پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیرمیں غیر متعدی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں تبدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ غیر متعدی زمرے کے تحت آنے والی ہائی بلڈ پریشرسے متاثر افراد کی شرح بدستور بڑھ رہی ہے۔مرکزی وزات صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثرین کی تعداد میں10فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جن میں 8فیصد خواتین اور تقریباً 2فیصد مرد شامل ہیں۔ طبی زبان میں’’ خاموش قاتل ‘‘ کے نام سے مشہور ہائی بلڈ پریشرکی لپیٹ میں تیزی سے بہت بڑی آبادی آرہی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے میں ہائی بلڈ پریشر سے خواتین اور مرد وں کی تعداد کو الگ سے پیش کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 25فیصد خواتین ہائی بلڈ پریشر سے جوج رہی ہیں۔
افشار خون میں معمولی اضافہ سے جوج رہی خواتین کی تعداد11.7فیصد تھی جو اب بڑھ کر 12.9فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح متاثرہ خواتین کی شرح میں تقریباً 2فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان میں 14فیصد کا تعلق شہری جبکہ 12.9فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ اسی طرح افشار خون میں درمیانہ درجہ کے اضافہ سے متاثرہ خواتین کی شرح 5.2فیصد تک پہنچ گئی ہے جو پہلے صرف 3فیصد تھی۔ ان میں 5.9فیصد کا تعلق شہری اور 5فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ زیادہ اضافہ ہونے سے متاثرہ خواتین کی شرح 25فیصد تک پہنچ گئی ہے جو پہلے صرف 20فیصد تھی۔ ان خواتین میں 29.4فیصد کا تعلق شہری جبکہ 23.7فیصد خواتین کا تعلق دہی علاوقوں سے ہے۔ سروے کے مطابق مردوں میں بلڈ پریشر سے متاثرہ افراد میں مجموعی طور پر 2.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔متاثرہ مردوں کی مجموعی شرح 18.9فیصد تھی جو اب بڑھ کر 20.9فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں معمولی اضافہ سے متاثرمردوں کی شرح پہلے 12.3فیصد تھی جو بڑھ کر 12.5فیصد ہوگئی ہے۔ ان میںشہری علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی شرح 15فیصد جبکہ 11.8فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔مردوں میں افشارخون میں درمیانہ درجہ میں معمولی نویت کی کمی درج کی گئی ہے۔ درمیانہ درجہ کے اضافہ سے جوج رہے مردوں کی شرح پہلے 2.8فیصد تھی جو اب کم ہوکر 2.6فیصد رہ گئی ہے فشار خون میں زیادہ اضافہ سے متاثرہ مردوں کی شرح پہلے 18.9فیصد تھی جو اب بڑھکر 20.9فیصد ہوگئی ہے۔ ان میں دیہی علاقوں سے 19.4فیصد اور شہری علاقوں سے 26.2فیصد تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ہائی بلڈ پریشر مریضوں کی تعداد میں اضافہ طرز زندگی میں تبدیلوں کی وجہ سے نشو نما کی کمی ، موٹاپا اور خون میں چربی کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔