مبصر
مقصوداحمدضیائی
’’میرِ کارواں‘‘ علم و ادب کے افق پر چمکنے والے مہرِ منیر، ممتاز ادیب اور بیدار مغز محقق ڈاکٹر مولانا عبداللّٰہ عباس ندوی کے نوکِ قلم سے مچلتی ہوئی ایک ایسی گراں مایہ اور دلکش تصنیف ہے، جو مجھے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے چمنِ علم میں زیرِ تعلیم عزیزِ القدر محمد آصف سلمہ نے عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران بطورہدیہ مجھے دی تھی اور اب عزیزم کے بیدارِ مطالعہ کی برکت سے، حسبِ روایت و روایتِ شوق یہ ادبی نذرانہ قارئین کی بصارتوں کے حوالے کرتے ہوئے دستِ دعا بلند کرتا ہوں کہ پروردگارِ عالم عزیزم کو علمِ نافع عطاکرے اور انہیں دارین کی لافانی نعمتوں اور بہترین جزا سے سرفراز فرمائے۔ مصنفِ ذی وقار کا رشتہ چونکہ خود ندوۃ العلماء کی زرخیز مٹی سے وابستہ رہا اور وہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سائے میں عالمی افق پر بھی ضوفشانیاں بکھیرتے رہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر کی گہرائی اور اسلوب کی شگفتگی نے اس کتاب کو اردو ادب اور اسلامی فکر کے سنگم پر ایک لازوال شاہکار بنا دیا ہے، جو بنیادی طور پر مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی سحر انگیز اور ہمہ گیر شخصیت، ان کی ملی و فکری تحریک اور ان کے ولولہ انگیز دعوتی کارناموں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں مصنف نے مولانا علی میاں کی حیاتِ جاوداں کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک سچے راہبر اور سحرِ نو کے پیامبر کے روپ میں اس طرح تراشا ہے جیسے وہ واقعی کسی بھٹکے ہوئے قافلے کے میرِ کارواں ہوں، جنہوں نے ظلمتِ شب کے ہر موڑ پر مسلمانوں کی فکری شعور اور اخلاقی جذبوں کو جلا بخشی۔ چونکہ مصنف نے ندوہ کے علمی گہوارے اور زندگی کے سنگلاخ راستوں پر مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی رفاقت میں طویل اور تاریخ ساز لمحات گزارے، اس لیے ان کے خامہِ حق گو سے نکلے ہوئے الفاظ محض افسانہ یا سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ چشمِ دید مشاہدات اور دل کی دھڑکنوں سے سجا ہوا ایک مستند اور زندہ تاریخی ریکارڈ ہیں، اور مولانا عبداللّٰہ عباس ندویؒ کو چونکہ اقلیمِ زبان و بیان پر مکمل حکمرانی حاصل تھی، اس لیے ان کا اندازِ تحریر متانت اور شگفتگی کا ایسا حسیں امتزاج ہے کہ قاری الفاظ کے جادو اور معانی کے سحر میں مسحور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ دلکش کتاب محض کسی سوانح کا خشک خاکہ نہیں، بلکہ اس کے صفحات میں ان فکری تلاطم، سیاسی طوفانوں اور سماجی چیلنجوں کی سچی تصویریں محفوظ ہیں جن کا سامنا برصغیر اور عالمی سطح پر ملتِ اسلامیہ کو رہا ہے، اور اپنے اس دلنشیں انداز سے یہ کتاب عہدِ نو کے نوجوانوں کے دلوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بیدار مغز، باکردار اور تعمیری زندگی کے معمار بن سکیں۔ مجموعی طور پر ’’میرِ کارواں‘‘ ایک ایسی سدا بہار علمی و ادبی دستاویز ہے جو قارئین کو تاریخ کی سچائیوں، سوانح کے حسن اور اسلامی فکر کی خوشبو سے بیک وقت معطر کرتی ہے اور یہ نہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کی درخشاں تاریخ کا ایک انمول ورق ہے بلکہ ان تمام روحوں کے لیے ایک لازوال فکری تحفہ ہے جو اسلامی اقدار کی بقا اور ملی حمیت کے چراغوں کو روشن رکھنے کی تمنا دل میں مچلتا ہوا پاتی ہیں۔