رشید پروینؔ
با لآخر غزہ کو ملبوں کے ڈھیروں میں تبدیل کرنے کے بعد ٹرمپ نے اپنا بیس نکاتی منصوبہ اپنی غلام اور نام نہاد اقوام متحدہ میں پاس کرا لیا۔17 نومبر 2025کو سلامتی کونسل نے امریکہ کی تیار کردہ قرار داد پاس کی ، یہ بیس نکاتی قرار داد 13ووٹوں سے پاس ہوئی اور چین اور روس نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان نے بھی اس قرار داد کی حمایت میں ووٹ دیا ، اس پس منظر میں یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ پاکستانی فارم 47کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس مسودے کو پڑھے اور دیکھے بغیر ہی اس کی حمایت کی تھی ،پاکستان کے ہٹلر اور فوجی ڈکٹیٹر نے تو ٹرمپ کو نوبل انعام کے لئے بھی نمبر ون امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا ، یہ غلامانہ طریق اور ذہنیت کی اس دور میں روشن مثال قرار دی گئی ، ان کی داستاں بس اس ایک شعر میں ہی بند ہے کہ ؎
امیر شہر نے بستی اجاڈ ڈالی ہے
بس ایک شخص کو برباد دیکھنے کے لئے
ٹرمپ کی یہ قرار داد اصل میں کیا ہے اور اس سے کیا واضح ہوجاتا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ نے صرف چند مہینے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ’’ اسرائیل فتح کے بعد غزہ ہمیں سونپ دے گا اور ہم اس سے سیر و تفریح کی جگہ بنادیں گے ‘‘ اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ ایک جان دو قالب ہیں اور اصل میں امریکی رگِ جاں کی حیات اورسانسیں اسرائیل میں ہی اٹکی ہوئی ہیں اور کوئی بھی امریکی صدر اس رگ ِ جان سے کسی بھی صورت میں انحراف نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ ہی وہ پہلا امریکی صدر ہے جس نے اپنی پہلی صدارتی باری میں اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا تھا اور یہ وہ صدر ہے جس نے اس جنگ کے دوران اسرائیلی پیٹھ ٹھونکنے میں کوئی پردہ داری نہیں کی اور صاف اور واضح الفاظ میں کہا کہ ’’کچھ بھی ہو ،ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔‘‘ جو قرار داد پاس ہوچکی ہے، اس کا متن اور اس کی روح ہر لحاظ سے اسرائیلی عزائم اور منازل کی نگہداشت ہے اور ایک نئے اور پُرفریب انداز میں غزہ کو اسرائیلی تصرف میں دینے کا واضح اعلان اور مقصد ہے۔ یہ ایک یکطرفہ دستاویز ہے جو ہر لحاظ سے اسرائیلی حق میں بنادی گئی ہے اور اس میں کہیں اور کسی بھی شق میں ایسا نہیں لگتا کہ غزہ کی ترجمانی بھی کی گئی ہو ۔ قرار داد کے مطابق ایک بین ا لاقوامی فورس تشکیل دی جائے گی جو غزہ کی عسکری قوت ختم کرے گی ، حماس کو غیر مصلح کرے گی اور حماس کی تنظیمی اور عسکری قوت ختم کرے گی۔حیرت کی بات ہے امریکہ نے اپنے غلاموں کی افواج جمع کرنے کا پلان بنایا ہے، جس سے وہ بین الاقوامی بناکر پیش کر رہا ہے، جس میں آذر بائجان اور پاکستان جیسے امریکی پلوے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ افواج ہر لحاظ سے امریکی اور اسرائیل کے مفادات کی پاسبانی کرنے پر مجبور ہوگی اور اسطرح سے غزہ کے نہتے مسلمانوں کو اپنے برادر مسلم ممالک کی فوج سے ہی گولیوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اس فوج کو اپنے مفادات میں استعمال کرکے غزہ سے عوام کو دوسرے مر حلے میں نہ صرف بے دخل کرے گا بلکہ عوام کا بے دریغ قتل عام بھی ہوگا ، کیونکہ اس کے بغیر گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا جو صدیوں سے اسرائیل کی منزل ہے اور اگر وہ اس وقت اپنی منزل کی طرف تیز رفتاری سے ہر دیوار ڈھاکر آگے نہیں بڑھے گا تو شاید پھر اس کے لئے ایسے موافق اورحالات پیدا نہ ہوں۔کیونکہ اس دور میں عربی اور عجمی دونوں مسلم برادری کا شیرازہ مکمل طور نہ صرف بکھر چکا ہے بلکہ وہ عملی طور پر ذہنی طور دیوالیہ بھی ہوچکے ہیں اور ان کی حالت زار اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ اندھے ، بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں جنہیں اپنی تباہی اور بربادی کے افسانے نوشتہ دیوار نظر نہیں آرہے ۔ اسرائیل کے لئے اس سے زیادہ موافق دور مستقبل میں ہوکہ نہ ہو۔ بہر حال امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ صاف اور واضح ہے کہ وہ ایک بہت بڑا ڈرامہ کھیل رہے ہیں اور اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس آخری مزاحمت کو ختم کرکے گریٹر اسرائیل کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس معاہدے کو تسلیم کرنے کے باوجود اسرائیل نہ تو نسل کشی روک رہا ہے اور نہ نہتے شہریوں پر بمباری میں کوئی کمی آنے دیتا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ بیمار ، کمزور اور فالج زدہ اقوام متحدہ ہے جو مکمل طور پر امریکی داشتہ کا روپ دھار چکی ہے ، ویسے بھی اب تک اکتوبر سے اور تب سے جب اس معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ہیں ،اسرائیل نے بار بار اس معاہدے کی خود ہی دھجیاں اڑائیں ہیں اور اب تک اعداد و شمار کے مطابق چار سو بار اس معاہدے کو تار تار کیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد بھی تین سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ذرائع کے مطابق پندرہ سو سے زیادہ عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں ، اور حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک اپنی زباں اور آنکھیں بھی بند کر چکے ہیں اور کسی بھی ملک میں یہ قوت اور اخلاقی جر أت نہیں کہ اپنا احتجاج ہی درج کراسکے۔ ظاہر ہے کہ یہ معاہدہ حماس کے ساتھ نہیں کیونکہ انہوں نے پہلے ہی دن اس سے مسترد کیا ہے اور امریکی اثر سے غالب اس پر دوسرے امریکی حلیفوں نے اس معاہدے پر دستخط کئے ہیں ،جس میں مصر اور قطر جیسے امریکی غلام شامل ہیں ۔ معاہدے در اصل برابر طاقت کے درمیان ہوتے ہیں یہاں تو حال ہی بالکل مختلف ہے ، حماس کا امریکہ ، اسرائیل اور یورپی یونین کے ساتھ طاقت کے لحاظ سے کیا موازنہ ہوسکتا ہے ؟ایک بیل گاڑی پر سوار اور دوسرامیزائل اور دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی ، ایٹمی پاور اور دوسرے ایسے ہتھیاروں کا ،جن کا ہم ابھی تک تصور بھی نہیں رکھتے ،کا حامل ہے۔ سو، امریکی صدر بار بار کہتے رہے ہیں کہ حماس کو ہماری شرطوں پر امن معاہدہ کرنا ہوگا، نہیں تو ہم ان پر جہنم کے دروازے کھول دیں گے ۔ دوسرا اوپشن اقوام متحدہ ہوسکتا تھا ، جو اگر فعال اور طاقتور ہوتا تو بہت ساری جنگیں روک سکتا تھا ، عدل اور انصاف سے کام لے کراپنے وجود کا احساس دلاتا ۔ لیکن یہ ادارہ تو خود ہی امریکی قدموں کی دھول بن کے رہ گیا ہے اور اس کے سیکریٹری بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بیانات داغنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے، ظالم اور غاصب کے سامنے حق بات کہنے کی ہمت اور جرأت نہیں ، اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خیال سے لرزاں و پریشان ، کیونکہ یہ سب عہدے دار امریکہ بہادر ہی کے پیادے ہوتے ہیں ۔ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ اس ادارے نے کبھی کسی ملک کے حق میں انصاف بر مبنی فیصلہ نہیں دیا ، نہ کمزور اور ناتواں کی نگہبانی کی، نہ اس کے مفادات کی حفاظت کی۔ اس ادارے کی تاریخ کے ایک ایک پنے سے بدبو ئیں اٹھ رہی ہیں ، کیونکہ نہ تو یہ دنیا میں امن قائم کر سکا ، نہ عدل کی میزان کو بر قرار رکھ سکا اور نہ کسی ملک کی جارحیت کو روک سکا ہے ۔ امریکی بے رحمی اور سفاکی کی مثالیں اتنی مہیب ہیں جن میں جاپان کی آبادیوں پر دو ایٹم بموں جیسے انسانیت سوز جرائم بھی شامل ہیں۔ امریکہ ویتنام پر حملہ آور ہوا اور اٹھارہ سال تک اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے باوجود جنگ ہار گیا ،لیکن لاکھوں انسانی جانوں کو اپنی اناا ور غرور کی بھینٹ چڑھاگیا ، اور پچھلی دہائیوں میں کئی عرب مسلم مملکتیں خاک اور خون کے ڈھیروں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ کسی ملک میں اورکسی ادارے میں اتنا دم بھی نہیں کہ حق کو حق کہہ سکے ، اور زباں کھول کر امریکہ بہادر کے ہاتھوں پر لگے کروڑوں عوام کے خون پر صرف اظہار افسوس ہی کر سکے۔ اب تک محض اسرائیل کی خوشنودی اور اس کے عزائم کی تکمیل کے طور پر امریکہ لگ بھگ تمام مسلم ممالک کوفنا کے گھاٹ اتاچکا ہے ، دیکھا جائے تو یہ مسلم ممالک جو قدرتی معدنیات اور پیٹرول کی وجہ سے دنیا کی لیڈنگ اور مستحکم معاشیات میں سر فہرست ہیں ، سب امریکی آقاؤں کے سامنے سر بسجود ہیںاور اسرائیل کی یہ حکمت عملی ایک نئے ورلڈ آرڈر کو جنم دینے میں کامیاب ہوچکی ،جس میں ساری دنیا کو کنٹرول اسرائیل سے ہی ہونا ہے اور لگ بھگ ہوچکا ہے ۔اس سارے پسِ منظر میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی پسند اور مفادات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ نام نہاد امن منصوبہ نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ اس کی عمل آوری کو بھی مسلم ممالک سے ہی ممکن بنانے کے تمام اقدامات کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نام نہاد بین ا لا قوامی فورس میںایسے مسلم ممالک کی افواج کو غزہ میں تعنیات کرنے کی تجویز ہے جس کی کمان مکمل طور پر امریکی ہاتھوں میں ہوگی اور امریکہ کسی طرح مسلم عوام کا دوست ہو ہی نہیں سکتا ۔ غزہ کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے اور یہاں صدیوں سے بودو باش رکھنے والے مسلم عوام سخت آزمائش میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ غزہ کی اس حالت زار کے لئے صرف اسرائیل اور امریکہ ہی ذمہ دار نہیں ہوں گے بلکہ وہ سارے مسلم ممالک بھی اس جرم میں اُتنے ہی شریک اور ذمہ دار ہیں جو مظلوم کے لئے آواز تک بھی نہ اٹھا سکے۔