عاقب سلام
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے باہر واقع مصروف ترین حضرت بل مارکیٹ، جہاں روزانہ ہزاروں طلبہ، مسافر، زائرین اور مقامی لوگ آتے ہیں، خراب شہری سہولیات کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔ علاقے میں کچرے کے ڈھیر، ناقص نکاسی آب اور آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عوام کے لیے سنگین مسلہ بن چکی ہے۔شہر کے مضافاتی علاقوں کی اہم تجارتی منڈیوں میں شمار ہونے والی یہ مارکیٹ نہ صرف گرد و نواح کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں بلکہ کشمیر یونیورسٹی اورنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) سریگر کے طلبہ کی ضروریات بھی پوری کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت بل درگاہ پر آنے والے زائرین اور قریبی سومو و بس اڈوں سے سفر کرنے والے مسافروں کی بھی یہاں بڑی آمدورفت رہتی ہے۔اہمیت کے باوجود مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں جگہ جگہ بکھرا ہوا کچرا، کچرا جمع کرنے کے مقامات کے اطراف گندگی کے ڈھیر اور بعض حصوں میں جمع گندہ پانی پورے علاقے کو غیر صحت بخش اور بدحال منظر پیش کرتا ہے۔دکانداروں کے مطابق مارکیٹ میں پھل، سبزی اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے سینکڑوں کاروباری افراد کی وجہ سے روزانہ بڑی مقدار میں کچرا پیدا ہوتا ہے، جسے روزانہ کی بنیاد پر اٹھایا جانا ضروری ہے۔ایک دکاندار نے کہا،’’مارکیٹ صبح سویرے سے رات گئے تک لوگوں سے بھری رہتی ہے۔ یہاں روزانہ بڑی مقدار میں کچرا پیدا ہوتا ہے، اس لیے روزانہ صفائی ہونی چاہیے۔ اگر چند گھنٹے بھی کچرا نہ اٹھایا جائے تو وہ چاروں طرف پھیل جاتا ہے اور غیر صحت بخش ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سر سید گیٹ کے قریب نصب کچرے کے کنٹینرز آوارہ کتوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں، جہاں سے کتے کچرا نکال کر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بکھیر دیتے ہیں۔مقامی رہائشی عرفان احمد نے کہا، ’’کنٹینرز کے گرد اکثر آوارہ کتے موجود ہوتے ہیں، جو کچرا باہر نکال کر ہر طرف پھیلا دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ پیدل چلنے والوں اور خریداروں کو بھی شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘مقامی لوگوں کے مطابق مارکیٹ میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک اور بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خصوصاً کچرا جمع کرنے والے مقامات کے آس پاس کتوں کے غول دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں وہ پھینکے گئے کھانے پر گزارا کرتے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ نے بتایا کہ یہ آوارہ کتے اکثر یونیورسٹی کیمپس میں بھی داخل ہو جاتے ہیں، جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے۔یونیورسٹی کی ایک طالبہ فائزہ نے کہا، ’’کئی مرتبہ ہم نے دیکھا ہے کہ آوارہ کتے خاص طور پر صبح سویرے اور شام کے وقت طلبہ کا پیچھا کرتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی کیمپس میں بھی داخل ہو جاتے ہیں، جس سے کلاسوں میں آنے جانے والے طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘‘مسافروں کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران شہری مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔انہوں نے این آئی ٹی سرینگر کی جانب جانے والی سڑک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناقص نکاسی آب کی وجہ سے ادارے کے باہر گندے پانی کا بڑا تالاب بن جاتا ہے۔ایک مسافر نے کہا، ’’بارش کے دوران یہ گندا پانی سڑک پر پھیل جاتا ہے، جس سے بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں کو شدید دشواری پیش آتی ہے، جبکہ مسلسل پانی کھڑا رہنے سے سڑک بھی خراب ہو رہی ہے۔ کشمیر کے اہم تعلیمی اداروں اور ایک بڑے مذہبی مقام کے قریب اس طرح کی صورتحال علاقے کا بہت برا تاثر پیش کرتی ہے۔‘‘مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ، زائرین، سیاح اور مسافر اس علاقے کا رخ کرتے ہیں، اس لیے حضرت بل مارکیٹ بہتر شہری سہولیات کی مستحق ہے۔ایک اور رہائشی نے کہا، ’’یہاں کشمیر یونیورسٹی، این آئی ٹی سرینگر، حضرت بل درگاہ اور بڑے عوامی ٹرانسپورٹ مراکز موجود ہیں۔ روزانہ ہزاروں افراد یہاں آتے ہیں، اس لیے صفائی کو یقینی بنانا، نکاسی آب کا نظام بہتر بنانا اور آوارہ کتوں کے مسئلے پر قابو پانا متعلقہ شہری اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔‘‘اس حوالے سے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے حکام نے کہا،’’مارکیٹ میں صفائی کا کام باقاعدگی سے جاری ہے۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعاون کریں اور کچرا مقررہ ڈسٹ بنوں اور کچرا جمع کرنے کے مقامات پر ہی ڈالیں۔‘‘آوارہ کتوں کے مسئلے پر ایس ایم سی کے ایک سینئر افسر نے قبل ازیں بتایا تھا کہ کارپوریشن موسم گرما کے دوران آوارہ کتوں کی نس بندی کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے تاکہ شہر کے مختلف علاقوں، بشمول حضرت بل، میں آوارہ کتوں کی تعداد کو سائنسی بنیادوں پر قابو میں لایا جا سکے اور اس سے متعلق عوامی خدشات کو کم کیا جا سکے۔