عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے بدھ کے روز لوک بھون میںسکاسٹ کی 36ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، وزیر زراعت جاوید احمد ڈار، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران، ماہرین زراعت اور یونیورسٹی حکام نے شرکت کی۔کونسل نے کئی اہم ادارہ جاتی اصلاحات کی منظوری دی، جن میں ایگریکلچرل ریسرچ انفارمیشن سسٹم کو ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل کو ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس میں اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی طلبہ کی سہولت اور عالمی روابط کو فروغ دینے کیلئے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس سیل قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں یونیورسٹی کے مستقبل کے لیے تین بڑے منصوبے بھی پیش کیے گئے، جن میں سینٹر فار ایگری انوویشن، اینالیٹکس اینڈ سرٹیفیکیشن، ایگری اسٹارٹ اپ پارک اور عالمی معیار کے گلوبل ویٹرنری اسکول کا قیام شامل ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سکاسٹ کشمیر کو عالمی سطح پر ایک نمایاں زرعی یونیورسٹی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ یونیورسٹی کونسل کے اجلاس سال میں کم از کم دو مرتبہ باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں۔وائس چانسلرنذیر احمد گنائی نے اجلاس کو بتایا کہ یونیورسٹی نے قومی درجہ بندی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جموں و کشمیر میں اعلی تعلیمی اداروں کے درمیان سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے اور اب تک 123 دانشورانہ املاک کے حقوق (IPRs) حاصل کیے ہیں، جن میں پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس اور ڈیزائن شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں تقریباً 30فیصد طلبہ جموں و کشمیر سے باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو ادارے کی بڑھتی ہوئی قومی شناخت اور تعلیمی ساکھ کا ثبوت ہے۔