محتشم احتشام
پونچھ // ضلع پونچھ کی اہم اور مصروف ترین شاہراہ چنڈک تا منڈی گزشتہ کئی برسوں سے انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔ جگہ جگہ گہرے گڑھوں، ٹوٹ پھوٹ، کیچڑ اور بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کی وجہ سے یہ سڑک عوام کے لئے دردِ سر بن گئی ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ روزانہ اس راستے سے سینکڑوںطلباء ، سرکاری ملازمین، تاجر اور مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسیں گزرتی ہیں، لیکن سڑک کی بدحالی نے ان سب کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس شاہراہ کی مرمت اور پختگی کا کام نہ شروع کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔عوامی حلقوں نے بتایا کہ اس سڑک پر روزانہ چھوٹے بڑے حادثات معمول بن چکے ہیں۔ گاڑیاں آئے روز خراب ہوتی ہیں اور مسافر کئی کئی گھنٹے اذیت ناک سفر برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر مریض ہوتے ہیں جو بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے سڑک کو ’’عذاب‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ سفر اب سہولت نہیں بلکہ جان جوکھم کا باعث بن چکا ہے۔علاقہ مکینوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بڈھا امرناتھ یاترا کے دوران حکام وقتی طور پر اس راستے پر توجہ دیتے ہیں، مگر یاترا کے اختتام کے ساتھ ہی سڑک کو دوبارہ نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ سال کے باقی مہینے عوام ٹوٹے پھوٹے راستے پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے پر مجبور رہتے ہیں۔ یہی حال منڈی تا لورن اور منڈی تا ساوجیاں سڑکوں کا بھی ہے جہاں اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گڑھے بھرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندے محض وعدوں اور بیانات تک محدود ہیں، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ شہریوں کے مطابق ’’ترقیاتی دعوے صرف تقریروں اور کاغذی کارروائی تک محدود ہیں‘‘۔ عوامی شکایات اور بارہا تحریری درخواستوں کے باوجود محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) نے تاحال کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا۔اس صورتحال نے نہ صرف شہریوں کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی مرمت پر بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر کرایوں پر پڑتا ہے اور عوام کی جیب مزید خالی ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب کسان طبقہ بھی شاکی ہے کہ زرعی اجناس منڈی تک پہنچانے میں وقت اور پیسے دونوں زیادہ لگتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر سڑک کی فوری مرمت شروع نہ کی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے اور یہ معاملہ اعلیٰ حکام تک لے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک سہولت کا مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ شہریوں نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری ایکشن لے کر اس شاہراہ کو بحال کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور ترقی کے دعوے زمین پر اترتے نظر آئیں۔