یو این آئی
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 ممالک سے مشترکہ عالمی خوشحالی کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان تقسیم میں نہیں، بلکہ انضمام، تحفظ پسندانہ پالیسی نہیں، بلکہ شراکت داری اور غیر یقینی صورتحال نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی میں یقین رکھتا ہے۔وزیر اعظم نے بدھ کو فرانس کے ایویاں شہر میں جی-7 ممالک کے 52 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر ’سب کے لیے متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی‘ کے موضوع پر آوٹ ریچ سیشن سے خطاب کیا۔ مشترکہ خوشحالی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے جی-7 ممالک کو افریقہ، لاطینی امریکہ اور بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے ایک ‘کنیکٹیوٹی پروجیکٹ’ ’انٹرنیشنل موبلائزیشن پارٹنرشپ فار ایکسیلیریٹنگ کنیکٹیوٹی اینڈ ٹریڈ‘ (امپیکٹ) بنانے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ’گلوبل اسکلز پارٹنرشپ‘ بنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مشترکہ عالمی خوشحالی میں یقین صرف لفظوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کام میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند سال میں ہندوستان نے اس میٹنگ میں موجود اکثر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے، ’’ہندوستان تقسیم میں نہیں، بلکہ انضمام، تحفظ پسندانہ پالیسی نہیں، بلکہ شراکت داری اور غیر یقینی صورتحال نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی میں یقین رکھتا ہے۔‘‘وزیر اعظم نے رکن ممالک کو یقین دلایا کہ ہندوستان آنے والے وقت میں بھی ان کے ساتھ مل کر مشترکہ اقتصادی مضبوطی کے لیے زیادہ مستحکم، قابل اعتماد اور خوشحال عالمی معیشت کی تعمیر کے لیے کام کرتا رہے گا۔ مودی نے کہا، ’’یہ اچھی بات ہے کہ جی-7 نے فرانس کی صدارت میں اس موضوع کو اہمیت دی ہے۔ آج سچائی یہ ہے کہ جب ترقی کی بات آتی ہے، تو سوال جی ڈی پی یا تجارت کے اعداد و شمار کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے – ترقی کس کے لیے، کس کے ساتھ اور کس سمت میں؟‘‘وزیر اعظم نے کہا کہ مشترکہ ترقی کو امنگوں سے حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہندوستان آگے بڑھتا ہے، تو عالمی آبادی کا چھٹا حصہ آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے ہندوستان کا ترقیاتی سفر پوری انسانیت کے لیے شمولیت، پیمانے اور جمہوری بااختیار بنانے کی کہانی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ 12 سال میں ہندوستان ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کے بنیادی منتر پر آگے بڑھا ہے جو ہمارے عالمی تعلقات کا اصول ہے۔