اولاد کی ترجیحات میں تبدیلی سے مالی سہارا موجود، مگر جذباتی رشتہ کمزور پڑنے لگا
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں ایک تشویشناک سماجی رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے، جہاں بزرگ والدین اپنی ہی اولاد کی موجودگی کے باوجود تنہائی، نظراندازی اور جذباتی خالی پن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کے مطابق یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور جذباتی بحران بن چکا ہے۔صحت کے شعبے سے وابستہ ادارے اور کیئر فراہم کرنے والی تنظیمیں، جن میں مول موج فائونڈیشن جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں، اس رجحان کی مسلسل نشاندہی کر رہے ہیں کہ کئی بالغ بچے اپنے والدین کی جسمانی دیکھ بھال کو فاصلاتی اندازسے انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں گھر کے قریب موجود ہونے کے باوجود دیکھ بھال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے یا مالی ادائیگی کے ذریعے اس فریضے کو پورا سمجھ لیا جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں بزرگ افراد گھروں میں بنیادی سہولیات، صفائی اور توجہ سے محروم پائے گئے۔ ان حالات میں ان کی جسمانی ضروریات کسی حد تک پوری ہو جاتی ہیں، مگر جذباتی وابستگی، گفتگو اور توجہ کا عنصر کمزور پڑ جاتا ہے، جو ان کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ماہرین اس رجحان کوذمہ داری کی آئوٹ سورسنگ قرار دیتے ہیں، جہاں اولاد اپنے والدین کی دیکھ بھال کو صرف مالی مدد تک محدود سمجھنے لگتی ہے۔ ان کے مطابق اصل نگہداشت صرف علاج یا اخراجات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ روابطہ، وقت دینا، اور جذباتی سہارا فراہم کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، مصروفیت، اور کیریئر کی دوڑ نے خاندانی ڈھانچے میں وہ قربت کم کر دی ہے جو پہلے بزرگوں کو تحفظ اور سکون فراہم کرتی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کئی والدین جسمانی طور پر تو گھر میں موجود ہوتے ہیں مگر جذباتی طور پر تنہا رہ جاتے ہیں۔ایک بزرگ شہری نے بتایاگھر میں سب کچھ ہے، مگر بات کرنے والا کوئی نہیں۔ دن لمبے ہو جاتے ہیں اور خاموشی بھاری لگتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق بزرگ افراد کے لیے سب سے اہم چیز صرف ادویات یا مالی سہارا نہیں بلکہ انسانی رابطہ، توجہ اور احساسِ وابستگی ہے۔ ان کے مطابق تنہائی بزرگوں میں ذہنی دبائو، بے چینی اور جسمانی کمزوری کو مزید بڑھا دیتی ہے۔اس صورتحال پر سماجی کارکنوں نے زور دیا ہے کہ یہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے، جس میں خاندان، معاشرہ اور ادارے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق چھوٹے چھوٹے اقدامات جیسے روزانہ بات چیت، باقاعدہ ملاقاتیں اور جذباتی شمولیت بزرگ والدین کی زندگی میں بڑا فرق لا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ صرف جسم نہیں بلکہ دل بھی زیادہ توجہ چاہتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا جدید مصروف زندگی نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں والدین کی خدمت صرف فریضہ رہ گئی ہے اور محبت پیچھے رہ گئی ہے۔والد گھر کا درخت ہوتا ہے۔کبھی یہی والدگھر کا ستون، خاندان کی عزت اور بچوں کے مستقبل کی ضمانت سمجھے جاتے تھے، مگر آج وہی ستون یا تو وقت کی گرد میں کھو گئے ہیں یا پھر غربت، مہنگائی اور بدلتے خاندانی نظام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔پیریاڈک لیبر سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 50 فیصد بزرگ افراد کسی نہ کسی شکل میں نظراندازی، تنہائی یا جذباتی محرومی کا شکار ہیں، جبکہ کئی کیسوں میں انہیں مالی طور پر بھی مکمل طور پر دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ بڑھتی ہوئی شہری ہجرت، روزگار کی تلاش میں نوجوانوں کی نقل مکانی نے رشتوں کے درمیان فاصلہ بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بزرگ افراد کی زندگی اب یا تو اولڈ ایج ہوموںمیں گزرتی ہے یا پھر محدود سرکاری پنشن یا اولڈ ایج پنشن پر، جو بڑھتی مہنگائی کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 13 لاکھ سے 15 لاکھ سے زیادہ لوگ(کل متوقع آبادی کا تقریباً 9.5% سے 10%) 60 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔آبادی کے مطالعہ کے ماہرین نے 2031 تک جموں و کشمیر میں بزرگ آبادی کا تخمینہ 17 فیصد (25 لاکھ)رکھا ہے۔یہ تخمینے قومی سروے کے حساب سے متوقع عمر کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔2025کے اواخر سے سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 5.83 لاکھ بزرگ شہری آیوشمان وائے وندنا یوجنا کے تحت کوریج کے اہل ہیں۔