آصف احمد حجام
انسانی زندگی کا اصل حسن ،عقل و شعور پر منحصر ہے اور یہی وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ لیکن جب کسی معاشرے میں نشے کا چلن عام ہو جائے تو اخلاقیات اور انسانیت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں اپنی اس وادیٔ کشمیر میں حکومت کی جانب سے منشیات سے پاک مہم کے تحت جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں اور ہم ان کا تہہ دل سے استقبال کرتے ہیں، تاہم وقت کا اہم ترین تقاضا یہ بھی ہے کہ وادی میں شراب اور دیگر تمام نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔دین ِ اسلام نے انسانی جان، مال اور عقل کی حفاظت کو اولین ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت میں نشے کو محض ایک بری عادت نہیں بلکہ تمام برائیوں کی ’ماں‘ قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ المائدہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ حقیقت یہ ہے کہ نشے کی حالت میں انسان اپنے رشتوں کا تقدس کھو بیٹھتا ہے، جہاں اسے نہ ماں باپ کا احترام یاد رہتا ہے اور نہ بہن بھائیوں کی تمیز ۔ یہ لعنت بندے اور خالق کے درمیان ایک ایسی رکاوٹ بن جاتی ہے جو انسان کو بندگی کے اعلیٰ مقام سے گرا کر شیطانی راستے پر گامزن کر دیتی ہے۔منشیات وہ زہریلا درخت ہے جس کی ہر شاخ پر ذلت اور معاشی و سماجی رسوائی کے پھل لگتے ہیں۔ اس کے اثرات کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان پر پڑتے ہیں۔ گھر کا سکون اور خوشیاں غارت ہو جاتی ہیں، گھریلو تشدد جنم لیتا ہے اور بچوں کی ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نشہ انسان کو معاشی طور پر کنگال کر دیتا ہے۔ جب حلال اور سیدھے طریقوں سے نشے کی طلب پوری نہیں ہوتی تو انسان چوری، جھوٹ، ڈکیتی اور دھوکہ دہی جیسے سنگین جرائم کا سہارا لیتا ہے، جس سے پورے معاشرے کا امن و امان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
نشے کا ناسور ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے پورے جموں و کشمیر میں خون کے عطیات کی فراہمی کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں اور اس انسانیت نواز کام میں عام طور پر نوجوان ہی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ اکثر جب میں کسی خون دینے والے رضاکار کے ساتھ ہسپتال جاتا ہوں، تو ڈاکٹر صاحبان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا آپ سگریٹ وغیرہ تو نہیں پیتے ؟ یہ دیکھ کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ کتنا بدنصیب ہے وہ نوجوان جو نشے کی لت کی وجہ سے اس قابل بھی نہیں رہتا کہ کسی انسان کی زندگی بچانےکے لیے اپنے خون کا عطیہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نشہ عارضی فرار تو فراہم کر سکتا ہے مگر یہ کسی مسئلے کا دائمی حل نہیں بلکہ وہ میٹھا زہر ہے جو انسان کی غیرت، عزت اور ایمان کو ختم کر دیتا ہے۔
جدید سائنس اور طبی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ نشہ صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پیچیدہ دماغی اور جسمانی بیماری ہے۔ انسانی دماغ کیمیائی پیغامات کے ذریعے پورے جسم کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ نشہ آور اشیاء دماغ میں خوشی اور سکون کا احساس پیدا کرنے والے قدرتی کیمیکل ‘ڈوپامین کی مقدار کو مصنوعی طور پر حد سے زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔ جس کا ہولناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان عام زندگی کی فطری خوشیوں، جیسے اچھے کھانے، خاندانی سکون یا کسی کامیابی سے لطف اندوز ہونے کے قابل ہی نہیں رہتا اوروہ اچھے و بُرے اور نفع و نقصان میں تمیز رکھنےکی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔
طبی علوم کے مطابق نشہ جسم کے اہم ترین حیاتیاتی نظاموں کو بتدریج مفلوج کر دیتا ہے۔ زہریلے اثرات کو خون سے صاف کرنے کی ذمہ داری جگر پر ہوتی ہے، لیکن منشیات کے مسلسل استعمال سے جگر کے خلیات مرنے لگتے ہیں، جسے سائنسی اصطلاح میں ‘سروسس کہا جاتا ہے اور یہ جگر کے ناکارہ ہونے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح کوکین اور ہیروئن جیسی منشیات بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں اچانک خطرناک اُتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہیں، جس سے دل کا دورہ پڑنے یا دماغ کی شریان پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دھویں کی صورت میں لیا جانے والا نشہ جیسے چرس اور سگریٹ وغیرہ، پھیپھڑوں کے نازک خلیوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں، جس سے جسم میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان کینسر اور سانس کی شدید بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔اس ناسور سے اپنے معاشرے کو بچانے کے لیے ہمیں ایک منظم اور کثیر الجہتی لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بدلتے ہوئے رویوں اور ان کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھیں۔ اگر کوئی اس لت میں ملوث ہو جائے تو اسے ملامت یا ذلیل کرنے کے بجائے اپنے محلے یا گاؤں میں ایسے معلوماتی اور اصلاحی مراکز قائم کئے جائیں جہاں محبت، ہمدردی اور حکمت کے ساتھ ان کی رہنمائی کی جائے۔ہم نوجوان بھی اس سلسلے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے اپنے گاؤں اور محلوں کی سطح پر ٹیمیں بنا کر خود رو بھنگ اور دیگر نشہ آور پودوں کو دوا پاشی کے ذریعے تلف کر سکتے ہیں۔اور جہاں بیت المال غریبوں اور مساکین کی مدد کے لیے استعمال ہوتت ہوں، وہاں اس کا ایک مخصوص حصہ سماجی برائیوں کے خاتمے اور نشے کے عادی افراد کی طبی بحالی اور علاج کے لیے بھی مختص رکھیں۔ یاد رکھیں کہ حقیقی سکون، ذہنی اطمینان اور فلاح نشے کی عارضی مدہوشی میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، انسانیت کی خدمت اور پاکیزہ زندگی گزارنے میں ہے۔ ہماری یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ہم اس بُرائی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور اپنے معاشرے کو اس جہنم سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔