محمد تسکین
بانہال //ضلع ترقیاتی کونسل بانہال کے کونسلر اور سینئرکانگریس لیڈر امتیاز احمد کھانڈے نے بانہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر اسمبلی بانہال پر ترقیاتی کاموں کو اپنے نام کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے بانہال پنچایتی راج اور ڈی ڈی سی کونسل کے تحت برسوں قبل منظور و مکمل کیے گئے ترقیاتی کاموں کا غلط طور پر کریڈٹ لے رہے ہیں اور وہ پچھلے چند مہینے سے ایسے کاموںکا ربن کاٹ رہے ہیں اور متعلقہ وزراء سے متعلقہ افسروں کو دباؤ ڈال کر پرانے کاموں پر نئے پتھر چڑھائے جا رہے ہیں۔ امتیاز احمد کھانڈے نے الزام لگایاکیا کہ ممبر اسمبلی بانہال عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو دراصل منتخب پنچایت نمائندوں اور ڈی ڈی سی اداروں کی کاوشوں سے انجام پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس ایسے کاموں کو اپنی سرکار کے اقدامات کے طور پر اجاگر کر رہے ہیں جن کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگت پرائمری ہیلتھ سینٹرچار سال پہلے وقار رسول سے تعمیر کیا ہے اور موجودہ۔ممبر اسمبلی بانہال نے اس پر بھی اپنے نام کا پتھر ڈال دیا ہے جبکہ ڈولیگام کے پل پر ڈیڑھ سال سے ٹریفک چل رہا ہے اور وہ ان کی کوششوں سے تعمیر کیا گیا ہے اور اس پر بھی ممبر اسمبلی نے رسم افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت برسوں سے مظوری کے مراحل سے گزرے سڑک پروجیکٹوں کا آن لائن رسم افتتاح ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر جتندر سنگھ چکے ہیں اور اب ممبر اسمبلی بانہال اپنی حکومت کے ذریعے متعلقہ افسروں پر دباؤ ڈال کر نام لکھا پتھر لگا رہے ہیں اور پہلے سے ہی کئے گئے کاموں کا ربن کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے ممبر اسمبلی بانہال پر کہا ممبر اسمبلی کے اختیارات صرف اپنے کانسچونسی ڈیولپمنٹ فنڈس پر ہیں اورکروڑوں روپے مالیت کے پروجیکٹوں پر اپنے نام کے پتھر لگوا رہے ہیں۔ کونسلر امتیاز احمد کھانڈے نے مزید کہا کہ ایم ایل اے بانہال اور این سی حکومت اپنے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور مفت بجلی ، نوکریاں اور مفت راشن کا خواب خواب ہی بن کر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے کیے گئے بڑے بڑے دعوے آج تک پورے نہیں ہوئے تاہم ممبر اسمبلی بانہال زمینی سطح پر منتخب اداروں کی محنت کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرکے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔