۔ 2000سے زیادہ گاڑیاں درماندہ،گریز میں بادل پھٹے،جہلم کے پانی کی سطح میں کمی
بلال فرقانی
سرینگر//بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال کے بعد جموں ڈویژن کی آبگاہوں اور درجنوںبستیوں میں پانی کی سطح کم ہوگئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوںمیں راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے، تاہم 50کے قریب دیہات ابھی بھی منقطع ہے۔ادھر جہلم اور معاون ندی نالوں میں بھی پانی کی سطح تقریباً 8فٹ کم ہوگئی ہے جبکہ اننت ناگ ٹائون میں کئی علاقے بدستور زیر آب ہیں۔جموں میں تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں جبکہ عوامی نقل وحمل محدود اورکاروباری سرگرمیاں مسدود ہوکر رہ گئی ہیں۔اس دوران سرینگر قومی شاہراہ پچھلے 4دن سے بدستور بند ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو اسے کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔
جموں/سرینگر
جموں ڈویژن کے تمام دریاؤں میں پانی کی سطح جمعہ کو خطرے کے نشان سے نیچے گرنے کے بعد، فوج، فضائیہ، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، جموں و کشمیر پولیس اور دیگر ایجنسیوں کیساتھ راحت اور بچاؤ کارروائیاں جاری رہیں تاکہ پچھلے5 دنوں کے دوران سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ جموں، کٹھوعہ، سانبہ، ادھم پور، ریاسی، رام بن اور ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں ٹیلی کام کمپنیاں خدمات کو مکمل طور پر بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔کٹھوعہ ضلع کے بنی سب ڈویژن میں تین دن سے فون سروس نہیں ہے، جبکہ جموں شہر کے مضافات کے کچھ حصوں میں بھی موبائل نیٹ ورک میں خلل پڑا ہے۔بجلی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہے۔ پرانے جموں شہر میں بھی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے پنجتیرتھی، جین بازار اور ملحقہ علاقوں میں بجلی غائب رہی۔ادھر جہلم میں سطح آب معمول پر آرہی ہے۔بدھ کو سنگم میں جہاں دریائے جہلم کی سطح آب24فٹ تک پہنچ گئی تھی جمعہ شام کو8فٹ تک پہنچ گئی جبکہ رام منشی باغ میں13فٹ اور عشم میں10.5فٹ ریکارڈ کی گئی۔دریائے جہلم کے علاوہ دیگر معاون ندی نالوں اور جھیلوں جن میں ولر،ویشو، رمبی آرہ لدر،نالہ سنگ،نالہ پہرو، رومشی نالہ، آڑو، شش ناگ نالہ، آری پل نالہ،دودھ گنگا،داچھی گام، نالہ ارن اور مد متی نالہ میں بھی سطح آب معمول پر آگئی ہے۔
گریز
بانڈی پورہ ضلع میں گریز کی تحصیل تلیل کے زادگئی گا ئوں کے رہائشی اس وقت خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے جب شدید بارش سے مقامی ندی میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بارش کے دوران پانی کی سطح غیر متوقع طور پر بڑھ گئی، جس سے درخت پانی کیساتھ نیچے کی طرف بہہ گئے۔ شیئر کی گئی ویڈیوز میں، پریشان دیہاتیوں کو خوف کے مارے چیختے ہوئے اور اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ایک مقامی رہائشی شبیر احمد نے کہا، “پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی اور یہ خوفناک تھا، ہم اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔”بہت سے دیہاتیوں کو شبہ ہے کہ شاید “بادل پھٹنے” سے سیلاب آیا تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔یہ واقعہ شام 6 بجے کے قریب پیش آیا۔ایس ڈی ایم گریز مختار احمد نے کہاکہ زادگئی گا ئوں کی طرف جانے والی سڑک کو سیلاب کی وجہ سے جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، جو دریائے کشن گنگا سے نکلتا ہے۔
قومی شاہراہ
جموںسرینگر قومی شاہراہ جمعہ کو مسلسل چوتھے روز بھی ٹریفک کے لئے بند رہی کیونکہ ادھم پور-رام بن سیکٹر میں شدید بارشوں کی وجہ سے متعدد مٹی کے تودے گرنے سے 2000 سے زیادہ گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ منگل کو ادھم پور میں جکھینی اور چنینی کے درمیان کئی مقامات پر شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد متعدد مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے شاہراہ بند ہو گئی ۔ٹریفک پولیس نے بتایا کہ جمعہ کو ہائی وے چوتھے دن بھی بند رہی اور جموں کے نگروٹہ سے ریاسی، چنینی، پٹنی ٹاپ، ڈوڈا، رام بن، بانہال اور سرینگر کی طرف کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔حکام نے کٹرا اور ادھم پور قصبوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے اپنے فوٹو شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کو آسانی سے ممکن بنایا جاسکے۔اس کے علاوہ جموں خطہ میں نو بین الاضلاع سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑک کے کٹا ئوکی وجہ سے بند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں، سانبہ، کٹھوعہ اور ادھم پور کے درجنوں دیہات شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے منقطع ہو گئے ہیں۔شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے لکھن پور، کٹھوعہ، جموں، نگروٹہ، ادھم پور سمیت مختلف مقامات پر 2000 سے زیادہ گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر ادھم پور، سلونی رائے نے ہائی وے کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ سنیچر کی شام تک رابطہ بحال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس آفت نے ہائی وے کو کافی نقصان پہنچایا ہے، مختلف ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، بحالی کا کام زوروں پر ہے، اس پیش رفت کی نگرانی لیفٹیننٹ گورنر بھی کر رہے ہیں۔ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق کشتواڑ-سنتھن-اننت ناگ ہائی وے LMVs کے لیے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق مغل روڈ پر ٹریفک چل رہی ہے۔
ایڈوائزری
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ30 اگست سے 2 ستمبر تک کہیںپر ہلکے سے درمیانہ درجے کی بارشوں کا مکان ہے۔ 30 اگست سے 2 ستمبر کے دوران جموں صوبے کے مختلف اضلاع میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش متوقع ہے، جب کہ چند مقامات پر موسلادھار بارش اور گرج چمک کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔3 سے 7 ستمبر کے دوران موسم عمومی طور پر گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم چند مقامات پر مختصر دورانیے کی ہلکی بارش یا گرج چمک ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 اگست کی صبح سے لے کر یکم ستمبر کی رات دیر گئے یا 2 ستمبر کی صبح تک کچھ علاقوں میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران پہاڑی اور حساس علاقوں میںسیلابی ریلے، مٹی کھسکنے، مٹی کے تودے اور پتھروں کے گرنے جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔