عاصف بٹ
کشتواڑ// ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ واڑون کے مرگی میں بادل پھٹنے کے واقعات کے چار روز بعد بھی عوام امداد کی منتظر ہے جبکہ چوتھے روز بھی ضلع انتظامیہ کے کسی افسر نے حالات کا جائزہ لینے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مرگی پنچایت ضلع کشتواڑ کی سب سے بڑی پنچایت ہے جہاں 700خاندان رہتےہیں،سیلاب نے پورے علاقے کو نقصان پہنچایاجس میں مکانات،جامع مسجد، جانور، زرعی اراضی و فصلیں شامل ہیں لیکن اسکے باوجود انتظامیہ خواب غفلت میں ہے۔ چار روز بعد بھی انتظامیہ کے کسی افسر نےعوام کی سدھ بدھ لینے کی زحمت تک گوارا نہ کی اور لوگ کھلے اسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔سجاد احمدنامی مقامی شہری نے بتایا کہ کئی افراد ایسے ہیں جنکا کچھ سہارا نہ رہا ،سیلاب نے انکا سب کچھ لوٹ لیا، اب یہ لوگ امداد کے منتظر تھے لیکن انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی امداد نہ پہنچی جسکے سبب عوام سخت پریشان ہے۔مقامی لوگوں نے علاقے کے چوکیدار پر سنگین الزامات عاید کرتے ہوے کہا کہ اسکی من مرضی سے علاقے کو نقصان پہنچا ،اگر بروقت پانی کے بہائو کو دوسری طرف موڑدیاہوتا تو علاقے کو اتنا نقصان نہ پہنچتا لیکن چوکی دار کی من مرضی سے یہ نقصان پہنچا، اسکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ سیلاب سے پیدا ہوئی صورتحال کی تصویریں صاف بیان کررہی ہیںکہ کس طرز پر علاقے کو نقصان پہنچا ہے ۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ کوئی بھی محکمہ زمینی سطح پر موجود نہیں ہے جو عوام کی مدد کرسکے۔ اس واقعے میں20مکانات مکمل طور تباہ ہوئے ہیں جبکہ 100سے زائد کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ جامع مسجد کو بھی نقصان پہنچاہے ۔وہیں سینکڑوں کی تعداد میںجانور بھی شامل ہیں جبکہ کئی سو کنال اراضی بھی تباہ ہوئی ہے اور انتظامیہ کی مکمل تفصیلات کا ہنوز انتظار ہے۔