ایک موتی تہ آب
معاشرے کی وارفتگی کے متعلق
فی الحال مجھے کچھ نہیں کہنا ہے
نہ میں ذکر اُس دھول کا کروں گا
جس نے ساری سلیٹ بے رنگ کر دی ہے
نہ میں گیت وہ لکھوں گا
جو دل نے گائے ہی نہیں
بس ایک فسانہ ہے ادھورا
جو کرنا ہے پورا مجھے۔۔۔۔
ایک موتی ہے تہہ آب سمندر بند
اک سیاہ گھر میں روپوش
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں
روز و شب ہی منظروں میں
دھوپ میں اور بارشوں میں
بادلوں کے آنسوئوں میں
آسماں کے آنگَنوں میں
اور زمیں کی چھاتیوں میں
خار میں اور گلشنوں میں
خامشی کی دھڑکنوں میں
شام کی سر مستیوں میں
رات کی سرگوشیوں میں
صبح دم کی راحتوں میں
درد و غم کی ساعتوں میں
اجالے ظلمتوں میں قید
ہوائیں منتشر اوراق
لبوں پر آکے ٹھہرے راگ
کہ ہر سو چیختے ہیں زاغ
نظر کو نورِ خاک بھی ہے
کہ جلوئہ لولاک بھی ہے
موسموں کا رقص بھی ہے
سامری کے کھیل بھی ہیں
چا ند د ھرتی کی گھٹن بھی
رات دن کے میل بھی ہیں
اِک سیاہ ساگر بھی پھیلا
ایک موتی بھی اکیلا
جس کو پانے کی تمنّا
ہی مری دیوا نگی ہے
مشتاق مہدیؔ
مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرتبل سرینگر،کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053
چلیں کشمیر کی جانب
فکرِ سخن کا پھوٹ پڑا پھر سے غبارا
ہم نے لیا پھر قلم اور قرطاس کا سہارا
ذہنِ حساس پہ ہوا کشمیر پھر حاوی
احساس ہوا یہ کہ پھر آذرؔ نے پُکارا
کیا اب میں لکھوں آپ کو کہو عزتِ مآب
کچھ میں لکھوں گر کشمیر پہ نہیں بس میں ہے جناب
رشیوں کی یہ آماجگاہ ہے منیوں کا اکھاڑا
آمد ہوئی ولیوں کی یاں، ہے انکا بھی باڑا
اہلِ نظر نے اسکی یہ رُوداد لکھی ہے
کچھ اغیار کی آمد نے یاں ماحول بگاڑا
پھر بھی یہ جائے کشپؔ ہے عالم میں لاجواب
یہ خطۂ فردوس ہے خالق کا انتخاب
یہ سرزمیں تاریخ داں کلہنؔ کی امیں ہے
یاں پر ہی اُس کا پشتینی اعیال مکیں ہے
حشمتؔ کی تاریخ میں ہے اسکا حوالہ
جائے کشپؔ کا فطرتاً ہر فرد زہیں ہے
ہر فرد متاعِ علم و ہُنر سے ہے فیضیاب
یہ خطۂ فردوس ہے عالم میں جواب
یہ اقبال کے اجداد اور چکبست کی زمیں ہے
مہجورؔ وحبہؔ، میرؔ بھی یاں کا مکیں ہے
بعد از مرگ بھی ان کی ابھی شہرت دوام ہے
فردوسؔ نے کہا ہے یہ جنت سے حسیں ہے
دستِ یزل میں دراصل اسکی ہے آب و تاب
مؤجب اسی کے دوستو کشمیر ہے لاجواب
دلکش وہ دلفریب ہیں کیا ڈلؔ کے مناظر
تعمیر اس پہ انگنت یہ تیرتے ہوئے گھر
انجاں کیلئے یہ اِک کرشمہ ہائے گراں ہے
کرتی ہے کیسے خلق اِن میں زندگی بسر
کتنا لطیف اِن کیلئے ہے یہ زندگی کا باب
المختصر! عُشاقؔ ہے کشمیر لاجواب
عشاقؔ کشتواڑی
حال جموں
موبائل نمبر؛9697524469
باپ
زندگی کی الجھنوں میں جب الجھ جاتا ہے باپ
بھول جاتا ہے سب تھک کے گھر آتا ہے باپ
در بہ در کی ٹھوکریں ‘ کیا کیا نہ سہہ جاتا ہے باپ
خود پریشان ہو کے بھی گھر میں خوش رہتا ہے باپ
اپنی اک اک سانس بھی رکھتا ہے گروی چاو سے
وقت کی منڈی میں بھی ہنس ہنس کے بک جاتا ہے باپ
اپنے بچوں کی خوشی کو با عمل لاتا ہے باپ
وقت پڑنے پر کبھی ماں بھی بن جاتا ہے باپ
باندھ کے سہرا اُمیدوں کا پسر کے سر پہ جب
اپنی خوشی کو رات دن لے کے اِتراتا ہے باپ
جب کھبی دیوار کے اُس پار رہتا ہے پسر
چپکے چپکے رات دن آنسو بہا جاتا ہے باپ
لوٹ کے آئیگا وہ در پہ رہ جاتا ہے باپ
دیکھ کر سوے فلک سوچتا رہتا ہے باپ
تھام کر انگلی جسے چلنا سکھلاتا ہے باپ
ایک دن اپنے سہارے کو ترس جاتا ہے باپ
فکر کے شمشان میں چپ چاپ جل جاتا ہے باپ
موت کی چادر میں اک دن تھک کے سو جاتا ہے باپ
شکر ہے سد شکر ہے ساقی ؔسبھی بچے تیرے
جن کی ترقی کے لئے ان کو دعا دیتا ہے باپ
امداد ساقی
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9419000643
سچ اور سپنا
میں نے بھی
دھرتی کے ماتھے پر
سجایا تھا
دل کے لہو کا
ایک ٹیکہ۔
لہلہائے تھے
کھیتوں کے منظر
نظروں کی دوڑ تک
اور
پھر
ایسی چلی پُروائی
بکھرا دیئے
سارے خواب
رہ گیا ایک سچ
کہ میں زندہ ہوں
سعید احمد سعید
احمد نگر سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9906726380
نظم
دل کو زخم ہوئے دکھانے پڑیں گے
سسٹم کو چلوا کے بھروانے پڑیں گے
مرحم پٹّی ہو نشان دکھائی نا دیں
سینوں کےساتھ سینےلگانے پڑیں گے
وہ جاگے ہوئے بھی سوئے رہتے ہیں
نیند سے پھر سب جگانے پڑیں گے
مفلسوں کی پکاریں بڑھ رہی ہیں
ہوتے جو ظلم ستم، ہٹانے پڑیں گے
دل کو سکون ملے جینا ہو آسان
محبت کے ستارے چمکانے پڑیں گے
کُنڈریاؔ زندگی کا سفر قیام کرتا رہے
رشتےوعدوں کےسب لوٹانے پڑیں گے
دل کے زخم ہمیں دکھانے پڑیں گے
سسٹم کو چلوا کے بھرانے پڑیں گے
عبدالقادرکُنڈریا