چار دیواریوں کے پیچھے بزرگوں کو بڑھتی ہوئی جذباتی اور مالی نظراندازی کا سامنا
بلال فرقانی
سرینگر//بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی سے آگاہی کے عالمی دن پر ماہرین نے بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری، جذباتی نظراندازی اور سماجی تنہائی کو اجاگر کیا ہے۔جموں و کشمیر میں بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اگرچہ اکثر جسمانی تشدد کی صورت میں کم رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم اس کے زیادہ عام پہلو،جذباتی نظراندازی، مالی انحصار اور سماجی تنہائی،گھریلو نظام کے اندر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جموں و کشمیر تیزی سے آبادیاتی تبدیلی کا سامنا کر رہا ہے۔ 2031 تک، اس کے تقریباً 17% رہائشیوں کی عمر 60 سال سے زیادہ ہو جائے گی، جس سے مالی انحصار اور تنہائی کی بلند شرح جیسے چیلنجز سامنے آئیں گے۔ بنیادی مسائل میں صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی، وسیع پیمانے پر نفسیاتی پریشانی، اور روایتی مشترکہ خاندانی نظام کے زوال کے باعث سماجی تعاون کا سکڑنا شامل ہیں۔بین الاقوامی ادارہ برائے آبادیاتی علوم کی ایک تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں رپورٹ شدہ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی شرح 1.97 فیصد ہے، جبکہ 0.96 فیصد بزرگ شہری جرائم کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 62.49 فیصد بزرگ شہری اپنے محلوں کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، جو ان کی ذہنی اور سماجی کیفیت پر گہرے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار حقیقی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ جذباتی اور گھریلو سطح کی نظراندازی اکثر رپورٹ نہیں کی جاتی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بزرگ شہریوں کے خلاف درج ہونے والے جرائم میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 2019 میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا تھا،یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 40 تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ سماجی شعور کے بڑھنے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ دائمی بیماریوں کی اعلیٰ شرح خطے میں بزرگوں کو متاثر کررہی ہے۔ نمایاں مسائل میں عضلاتی مسائل (جیسے گٹھیا اور آسٹیوپوروسس)، ہائی بلڈ پریشر، اور بصری خرابیاں شامل ہیں۔مطالعات اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ بوڑھوں کے درمیان تنہائی کا بہت زیادہ پھیلائو ریکارڈ ہورہا ہے۔بہت سے بزرگ شہریوں کے پاس ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی کے قابل اعتماد، آزاد ذرائع کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ روزمرہ کی ضروریات کے لیے خاندان کے چھوٹے افراد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ شہریوں میں ڈپریشن، بے چینی، نیند کی خرابی اور تنائو سے متعلق امراض میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ جذباتی تنہائی اور خاندانی توجہ کی کمی ہے۔ ڈاکٹر منظورکے مطابق جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ جذباتی سپورٹ کی کمی صحت یابی کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔شعبہ سماجیات کے پروفیسر میر ظفر کا کہنا ہے کہ کئی بزرگ شہری اپنی پنشن، بچت یا جائیداد کے معاملات پر مکمل اختیار نہیں رکھتے، جس سے مالی انحصار اور بعض اوقات محدود کنٹرول کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ براہ راست مالی استحصال کے کیس کم رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم غیر محسوس دبائو اور انحصار کا رجحان بڑھ رہا ہے۔سول سوسائٹی کے نمائندوں کے مطابق بزرگ افراد کی جانب سے خاموشی اختیار کرنا ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے، کیونکہ وہ اکثر خاندانی تعلقات خراب ہونے کے خوف سے شکایت درج نہیں کراتے۔ایڈوکیٹ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ یہی خاموشی اصل مسئلے کو پوشیدہ رکھتی ہے اور اصل صورتحال رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کا عالمی دن کے موقع پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں اصل چیلنج صرف بدسلوکی کو روکنا نہیں بلکہ ان بزرگ شہریوں کو دوبارہ سماجی طور پر باوقار اور بااختیار بنانا ہے جو تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرتی ڈھانچے میں خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔