اشرف چراغ
کپوارہ// کشمیری پنڈتو ں نے کاروبار میں دوبارہ شروعات کی ہے ۔ایک نوجوان پنڈت جس نے اپنی زندگی کی آنکھ جمو ں میں کھولی لیکن وطن عزیز کی یاد نے انہیں اپنے والدین کی جنم بھومی لنگیٹ میں کارو بار کرنے پر مجبور کر دیا ۔نوجوان اور تجربہ کا ر پنڈت نوجوان نے آن لائن پلیٹ فارمز اور فیشن انڈسٹری سمیت واپس اپنی آبائی ضلع کپوارہ کے لنگیٹ علاقہ میں کاروبار شروع کیا جس سے مسلم کمیو نٹی کی جانب سے شاندار پذیرائی مل رہی ہے ۔ایک پنڈت خاندا ن نے لنگیٹ علاقہ میں’’ Taste and Trrats‘‘کے نام سے ایک نئے ریسٹو رنٹ کا افتا ح کیا ۔جس کے افتتا ح پر مقامی آبادی نے بھر پور خوشی کا اظہار کیا ۔ایک بزرگ پنڈت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پھیلے ہوئے پنڈت تاجروں کو متحد کرنے اور نئے اسٹاٹس کو فرو غ دینے کے لئے گلوبل کشمیری بزنس فائو نڈیشن کامیابی سے کام کر رہا ہے، اپنے کارو بار کو چار چاند لگانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں ۔لنگیٹ میں جہا ں اس نوجوان پنڈت نے اپنا کاروبار شروع کیا وہیں کشمیری پنڈت خواتین بھی اس معاشی بحالی میں پیش پیش ہیں ۔انہو ں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگلو رومیں مقیم واتسلا بلی جیسے نئے برانڈز کشمیری دستکاری اور فیشن کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ااتنا ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک سے تعلق جسمیں حکومت کی جانب سے بھی پنڈت کیمونٹی کی با زآباد اری اور سر مایہ اری کے لئے ٹھوس وعدے کئے گئے ہیں ۔لنگیٹ میں جب اس ریسٹورنٹ کا افتتاح کیا تو وہا ں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جہا ں ایک تارکین وطن خاندان اپنی جڑوں کے ساتھ دوبارہ ملے اور مقامی لوگو ں کیجانب سے ان کے ساتھ والہانہ استقبال کیا گیا ۔یہ موقع فرقہ وارنہ ،ہم آہنگی ،بھائی چارے کے پائیدار جذبے اور اس گہرے رشتے کی علامت ہے جو دہائیو ں کی علیحدگی کے باجود لوگو ں کو اپنے وطن سے جو ڑتا ہے ۔تارکین خانداان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 36سال بعد لنگیٹ کی واپسی نے ان کی اس یقین کی تصدیق کی ہے کہ مادر وطن میں محبت ،باہمی احترا م اور بھائی چارے کا جذبہ کوٹ کو ٹ کر بھرا ہوا ہے اور یہ وقت صرف ان کے کارو بار کا نہیں بلکہ جذباتی تعاملات ،خیر سگالی اور آنے والے نسلو ں کے لئے امن اور اتحاد کا پیغام دیا گیا ۔ایک کشمیری پنڈت کا کہنا ہے کہ وادی میں نامساعڈ حالات سے قبل کپوارہ کے مختلف علاقوں میں کشمیری پنڈتو ں کے دکان چل رہے تھے جہا ں وہ اپنے کاروبار کے ذریعے لوگو ں فائدہ پہنچاتے تھے اور روز مرہ کی چیزیں کہیں نہیں ملتی وہ صرف کشمیری پنڈت دکانوں پر دستیاب ہوتی تھی ۔ان کا کہنا ہے کہ اب جب ہم نے اپنا کاروبار شروع کیا اس کارو بار کو فرو غ دینے کے لئے ضلع کے باقی علاقوں میں بھی شرو عکیاجائے گا اور وہ و قت دور نہیں ہے جب تمام کشمیری پنڈت اپنے اپنے علاقوں میں واپس آکر اپنا کارو بار شروع کریں گے ۔