زاہد بشیر
گول //سب ڈویژن گول کے علاقہ چنا اور ماسوا سم (اندھ)میں پلوں کی تعمیر کے وعدے ایک بار پھر عملی جامہ نہ پہن سکے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ برسوں سے ان پلوں کی تعمیر کے اعلانات و وعدے کئے جاتے رہے ہیں، مگر زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی لیڈران ہر انتخابی موسم میں ان پلوں کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں، لیکن انتخابات گزرنے کے بعد یہ وعدے بھی فائلوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ علاقہ چنا میں پل قریباً سات آٹھ سال قبل شدید سلاب کے دوران ڈھ گیا اور بھاری برکھم لوہے کا یہ پل اس وقت بھی چنا کے اسی دریا کے ایک طرف سے لٹکا ہوا ہے اور یہ پل علاقہ گاگرہ ، کلی مستا ، گنڈی ، گوئی ، ڈھاکہ کو سب ڈویژن گول کے صدر مقام پر ملاتا ہے ۔ وہیں ماسوا علاقہ کو سب ڈویژن گو ل کے ساتھ کے علاقوں کو ملانے والا یہ پل نہ صرف روزمرہ آمدورفت کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور بازاروں تک رسائی میں بھی کلیدی کردار اداکرتا ہے ۔ اگر چہ گزشتہ سال مقامی ڈی ڈی سی ممبر و ڈی ڈی سی چیئرپرسن نے یہ دہانی کرائی تھی کہ دونوں پلوں کی تعمیر جلد شروع ہو جائے گی لیکن ڈی ڈی سی ممبرا ن کی مدت ختم ہونے میں ایک گنے چنے دن رہ گئے ہیں لیکن یہ پل جوں کے توں ہیں ۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ان ممبران نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ چند ہی ہفتوں کے بعد پلوں پر تعمیری کام شروع ہو گا اور اس سلسلے میں محکمہ تعمیرات عامہ سے بھی بات ہوئی تھی لیکن یہ سب سراب ثابت ہو ا ہے ۔ علاقہ مکینوں کے مطابق بارشوں اور برفباری کے موسم میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے۔ ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث طلبہ، مریضوں اور بزرگوں کو جان جوکھوں میں ڈال کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی لیڈران محض وقت گزاری میں مصروف ہیں اور عوامی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ مقامی لوگوں نے ایم ایل اے بانہال سجاد شاہین اور ضلع انتظامیہ و متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ چنا اور ماسوا سم پلوں کی تعمیر کو فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔علاقہ کے مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد از جلد عملی اقدامات نہ کئے گئے تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔