ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں کے ڈوڈہ ضلعے میں لیونڈر کی کاشت کرنے والی ایک خاتون جب موسم کے پہلے پھول توڑتی ہے تو اس کے ذہن میں سائنسی پالیسیوں کا خیال نہیں آتا، اس کے باوجود یہ درحقیقت ایک دہائی کی سوچی سمجھی اور مشن پر مبنی سائنسی سرمایہ کاری ہے جس نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی بنجر پہاڑیوں کو جامنی رنگ کے خوشبودار کھیتوں میں تبدیل کردیا ہے- دیہی روزگار اور معیشت میں یہ انقلاب دراصل ایک تجربہ گاہ سے نکلنےوالی کامیابی کی داستان ہے۔ بھارت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے12 برس تک جاری رہنے والے پختہ عزم کا درحقیقت یہی مفہوم ہے۔ علم میں محض اضافہ نہیں، بلکہ سائنس کو ایک ایسی زندہ اور متحرک قوت بنانا جو شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہو اور ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائے۔
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے جب 2014میں اقتدار سنبھالا تھا، تو انہوں نے ایک ایسے وژن کا تصور پیش کیا تھا، جس نے ہمیں سائنس کو محض ایک سرکاری شعبے کی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی مشن کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد آنے والے برسوں نے اس وژن کو ایسی حقیقت میں تبدیل کر دیا جس کا تصور ایک نسل پہلے غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔آج بھارت نے چاند کے قطب جنوبی پر خلائی جہاز اتارا ہے، اپنی تاریخ میں پہلی بار مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی بایوٹک دوا تیار کی ہے، پونے سے پٹنہ تک سپر کمپیوٹرز کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا ہےاور ایک ایسی خلائی معیشت کو فروغ دیا ہے جس میں مقامی اسٹارٹ اپس سرگرمی سے اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اصل داستان، جسے بیان کیا جانا چاہیے، یہ ہے کہ ان میں سے ہر کامیابی نے کس طرح عام شہریوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں اور ترقی کے ثمرات کو معاشرے کے وسیع تر طبقات تک پہنچایا ہے۔
سائنس اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ قومی ترقی اور شہریوں کو بااختیار بنانے کی واحد سب سے مؤثر اور طاقتور محرک قوت بن چکی ہے۔
ایک کسان کی مثال لیں۔ موسم: جو ہمیشہ سے بھارتی زراعت کا ایک خاموش حکمران رہا ہے، گزشتہ ایک دہائی کے دوران کہیں زیادہ قابلِ فہم اور واضح ہو چکا ہے۔ زمین کی نگرانی اور پیش گوئی کے ہمارے بنیادی ڈھانچے کی جامع بڑی تبدیلی اب کسانوں کو ان کے مقامی علاقے کے لحاظ سے موسم کی بالکل درست پیش گوئی فراہم کرتی ہے — امکانات کی مبہم زبان میں نہیں، بلکہ اس قدر باریک بینی اور پختگی کے ساتھ جو ایک خاندان کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ کل فصل کاٹیں یا انتظار کریں۔ آج جب خلیجِ بنگال میں کوئی سمندری طوفان اٹھتا ہے، تو ہمارے قبل از وقت وارننگ دینے والے نظام ساحلی بستیوں کو کئی گھنٹے — اور بعض اوقات کئی دن — پہلے مطلع کر دیتے ہیں۔ یہ فرق محض اعداد و شمار کا نہیں ہے، بلکہ اسے بچائی جانے والی جانوں اور محفوظ رہنے والے روزگار سے لگایاجاتا ہے۔
جموں و کشمیر کے پہاڑوں اور دریاؤں کی وادیوں میں سائنس ’اروما مشن‘کی شکل میں پہنچی ہے — ایک ایسا پروگرام جس نے لیوینڈر کی کاشت کو متعارف کرایا ہے اور کسانوں کو ٹیکنالوجی، بیج اور مارکیٹ تک روابط فراہم کیے ہیں۔ ایک آزمائشی منصوبے کے طور پر شروع ہونے والا یہ پروگرام اب بھارت کے ’پرپل انقلاب‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی بدولت ہزاروں کسان خاندان خوشبودار اور طبی پودوں کی کاشت سے باوقار آمدنی حاصل کررہے ہیں اور اس خوشحالی کے پیچھے سائنس ایک خاموش معمار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ زعفران کی کاشت میں توسیع، طبی جڑی بوٹیوں کی کاشت اور بھارت میں پہلی بار ہینگ کی کاشت کی شروعات جیسے اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مٹی سے جڑی ہوئی اختراع کسی بھی صنعتی ٹیکنالوجی کی طرح انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔
سائنس کے ذریعے دیہی علاقوں کو بااختیار بنانے کا یہ سلسلہ زراعت سے کہیں آگے تک پھیل گیا ہے۔ سستی دیہی تعمیرات کے لیے تیار کردہ تھری ڈی پرنٹڈ رہائشی مکانات کے ماڈلز سے لے کر خوراک میں ملاوٹ کا پتہ لگانے والی مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے لیس نظاموں تک، ٹیکنالوجی کا رخ، جان بوجھ کر ان مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑا جا رہا ہے جو ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، جو مہنگے وسائل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ’نیشنل مشن آن انٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز نے‘جو کمپیوٹنگ، سینسنگ اور فزیکل انجینئرنگ کو آپس میں منسلک کرتاہے ملک بھر میں پچیس ٹیکنالوجی انوویشن ہب قائم کیے ہیں، جن کے ذریعے ایک ہزار سے زائد ایسے اسٹارٹ اپس کی بنیاد رکھی گئی ہے جو مائیکرو زراعت (پریسجن ایگریکلچر)، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور دیہی علاقوں میں صحت کی خدمات کی فراہمی جیسے متنوع مسائل پر کام کر رہے ہیں۔
صحت مند بھارت کی جانب: بایوٹیکنالوجی میں ایک تاریخی پیش رفت
اگر بھارتی سائنس کی یکسر تبدیلی لانے والی صلاحیت کو کسی ایک شعبے میں سب سے زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے تو وہ بایوٹیکنالوجی اور صحت کا شعبہ ہے۔ کئی دہائیوں تک بھارت کی دواسازی کی قوت کا انحصار بنیادی طور پر ادویات کی تیاری پر رہا، یعنی ایسی دواؤں کے جنرک ورژن تیار کرنا جو دیگر ممالک میں دریافت کی گئی تھیں، لیکن اب یہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔نفیتھرومائسن کی تیاری، جو کئی عشروں کے بعد بھارت کی پہلی مقامی طور پر دریافت اور تیار کی گئی اینٹی بایوٹک دوا ہے، محض ایک سائنسی سنگِ میل نہیں ہے، بلکہ دواسازی کے شعبے میں خود انحصاری کا ایک مضبوط اعلان ہے۔ محققین اور صنعت کے درمیان حکومت کے تحت قائم اشتراک کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت مظہرہے کہ بھارت کی تجربہ گاہیں اب ادویات کی دریافت کے جدید ترین محاذ پر جدت طرازی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو اب تک دنیا کے صرف چند ممالک ہی حاصل کر سکے ہیں۔
اسی طرح، ہیموفیلیا ایک ایسے عارضے کے لیے،جس کے لیے زندگی بھر مہنگے علاج کی ضرورت ہوتی ہے کرسچن میڈیکل کالج، ویلور میں کیا جانے والا ملک کا پہلا کامیاب مقامی جین تھراپی کلینیکل ٹرائل بھی یکساں طور پر اہم ہے۔ جین تھراپی علامات کا علاج کرنے کے بجائے بنیادی جینیاتی نقص کو درست کر کے کام کرتی ہے،جینیاتی بیماریوں کے بھاری بوجھ والے ملک کے لیے اس کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ اسے ’جینوم انڈیا پروجیکٹ‘کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، جس کے تحت اب بھارت کی غیر معمولی طور پر متنوع آبادی سے لیے گئے دس ہزار سے زیادہ انسانی جینوم کی سیکوئنسنگ مکمل کی جا چکی ہے، لہٰذا ہم ایک ایسے مستقبل کی سائنسی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ہر مریض کی حیاتیات کے مطابق اس کا علاج تجویز کیا جائے گا۔
کووڈ-19وبا نے انتہائی تکلیف دہ حد تک واضح کر دیا کہ قومی سلامتی کے لیے بائیو میڈیکل (حیاتیاتی طب) کی اندرونِ ملک صلاحیت کتنی ناگزیر ہے۔ بھارت کا ردِعمل یعنی بڑے پیمانے پر اپنی ویکسینز کو فروغ دینا اورتیار کرنا اور انہیں 1.4 ارب کی آبادی تک پہنچانا ہمارے بائیو ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام میں برسوں کی جانے والی سرمایہ کاری کا نتیجہ تھا۔’بائیو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل‘ یا بی آئی آر اے سی نے بائیوٹیک اسٹارٹ اپس کو پروان چڑھانے ، تعلیمی تحقیق اور تجارتی سطح پر پیداوار کے درمیان خلیج کو پاٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے کہ سائنسی ایجادات ان لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج بائیو انٹرپرینیورز کی ایک نئی نسل مائیکرو میڈیسن (پریسجن میڈیسن)، پائیدار بائیو بیسڈ مواد اور اگلی نسل کے تشخیصی نظاموں پر کام کر رہی ہے اور وہ یہ کام نہ صرف سیلیکون ویلی سے بلکہ بھارت کے شہروں اور کیمپسوں سے کر رہے ہیں۔
فلک بوس کامیابیاں، مگر ہر فرد کی روزمرہ زندگی سے مربوط ترقی
23 اگست 2023 کو جب چندریان-3 کا وکرم لینڈر چاند کے قطب جنوبی کی جانب اپنی آخری پیش قدمی کر رہا تھا — ایک ایسا خطہ جہاں آج تک کوئی بھی ملک نہیں پہنچ سکا تھا — اُس وقت کروڑوں بھارتی مشترکہ طور پرسانس روکے ہوئے اس لمحے کے گواہ تھے۔ چاند کی سطح پر اس کی کامیاب لینڈنگ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں تھی بلکہ قومی سطح پر اس بات کی توثیق تھی کہ بھارت نے وہ کر دکھایا ہے جو آج تک کوئی اور ملک انجام نہیں دے سکا۔ اس کے بعد چاند کی سطح کے تجزیے اور تقریباً تین لاکھ اسی ہزار کلومیٹر دور خلا سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی ترسیل نے پلینیٹری سائنس کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی، لیکن اس سب سے بڑھ کر جو چیز اہم تھی، وہ یہ تھی کہ اس لینڈنگ نے ایک پورے ملک کے تخیل اور طرز فکرکو کس طرح بدل دیا۔
گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت کی خلائی داستان بیک وقت بلند ہمتی اور عملی افادیت کی ایک مثال رہی ہے۔ جہاں ایک طرف چندریان-3 نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی، وہیں آدتیہ-L1 — جو سورج کے مطالعے کے لیے بھارت کا پہلا خصوصی خلائی رصدگاہی مشن ہے — خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد خلائی موسم کو سمجھنا ہے، جو زمین پر موجود سیٹلائٹس، بجلی کے نظام اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو متاثر کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اِسپا ڈیکس مشن نے بھارت کو ان چند منتخب ممالک کی صف میں شامل کر دیا ہے جنہوں نے مدار میں دو خلائی جہازوں کو کامیابی سے جوڑنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے — جو مستقبل کے خلائی اسٹیشنز اور انسانی مشنز کے لیے ایک بنیادی ٹیکنالوجی ہے۔اسی طرح گروپ کیپٹن شُبھانسھو شکلا کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اٹھارہ روزہ تاریخی قیام بھارت کے انسانی خلائی مشن کے خواب کو محض آرزو سے نکال کر عملی تجربے کی سطح تک لے آیا ہے۔
جینوم انڈیا پروجیکٹ نے دس ہزار سے زیادہ انسانی جینومز کی ترتیب مکمل کر کے ایک ایسی بنیاد رکھ دی ہے جس کے ذریعے ہر بھارتی فرد کی منفرد حیاتیاتی خصوصیات کے مطابق ذاتی نوعیت کی طبی سہولتیں اور علاج ممکن ہو سکیں گے۔
بھارت کے خلائی شعبے کی تبدیلی محض مشنوں تک محدود نہیں رہی، خواہ وہ کتنے ہی اہم کیوں نہ ہوں۔ 2023 کی بھارتی خلائی پالیسی نے پوری ویلیو چین لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس اور گراؤنڈ سسٹمز کو نجی شعبے کے لیے کھول دیا۔ اس کا نتیجہ غیر معمولی طور پر مثبت اور متحرک رہا ہے۔2014 میں جہاں محض گیارہ اسپیس اسٹارٹ اپس موجود تھے، آج بھارت میں چار سو سے زائد اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں جو راکٹ تیار کر رہے ہیں، سیٹلائٹس ڈیزائن کر رہے ہیں اور زرعی نگرانی سے لے کر قدرتی آفات کے انتظام تک مختلف شعبوں کے لیے جدید ایپلی کیشنز تشکیل دے رہے ہیں۔2014 کے بعد سے بھارتی لانچ وہیکلز نے399 غیر ملکی سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا ہے، جس نے بھارت کو عالمی خلائی اداروں کا ایک ترجیحی شراکت دار بنا دیا ہے۔ اب خلائی معیشت صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک قومی اثاثہ بن چکی ہے جسے ہزاروں نوجوان انجینئرز اور کاروباری افراد مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔بھارتی انترکش اسٹیشن کا 2035 تک قیام اور 2040 تک انسانی قمری مشن کا ہدف اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کی خلائی خواہشات کا سفر طویل بھی ہے اور اس کی سمت مسلسل بلندی کی جانب گامزن ہے۔
اختراع کی بنیاد پر خود انحصاری کا حصول
آتم نربھر بھارت یعنی خود کفیل بھارت،محض ایک سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ ایک رہنما اصول کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ نیشنل کوانٹم مشن، جس کے لیے چھ ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، دراصل کسی ایک ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم تکنیکی دوڑ میں بھارت کی اسٹریٹجک حیثیت میں سرمایہ کاری ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ ایسے مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں روایتی کمپیوٹرز حل نہیں کر سکتے۔ کوانٹم کمیونیکیشن نظریاتی طور پر ناقابلِ شکست انکرپشن فراہم کرتی ہے، جبکہ کوانٹم سینسنگ نیویگیشن، طبی تصویربندی اور ارضیاتی تحقیق کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔بھارت اب ان تمام صلاحیتوں کو اپنے ملک میں ہی تیار کر رہا ہے، جس کے لیے تھیمیٹک مراکز قائم کیے گئے ہیں جو جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کو ایک مربوط نظام کے تحت جوڑتے ہیں۔
نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن نے ملک بھر میں پونے، چنئی، کھڑگپور اور دیگر شہروں میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا ہے ،جس کے نتیجے میں بھارتی محققین، انجینئرز اور اسٹارٹ اپس کو وہ کمپیوٹیشنل قوت حاصل ہو رہی ہے جو کبھی صرف چند ممتاز اداروں تک محدود تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت جین، ملک کا پہلا حکومت کے تحت چلنے والا کثیر لسانی جنریٹو اے آئی پروگرام ایسے بڑے لینگویج ماڈلز تیار کر رہا ہے جو بھارتی زبانوں میں سوچنے اور رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف انگریزی بولنے والے صارفین تک محدود نہ رہیں، بلکہ وسیع تر عوامی سطح تک پہنچ سکیں۔
سال2014میں جہاں صرف 11اسپیس اسٹارٹ اپس موجود تھے، آج بھارت میں 400سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس سرگرم ہیں ،جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مؤثر پالیسی، عوامی سرمایہ کاری اور کاروباری جذبہ جب ایک ساتھ کام کریں تو کس طرح غیر معمولی تبدیلی ممکن ہو تی ہے۔
خود انحصاری کے اس وژن میں کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ( سی ایس آئی آر) کی شراکت ،خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ سی ایس آئی آر کے تحت تیار کیا گیا مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ ہنسہ-این جی ٹرینر طیارہ، جو ملکی اور برآمدی دونوں منڈیوں کے لیے بنایا گیا ہے، اس صلاحیت کی علامت ہے جس کی بھارتی انجینئرز نے شروع سے ہی بذات خود تخلیق دیا ہے۔بھارت کا پہلا ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والا بحری جہاز صاف اور ماحول کے لیے بحری نقل و حمل کی سمت ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح پائیدار ایوی ایشن، فیول پر جاری تحقیق فضائی سفر کو غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کے بغیر کاربن سے پاک بنانےکی نئی راہیں کھول رہی ہے۔سی ایس آئی آر انوویشن کمپلیکس، جو بھارت کا اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے، ایک ایسے مرکز کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں لیبارٹری کی تحقیق اور کاروباری توانائی باہم ملتی ہیں ، ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں سائنسی خیال اور مارکیٹ کے قابل مصنوعات کے درمیان فاصلہ منظم انداز میں کم کیا جاتا ہے۔
توانائی کا تحفظ اور مستقبل کے لیے تیار ٹیکنالوجیز
بھارت کی سائنسی تبدیلی کی کسی بھی مکمل تصویر میں نیوکلیائی توانائی کے میدان میں حاصل کی جانے والی اسٹریٹجک گہرائی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپریل 2026 میں کلپکم میں 500 میگاواٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر -ری ایکٹر کی پہلی اہمیت کی حامل کامیابی ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ ری ایکٹر مکمل طور پر بھارتی سائنسدانوں اور انجینئروں نے اندرا گاندھی سینٹر فار ایٹامک ریسرچ کے تحت تیار کیا ہے، جبکہ اس کی تعمیر بھارتیہ نابھیکیہ ودیوت نگم نے انجام دی ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کے تین مرحلوں پر مشتمل نیوکلیائی پروگرام میں ایک نہایت اہم پل کا رول ادا کرتی ہے، جس کا مقصد بالآخر تھوریم جیسے قیمتی اور بھارت میں وافر مقدار میں موجود ایندھن سے توانائی حاصل کرنا ہے۔توانائی کے عالمی منتقلی کے اس دور میں گھریلو وسائل سے صاف اور مسلسل توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت محض معاشی فائدہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور اہمیت کی حامل سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔
نیوکلیائی شعبہ اب صرف توانائی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے طبی میدان میں بھی اپنی گہری رسائی حاصل کر لی ہے۔ ٹاٹا میموریل اسپتال کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے ’’ریز آف ہوپ‘‘ یعنی امید کی ایک کرن کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جانا، ہومی بھابھا کینسر اسپتال نیٹ ورک کے تحت کینسر کے مراکز کی توسیع اور جدید ریڈیوفارماسیوٹیکلز کا استعمال، یعنی ایسی ادویات جو تابکار ذرات کے ذریعے کینسر کی تشخیص اور علاج میں مدد فراہم کرتی ہیں، ملک بھر میں مریضوں کو عالمی معیار کی کینسر کے تعلق سے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ اسی تسلسل میں 2025 کا شانتی ایکٹ بھارت کے جوہری شعبے کے قانونی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اس صنعت میں سرمایہ کاری اور شمولیت کے مواقع مزید وسیع ہوئے ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے جو بھارت کے صاف ستھری توانائی کے مستقبل میں مرکزی رول دا کرے گا۔
اس دوران ڈیپ اوشن مشن زمین کے آخری عظیم غیر دریافت شدہ محاذ — گہرے سمندروں — تک بھارت کے سائنسی دائرۂ اثر کو وسعت دے رہا ہے۔ سمندر کی تہہ میں موجود معدنی وسائل، خصوصاً پولی میٹالک نوڈیولز اور کوبالٹ سے بھرپور کرسٹس، صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کے لیے انتہائی اہم ہیں اور بھارت کی درآمد شدہ نایاب معدنیات پر انحصار کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ مشن زیرِ آب گاڑیوں اور جدید سینسر ٹیکنالوجیز کی ترقی کے ذریعے بھارت کو نہ صرف سائنسی طور پر بلکہ اس کے بحری حدود میں اہمیت کی حامل موجودگی بھی فراہم کر رہا ہے، جس سے ملک کی سمندری سلامتی اور تحقیقی صلاحیت دونوں ہی مضبوط ہو رہی ہیں۔
وِکست بھارت کے سفر میں سائنس بطور فیصلہ کن قوت
اب جبکہ بھارت 2047 کی طرف پیش قدمی کررہا ہے ، جو ہماری آزادی کا صد سالہ اور ایک مکمل ترقی یافتہ قوم بننے کا ہدفی سال ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی اس سفر میں محض معاون کردار ادا نہیں کریں گے، بلکہ اس کی رفتار اور سمت دونوں کا ہی تعین کریں گے۔گزشتہ 12 برسوں میں کی گئی سرمایہ کاری نے محض ادارے اور بنیادی ڈھانچے ہی نہیں بنائے ہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ پائیدار چیز، سائنسی جستجو کی ثقافت، کاروباری (انٹرپرینیور) توانائی، اور قومی اعتماد پر مبنی ایک نیا مزاج پیدا کیا ہے۔
انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن، جو مشن پر مبنی سائنس،ماہرین تعلیم اور صنعت کے باہمی اشتراک اور نوجوان محققین کو بااختیار بنانے کے ذریعے بھارت کے تحقیقی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے قائم کیا گیاہے اور حال ہی میں تشکیل دیا گیا ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ ہے، جس کا حجم ایک لاکھ کروڑ روپے ہے، بھارت کی اپنی فکری صلاحیت پر اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مذکورہ اقدامات اس پختہ یقین کی علامت ہیں ، جو بارہ برسوں کے تجربات سے مزید مضبوط ہوا ہے کہ ہمارے سب سے اہم اور پیچیدہ مسائل کے حل کسی بیرونی دنیا میں نہیں بلکہ ہماری اپنی تجربہ گاہوں، تعلیمی اداروں اور سماجی ڈھانچوں میں موجود ہیں۔
ڈوڈہ کی لیونڈر کی کاشت کرنے والی کسان خاتون، ویلورمیں جینومکس محقق، بنگلورو میں اسپیس اسٹارٹ اپ بانی اور کلپکم میں نیوکلیائی انجینئر یہ سب ایک ہی داستان کے کردار ہیں۔یہ اس ملک کی داستان ہے جس نے شعوری اور فیصلہ کن انداز میں سائنس کو اپنی ترقی کے مرکز میں رکھا ہے۔ گزشتہ بارہ سالوں میں جو کچھ تعمیر ہوا ہے وہ محض کامیابیوں کا کوئی مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مضبوط، گہری اور وسیع بنیاد ہے جس پر ایک ترقی یافتہ، خود کفیل اور سائنسی اعتبار سے پراعتماد بھارت ابھرے گا۔
مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیرِ اعظم کے دفتر، عملے،ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ہیں۔(بشکریہ پی آئی بی)