یواین آئی
واشنگٹن//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آئندہ سال میامی میں ہونے والے جی20 اجلاس میں جنوبی افریقہ کو مدعو نہیں کرے گا، جس سے واشنگٹن اور پریٹوریا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔جنوبی افریقہ کو ایک ایسی ریاست قرار دیتے ہوئے جو “کہیں کی رکنیت کے قابل نہیں”، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سال کے عالمی اجلاس میں امریکی حکومتی نمائندے کے ساتھ کیے گئے سلوک کے باعث اس ملک کو دی جانے والی تمام ادائیگیاں اور سبسڈیاں بند کردیں گے۔ امریکی صدر یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے جوہانسبرگ میں منعقدہ تازہ ترین جی20 اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، حالانکہ وہ جی۔20 کا بانی رکن اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔جی۔20 سربراہ اجلاس غیر متوقع سفارتی تنازع پر ختم ہوا جب میزبان ملک جنوبی افریقہ نے جی۔20 کی روایتی گیول تقریب میں باری کے اعتبار سے امریکہ کو باضابطہ طور پر منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گیول کسی “جونیئر” امریکی نمائندے کو نہیں دیا جاسکتا۔امریکہ 2026 میں جی20کی صدارت سنبھالنے والا ہے۔ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے مبینہ طور پر صدر سیرل راما فوسا کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کے بارے میں “غیر ضروری باتیں” کرنے سے باز رہیں۔ جنوبی افریقہ کا کہنا تھا کہ چونکہ واشنگٹن نے سربراہ اجلاس میں کم درجے کے سفارتی اہلکار کو بھیجا، اس لیے گیول حوالے کرنے کی تقریب میں بھی انہیں اسی درجے کے نمائندے کو پیش کرنا تھا۔