عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//ایس بی آئی نے مرکزی حکومت کو 8813 کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ دیانئی دہلی: ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک(ایس بی آئی)نے مالی سال 2025-26 کے لیے مرکزی حکومت کو 8813 کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ ادا کیا ہے۔ پیر کو بینک کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے یہ ڈیویڈنڈ چیک مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے حوالے کیا۔وزیر خزانہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے ایس بی آئی کی جانب سے مالی سال 2025-26کیلئے8813کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ چیک وصول کیا۔ حکومت کے مطابق یہ ادائیگی بینک کی مضبوط مالی کارکردگی اور مستحکم منافع بخش صلاحیت کی عکاس ہے۔ ماہرین کے مطابق ایس بی آئی کی جانب سے ادا کیا گیا یہ ڈیویڈنڈ مرکزی حکومت کی غیر ٹیکس آمدنی میں اہم اضافہ کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایس بی آئی ملک کے بینکاری نظام، مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔دریں اثنا، ایس بی آئی کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے حال ہی میں کہا تھا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کی اقتصادی بنیادیں مضبوط ہیں اور ملک کی طویل مدتی ترقی کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی استحکام اور ترقی کو تقویت ملے گی۔ممبئی میں ایک صنعتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افراطِ زر پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، تاہم موجودہ حالات میں شرح سود کو مستحکم رکھنا مالیاتی توازن برقرار رکھنے اور معاشی نمو کی حمایت کے لیے ضروری ہے۔سی ایس شیٹی نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اسٹاک مارکیٹ کے روزمرہ اتار چڑھا پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے بھارت کی طویل مدتی ترقی کے امکانات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکاری اصلاحات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مالیاتی شمولیت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ملک کی اقتصادی ترقی کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا، “صرف سینسیکس کو نہ دیکھیں بلکہ بھارت کو ایک طویل مدتی ترقی کی کہانی کے طور پر دیکھیں‘‘۔