عظمیٰ ویب ڈیسک
لداخ/لداخ میں منگل کے روز لیہہ ایپکس باڈی (LAB) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) کی مشترکہ کال پر مکمل بند کا گیا، جس کے باعث لیہہ اور کرگل اضلاع میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہے۔
بند کی حمایت میں مختلف علاقوں میں بازار، تجارتی مراکز، کاروباری ادارے اور دیگر تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند رہیں۔ تاہم عوام اور سیاحوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ خدمات زیادہ تر معمول کے مطابق جاری رہیں۔
ایل اے بی اور کے ڈی اے نے یہ بند 22 مئی کو نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں تاخیر کے خلاف احتجاجاً طلب کیا تھا۔ دونوں تنظیموں نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ میٹنگ میں طے شدہ نکات کو سرکاری کارروائی (منٹس) میں درست طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
دونوں تنظیموں کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ لداخ کے سیاسی اور آئینی مستقبل سے متعلق اہم معاملات کو یا تو سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیا گیا یا پھر انہیں مناسب انداز میں پیش نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کے مختلف طبقات میں بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔
یہ احتجاج ایل اے بی اور کے ڈی اے کے ان دیرینہ مطالبات سے جڑا ہوا ہے جن میں لداخ کے لیے آئینی تحفظات، زمین اور روزگار کے حقوق کا تحفظ، مقامی عوام کی حکمرانی میں زیادہ شمولیت اور خطے کے باشندوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر اقدامات شامل ہیں۔
بند کی کال ایل اے بی اور کے ڈی اے کی مشترکہ کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد دی گئی تھی، جس میں مرکز کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مسائل کے حل میں مزید تاخیر کی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین لوکروک دورجے نے اس بند کو حالیہ مہینوں میں لداخ بھر میں ہونے والے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام میں حکمرانی، آئینی تحفظات اور علاقائی نمائندگی سے متعلق حل طلب مسائل پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
بند کے دوران کسی بھی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
لہیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی مشترکہ کال پر لداخ مکمل بند، معمولات زندگی متاثر