوالے کیا گیا، جو مجموعی طور پر 3.5 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ کے تحت مکمل کیے گئے تھے۔ سیشلز میں مرحلہ۔I کے تحت مجموعی طور پر 28ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈولپمنٹ پروجیکٹس (HICDPs) شروع کیے گئے ہیں۔ان منصوبوں کے فیز۔II کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر وزیرِ خارجہ راڈیگونڈ کے بھارت کے دورے کے دوران دستخط کیے گئے، اور یہ منصوبے اس وقت شناخت اور آغاز کے مرحلے میں ہیں۔ سیشلز اُن اولین ممالک میں شامل تھا جسے بھارت کے ویکسین میتری اقدام کے تحت کووڈ۔19 کے ٹیکے موصول ہوئے تھے،جنوری 2021میں بھارت نے سیشلز کو کوی شیلڈ ویکسین کی 50,000 خوراک کی ایک کھیپ روانہ کی تھی ۔بھارت سیشلز کے لیے خصوصی اور معیاری طبی علاج (میڈیکل کیئر) کا ایک پسندیدہ مقام بھی رہا ہے۔
ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جولائی 2024 میں بھارت سے 200 ٹن نان باسمتی چاول سیشلز روانہ کیا گیا۔ یہ فراہمی ستمبر 2024 میں سیشلز کو چاول برآمد کرنے کے لیے دی گئی خصوصی رعایت کے تحت کی گئی۔ملک کے صحت نظام اور خدمات کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچانے کی غرض سے 20 نومبر 2025 کو بھارت نے سیشلز کو 3.5 ٹن ضروری ادویات اور طبی سامان عطیے میں دیں۔ (بشکریہ وزارتِ خارجہ حکومت ہند)