محمد تسکین
سری نگر/ جموں و کشمیر کے ہزاروں رہبرِ تعلیم (ReT) اساتذہ کیلئے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم نے باضابطہ طور پر واضح کیا ہے کہ ریگولرائزیشن سے قبل رہبرِ تعلیم اساتذہ کی پانچ سالہ سروس کو بدستور پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کے لیے شمار کیا جائے گا۔
محکمہ کی اس وضاحت سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری بے یقینی اور تشویش کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اساتذہ برادری میں یہ خدشات پائے جا رہے تھے کہ مختلف سرکاری احکامات اور عدالتی فیصلوں کی تشریحات کے باعث یہ دیرینہ سہولت ختم کی جا سکتی ہے۔
محکمہ تعلیم نے پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل (A&E) جموں و کشمیر کو ارسال کردہ ایک باضابطہ مراسلے میں واضح کیا کہ کابینہ کے فیصلہ نمبر 115/09/2014 مؤرخہ 19 جون 2014 کے تحت ریگولرائزیشن سے قبل رہبرِ تعلیم اساتذہ کی پانچ سالہ سروس کو پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کیلئے شمار کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس فیصلے کو بعد ازاں سرکاری حکم نامہ نمبر 469-Edu of 2014 مؤرخہ 25 جون 2014 کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔
محکمہ نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ مذکورہ حکم نامے کی سینیارٹی سے متعلق بعض شقیں بعد میں کالعدم قرار دی گئی تھیں، تاہم پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق دفعات آج بھی مکمل طور پر نافذ العمل اور قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔
محکمہ نے ہدایت دی ہے کہ اسی نوعیت کے تمام رہبر تعلیم اساتذہ کے پنشن معاملات کو اسی پالیسی کے مطابق نمٹایا جائے تاکہ اس کے یکساں نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب زونل ایجوکیشن آفس (ZEO) بانہال کی جانب سے ایک استفسار کے بعد پنشن قواعد کی تشریح کے حوالے سے ابہام پیدا ہو گیا تھا، جس کے باعث ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والےاساتذہ میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔
جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچرز فورم (JKReTTF) کے چیف ترجمان مظفر احمد وانی نے محکمہ کی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے فورم کے دیرینہ موقف کی توثیق کر دی ہے۔ ان کے مطابق فورم نے ابتدا ہی سے حقائق، قواعد اور منطقی دلائل کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پنشن سے متعلق حکومتی فیصلہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
انہوں نے بعض متعلقہ حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قواعد کی غلط تشریح کے باعث ہزاروں اساتذہ غیر ضروری ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہوئے۔
فورم نے زونل ایجوکیشن آفیسر بانہال اور چیف ایجوکیشن آفیسر رام بن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سنبھالنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور حساس انتظامی معاملات میں مزید احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
محکمہ تعلیم کی تازہ وضاحت سے ان تمام ریٹ اساتذہ کو فوری راحت ملنے کی توقع ہے جن کے پنشن کیسز زیر التوا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر اور دیگر متعلقہ اداروں کیلئے بھی پنشن معاملات کے تصفیے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ریگولرائزیشن سے قبل برسوں تک خدمات انجام دینے والے ہزاروں ریٹ اساتذہ کیلئے یہ فیصلہ نہ صرف مالی تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ ان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ حکومتی موقف واضح ہونے کے بعد اس دیرینہ تنازعے کے خاتمے اور پنشن معاملات کے جلد تصفیے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
رہبرِ تعلیم اساتذہ کیلئے بڑی راحت، جموں و کشمیر حکومت نے ریگولرائزیشن سے قبل کی سروس کو پنشن کیلئے برقرار رکھا