شبیر حسین شبیر
زبن سکاٹ لینڈ اور نیوزی لینڈ کی چراگاہوں کی مانند ایک خوبصورت پہاڑی چراگاہ ہے جہاں گھاس کی کئی اقسام کے ساتھ ساتھ سولے ( Plectranthus rugosus) وافر مقدار میں موجود ہے ۔ سولے بغیر کانٹوں کے ایک ایسا جھاڑی نما طبعی اہمیت کا حامل پودا ہے جس کی کئی طبعی خصوصیات ہیں ۔سائنسی ماہرین کے مطابق اس پودے کی پتیوں میں فطری طور مویشیوں میں خصوصاً بھیڑوں میں پاے جانی والی جگر کی بیماری (لیور فلوک) کا فطری علاج موجود ہے یعنی جب بھیڑ بکریاں یا دیگر مویشی سولے کی پتیاں کھاتے ہیں تو ان کا جگر لیور فلوک جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ سولے کے نازک اور باریک باریک پھولوں کا رس چوس کر شہد کی مکھیاں دنیا کا بہترین شہد بناتی ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں نیابت ٹھٹھاڑ اور اس کے گردونواح میں شہد کی مکھیوں کو پالنے اور ان سے شہد حاصل کرنے کا کاروبار بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے جو یہاں کی معیشت کو استحکام بخشتا ہے ۔
سکاٹ لینڈ (انگلینڈ ) اور نیوزی لینڈ میں بھی بھیڑ پالن کی صعنت عروج پر ہے اور زبن میں بھی بھیڑوں کی افزایش نسل کا ایک بہت ہی پرانا اور اہم ادارہ موجود ہے۔ لیڈس یونیورسٹی ( انگلینڈ) کے شعبہ شیپ ہسبڈری کے ایک ماہر ، پروفیسر الفارڈ باکر اپنے ایک تحقیقی دورے کے دوران 1928 میں جموں و کشمیر آئے۔ بہترین کشمیر میرینو نسل کی بھیڑوں کی افزائشِ نسل کے لئے پروفیسر الفارڈ باکر نے دیگر ماہرین کے ساتھ 55 دن پورے جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور چھپن وے دن یہ پوری ٹیم بانہال علاقہ کے شمال مغرب میں واقع ایک نہایت ہی صحت افزاء مقام زبن ہل سیٹشن پہنچی۔ زبن ہل سیٹشن کا بیس کیمپ زبن ، خیرکوٹ گاؤں سے صرف دو کلو میٹر کی دوری پر اور نئے فور لین ( بانہال – قاضی گنڈ) ٹنل سے صرف 4 کلو میٹر دور ہے ۔یہاں نباتات کی انواع اقسام ، سولے کی بہتات اور بچھلری ندیا کی صورت میں پانی کے ذخائر دیکھ کر ہی پروفیسر الفارڈ باکر اور ان کی پوری ٹیم نے اس جگہ کو کشمیر میرینو کی افزائشِ نسل کے لئے منتخب کیا ہو گا ۔
1932میں زبن میں کشمیر شیپ بریڈنگ و ریسرچ سینٹر نے اپنے کام کا باضابطہ آغاز کیا ، یوں زبن بانہال میں جموں و کشمیر کا پہلا ایسا ادارہ وجود میں آیا جہاں بھیڑوں کی افزائشِ نسل اور ماہرین بھیڑ پالن کو تربیتی کورس کراے جاتے تھے جو جاری و ساری ہے۔ سردیوں کے 6 ماہ کے لئے یہ سینٹر ریاسی منتقل ہو جاتا ہے۔پہلے پہل نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے نر بھیڑوں کو یہاں لایا گیا اور باہر سے لاے گئے نر بھیڑوں اور یہاں کی مادہ بھٹروں سے بھیڑوں کی نئی نسل پیدا کرائی گئی جو کشمیر میرینو کہلایا۔ کشمیر میرینو سے کافی حد تک جموں و کشمیر میں اون اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوا ۔
1949 عیسوی کے بعد روس سے نر بھیڑوں کی نئی نسل افزایش نسل کے لئے متعارف کرائی گئی۔ 1993 تک یہ ریسرچ سینٹر دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہا ریاست کے نامور ماہرین نے اس سرکاری ادارے میں کام کیا اور اس سرکاری ادارے کی ترقی کا حصہ بنے جن میں ڈاکٹر غلام احمد بانڈے، ڈاکٹر کےسی سنگھ وغیرہ شامل ہیں۔ 1993 میں اس سرکاری ادارے کی لکڑی سے بنی تمام عمارات آگ کی بھیانک واردات میں جل کر راکھ ہو گئیں ۔2021 کے بعد اب چند عمارتیں تعمیر کرائیں جا رہی ہیں اور 1993سے پہلے کی شان رفتہ بحال ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔
زبن کے جنگلوں میں جہاں انواع اقسام کے جنگلی پھول ہیں ،وہیں یہاں سینکڑوں قسم کی جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں جن میں (۱)ونہ وانگن ( podophyllum hexandrum)،(۲) کرایس( Dioscorea deltoidea)، (۳) کچھ( Morchella esculanta)،(۴) دپہ ( Jurinea longifolia)،(۵) کوٹھ ( Saussurea costus) ،(۶) کلہ ویٹھ ( Prunella vulgaris) ،(۷) ہند ( Taraxacum officinate)، (۸)کاہ زبان ( Arnebia benthathamii) ،(۹) سولے ( Plectranthus rugosus) ،(۱۰) پمہ ژالن ( Rheum emodi)،(۱۱) سپہ ژوڑ ( Rouwalfia serpentina )،(۱۲) مشکہ بالا ( Valeriana jatamansii)،(۱۳) ہوبل /اوبج ( Rumex napalansis) ،(۱۴) سوژل ( Malva sylvstres) ،(۱۵) ہیڈر ( Algaricus compestris) ،(۱۶) ٹیٹھ ون ( Artemisia obsinthium) ،(۱۷) بنفشہ ( viola oforata) ۔ان کے علاوہ اَن گنت جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔ جنگلی جانوروں میں ریچھ ، تیندوے ہرن ، مارخور ، گیدڑ کے علاوہ بہت سارے جانور موجود ہیں ۔پرندوں میں بھی یہاں انواع اقسام کے پرندے پاے جاتے ہیں جن میں چکور (ککو) اور جنگلی مرغ ( ونہ کوکر) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ جنگلی مرغ (ونہ کوکر) اب ہمارے جموں و کشمیر کا ریاستی پرندہ قرار پایا ہے ۔
زبن ہل سیٹشن دریاے چناب کی معاون ندیا ، نالہ بچھلری کا منبع ہے ، زبن ہل سیٹشن کے پہاڑ پر بھاری برف باری کی صورت میں یہاں دو بڑے گلیشر بنتے ہیں جو جون کے وسط یا جولائی کے وسط تک موجود رہتے ہیں نیز ان پہاڑوں پر سینکڑوں چشمے ہیں جو بچھلری ندیا کو سالا سال پانی فراہم کرتے ہیں۔ بچھلری ندیا کا بہتا ہوا پانی چھوٹے چھوٹے جھرنوں کی صورت میں مارچ ، اپریل اور مئی ماہ کے وسط تک ایک خوشگوار آواز پیدا کرتا ہے اور پانی کے اس بہنے کی آواز رات کو ندیا کے دونوں کناروں پر آباد آس پاس کے گاؤں دیہات میں لوگوں کے کانوں میں موسیقی کی طرح رس گھولتی ہے جو نیند کی سرگوشیوں میں بے حد لطف دیتی ہے۔ بانہال کے دھان کے کھیت اسی بچھلری ندیا سے سیراب ہوتے ہیں اور اسی ندیا کا پانی لوگوں کے گھروں تک پینے کے لئے نلوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔
فروری کے مہینے میں یہاں برف باری کے بعد موسم خوشگوار ہوتے ہی دھوپ میں چکور (ککو) اور جنگلی مرغ ( ونہ کوکر) دکھائی دیتے ہیں اور اس سے یہاں کی فضا رنگین ہو جاتی ہے ، خوشنما پرندوں خاص کر چکوروں ( ککووں) اور جنگلی مرغوں( ون کوکر) سے یہاں کی فضاؤں میں دلکشی پیدا ہوتی ہے اور فطرت سے محبت کرنے والے برف پر چلتے ہوے اور اڑتے ہوے چکوروں (ککووں) اور جنگلی مرغوں ( ونہ کوکر) کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں ۔زبن ہل سٹیشن جواہر ٹنل ککو ریزرو کا حصہ ہے۔ جواہرٹنل ککؤ (چکور) ریزرو 1947سے پہلے ہی ککؤ (چکور) ریزرو کے طور جموں و کشمیر کے وائلڈ لائف نقشے پر آچکا تھا ۔1947 کے کم و بیش 34 برس بعد حکومت کے ایک اہم حکمنامے کے تحت 1981کو جواہر ٹنل ککؤ (چکور) رزیرو کو پھر سے وائلڈ لائف ککؤ (چکور) ریزرو قرار دیا گیا ۔
جواہر ٹنل ککؤ (چکور) ریزرو کا حدود اربعہ :۔ موجودہ ضلع کولگام کی کنڈ نیابت کے انتہائی جنوبی حصّے سے شروع ہو کر پرون ٹنل (پرانا ٹنل) ‘ لاشن ‘ غازی ناڑ ‘ بوربین ‘ ٹانجہ واڑ دناڑ ‘ نوگام ‘ خیرکوٹ اور پورے زبن ہل سٹیشن تک اور نئے فور لین ٹنل کے اوپر موجودہ جموں سرینگر قومی شاہراہ سے ہوتے ہوے گنڈ گاوں کے شمالی سرے کی چھوٹی پہاڑیوں سے ہوتے ہوے ککو نالہ ‘ ناگبل اور ٹھٹھاڑ گاوں کے ہرگام محلہ کے بالائی کھیتوں ککؤ ناڑج اور ناگن بل سے گزرتے ہوے جواہر ٹنل کے صحن سے مشرق کی طرف ناؤن پہاڑی چوٹی تک اس ریزرو کا حدود و اربعہ ہے ۔ککؤ کا حیاتیاتی نام ( Alectoris chakur) ہے ۔یہ زیادہ تر جھاڑیوں ‘ پتھریلی جگہوں اور گھاس دار جگہوں میں ہی رہنے کو ترجع دیتے ہیں۔ ککؤ اکثر دس دس کے جھنڈ میں چلنے کے عادی ہیں۔ ان کے پر چھوٹے ہوتے ہیں اور جسم گول ہوتا ہے ۔ان کا رنگ ہلکا زرد اور سرمئی ہوتا ہے چھاتی اور چہرے پر سفید دھبے ہوتے ہیں جبکہ ان کی گردنوں پر کالے رنگ کی ہار نما ایک لکیر بھی پائی جاتی ہے۔ ککؤوں (چکوروں) کی آنکھیں سیاہ اور آنکھوں کے چاروں طرف لال رنگ کا دائرہ بنا ہوتا ہے چونچ اور ٹانگیں بھی لال رنگ کی ہی ہوتی ہیں ۔ککؤ (چکور) کا اوسط وز ن 560گرام سے 765گرام تک ہوتا ہے جبکہ ان کی اوسط لمبائی 13سے 15انچ تک ہوتی ہے ۔ان کی اوسط عمر 3سے پانچ سال تک دیکھی گئی ہے۔ککؤوں ( چکوروں) کی عام خوراک کیڑے مکوڑے ‘ دانے اور کنکر ہیں۔
جدید تکنیکی آلات خاص کر جدید ترسیلی دور میں ٹاور نصب کئے جانے کی وجہ سے اب ککؤوں (چکوروں) کے ساتھ ساتھ دیگر رنگ برنگی پرندوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے مگر بستیوں سے دور زبن ہل سٹیشن ‘ بوربین ‘ ٹانجہ واڑ ‘ غازی ناڑ ‘ ککو نالہ ‘ جواہر ٹنل ‘ اور کنڈ نیابت کے بالائی علاقوں میں اب بھی ان پرندوں کے جھنڈ اپنی اڑان اور میٹھی آواز سے فضاوں کو دلکش اور دلفریب بناتے ہیں ۔
زبن بہت پہلے سے ہی بانہال اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے لوگوں کے لئے ایک اہم سیاحتی مقام کے طور دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ مقامی سکولوں کے طالب علم موسم بہار میں یہاں سیر کے لئے آتے ہیں ۔ شیپ بریڈنگ اور ریسرچ ادارے کے علاوہ یہاں آس پاس بہت سی اور جگہیں دیکھنے کے قابل ہیں جن میں میٹھہ ون ٹاپ ، سوندر ٹاپ ، ژونٹھ پتھر/ کسہ پتھر ، گوئن نرسری ، ٹانجی میدان ، بوربین ، ٹانجی واڑ اور گر ناڑ شامل ہیں جو ٹریکنگ کے لئے بہترین جگہیں ہیں ۔
(رابطہ۔9906754208)
[email protected]