رشید پروین،ؔ سوپور
صوتی ملاقاتوں کے دوران فریدہ شوق ؔکے جو خدو خال میرے ذہن میں بس چکے تھے ۔روبرو کئی ملاقاتوں کے دوران میں نے اس سے کچھ اور، کہیں اور، منفرد اور الگ سی پایا اور یہ تصور اِس شعر سے میل کھاتا ہے،’ ’وہ سبھی دریا آکر مجھ میں ضم ہوئے‘‘ لیکن میرے ذہن میں بس یہ تھا کہ وہ ایک بہترین استاد ہیں ، ایک شاعرہ ہے ، ایک باوقار سماجی کارکن ہے اور یہ کہ وہ نہ صرف سٹیٹ ایوارڈلے چکی ہیں بلکہ قومی سطح پر اسکی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے، ایک بہترین استاد اور اس شعبے میں اس کی بہترین کارکردگی کی پذیرائی کرتے ہوئے اس سے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے ، جو قومی سطح پر ان کے بلند و بالا مقام اور ان کی منفرد شخصیت کو تسلیم کرنا اور اس کی اپنے شعبے میں ان کی خدمات کو قبولیت عطا کرنے کی واضح علامت کہی جاسکتی ہے۔ میں نے انہیں بھی ان سینکڑوں ادب نواز اور ماہرین تعلیم کی صفوں میں شامل کیا تھا جن سے میں آشنا ہوں اور ان شعرا کے زمرے میں رکھا تھا جن پر میں نے وقتاً فوقتاً اپنے تاثرات اور ان کے فن اور شاعری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ان ہی کالموں میں کیا ہے۔ اس جملے کے ساتھ کہ میں کوئی تنقید نگار نہیں، شاعری کو پرکھنے کا دعویٰ نہیں رکھتا ۔ بس کسی شعر یا غزل کے پڑھنے کے دوران جن احساسات اور جذبات سے دوچار ہوتا ہوں ، انہیں الفاظ کا پیرہن عطا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ظاہر ہے کہ یہ میرے اپنے تاثرات ہی ہوتے ہیں کوئی تنقیدی جائزہ اور کسوٹی نہیں کہلائی جاسکتی ، یہ بات مجھے صرف ادب نوازوں ہی میںشامل رکھتی ہے اور دوسری بات یہ کہ میرے ان تاثرات سے اتفاق اور اختلاف کی راہیں بالکل کھلی رہتی ہیں۔ اس لحاظ سے شوقؔ کو میں نے سمجھنے اور پہچاننے میں بڑی دیر کردی ، اس بات کا احساس مجھے حالیہ دنوں ان کے اعزاز میں ان کی بحیثیت انگلش لیکچرار کے سبکدوشی پر منعقد ایک باوقار محفل کے دوران ہوئی اور یہاں میرے ذہن کے دریچے ان کے بارے میں وا ہونے شروع ہوئے ،تو میں خود حیرت زدہ رہ گیا۔ یہاں مجھے پہلی بار شمالی کشمیر میں بودو باش رکھنے والے عوام کے جذبات اور احساسات کا اور فریدہ جی کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت ،ان کے ساتھ محبت اور ان کے ساتھ یہاں کے عوام کی جذباتی وابستگی کا اندازہ ہوا ،جو انہیںاس ہمہ جہت شخصیت سے وابستہ رکھتی ہے، یہاں مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ ہندوار ہی نہیں بلکہ ملحقہ لوگ ان سے بے لوث محبت اور خلوص کی بنیادوں پر اپنا رشتہ ان سے جوڑکر فخر محسوس کرتے ہیں ، یہ بے مثال شخصیت تعلیمی میدان میں سٹیٹ اور قومی ایوارڈوں کے علاوہ ڈیڑھ درجن سے زیادہ پُر وقار ، بڑی اور اہم تنظیموں اور این جی اوز سے توصیفی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ، آج میں سوچتا ہوں کہ دراصل ان بہت ساری تنظیموں نے اس بلند و بالا شخصیت کے تاج میں کوئی اضافہ کیا ہو کہ نہیں، لیکن اس نابغہ روز گار شخصیت نے انہیں قبولیت بخش کر ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی شان ضرور بڑھائی ہے ،انہیں دیر سے جاننے اور ان کی سمندر جیسی گہری شخصیت کو پہچاننے میں شاید یہ دیر اس لئے بھی ہوئی کہ وہ بہت ہی کم گو ، اپنے بارے میں کہنے سننے اور اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اپنی تعریفیں سننے کی شاید قائل نہیں اور ایسا بھی ہے کہ سماجی کارکن اور معاشرے میں بہتری چاہنے اور لانے کے دوران وہ اس قدر مصروف رہی ہو کہ ’’شو اور دکھاوے کی فرصت ہی نہ ملی ہو ، یا ان کے لئے اپنی نجی زندگی ہی اس قدر تلاطم خیز رہی ہو کہ اپنے آپ کو پردوں میں چھپانے کی خواہش ہی بہتر سمجھی ہو،بہر حال کچھ شخصیتیں تاریخ میں جگہ پاتی ہیں اور کچھ خود تاریخ بناتی ہیں ،یعنی تاریخ ساز ہوتی ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے تاریخ میں جگہ پائی ہے ، ان کے قد و قامت کے بارے میں بہت چھوٹی بات ہوگی ۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے خود اپنی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جو مدتوں روشنی کے میناروں کی طرح اس راہ کے راہروں کے لئے فروزاں رہے گی ، نام ان کا فریدہ ہے ، اپنی شاعری میں شوق ؔ ،سے جانی جاتی ہیں ۔ جنہوں نے اسی اگست کے آخر میں بحیثیت انگلش لیکچرار کے اپنا یہ سفر طئے کیاہے اور یہ سفر طبعی لحاظ سے اپنے اختتام تک پہنچتا ہی رہتا ہے ، ہر بڑے چھوٹے سرکاری ملازم کوایک خاص مقام پر آکر اپنے شعبہ جات سے رخصت ہونا ہی پڑتا ہے اور اس میں کوئی انہونی بات نہیں بلکہ یہ ان کی خوش نصیبی ہی ہوتی ہے کہ وہ ایک مدت اور ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد ، پنشنر کہلاتے ہیں اور اسطرح ان کی دوسری اننگ بھی شروع ہوتی ،( اب نئے لوگ پنشن سے محروم ہی رہتے ہیں ) لیکن اس بڑی تعداد میں سے ، بہت کم لوگ اپنے معاشرے پر اپنے سماج پر ، اپنے طلبا اور اپنے شاگردوں پر اپنے گہرے نقوش مرتب کر کے سبکدوش ہوتے ہیں ۔ فریدہ شوقؔ ، حیر ت انگیز طور پر ہر فن مولاہے اور یہی بات انہیں ہم سب سے الگ اور منفرد مقام عطا کرتی ہے ، انسان اکثر و بیشتر کسی ایک میدان کا شہسوار ہی بنتا ہے لیکن یہاں ایک شاہسوار کئی میدانوں میں گھوڑے دوڑاتا، اپنے جھنڈے گاڑھتا نظر آئے گا ،جو محترمہ کے لئے ایک الگ مقام کا تعین کرتا ہے، شاید اسی لئے اپنے محکمے نے انہیں ریاستی ایوارڈ کے بعد قومی ایوارڈ سے نواز کر ان کے قدو قامت کا تعین کیا ہے ۔شوق ؔ کی زندگی کے کئی پہلو ہیں ، شاعرہ بھی ہیں، اور اس شاعری میں ہماری معروف شاعرہ زون( حبہ خاتون ) کی لئے اور بر صغیر کی مشہور شاعرہ پروین شاکر ؔ کے سوز و گداز کا احساس ہوتا ہے ، شاید ان کی نجی زندگی کے نشیب و فراز نے ان کے کلام میں اس آہنگ اور لئے کو جنم دیا ہے۔ شریف النفسی ، بردباری ، ضبط نفس،کم گوئی اور صبر و شکر جیسی صفات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لل دید کے نقش پا ان کی رہنمائی کرتے رہے ہیں ۔ ادیبہ ، سماجی کارکن ، سو شل ریفارمر اور دانشور، بیک وقت ان ساری صفات کا ایک وجود میں سمٹ کر آنا، اس سے قدرت کی طرف سے خاص نظر عنایت پر ہی محمول کیا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب انہیں اپنے والد صاحب مرحوم غلام محمد کمہار کی تربیت کا ماحاصل ہے ، جو ہند وارہ اور اس سے آگے کے بہت سارے علاقہ جات میں بڑے مشہور ، مہرباں اور مشفق استاد کی حیثیت سے معروف رہے ہیں جنہوں نے سینکڑوں یتموں اور ہزاروں طلبا کی تعلیمی دور میں قدمے ، درمے اور سخنے مدد کی ہے۔ میری معلومات کے مطابق وہ بحیثیت پرنسپل ہائیر سیکنڈری ریٹائر ہوئے تھے ، بہر حال پرنسپل ہونا کوئی امتیازی شان نہیں بلکہ اس سارے علاقے میں جس قدر اور احترام اور عقیدت سے یاد کئے جاتے ہیں ،یہ ان کی امتیازی شان ہی قرار دی جاسکتی ہے۔وہ خود ایک سماجی کارکن اور درد مند انسان رہے ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مرحوم ٹاک صاحب کے ساتھ یہ بھی اُس ٹرسٹ کے بنیادی اور فاونڈر ممبراں میں شامل تھے جنہوں نے ایک ننھا سا پودا لگا کر اس پودے کی نشو نما ایسے کی کہ اب یہ یتیم ٹرسٹ کشمیر کے ہر ضلعے اور اور قصبے میں اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے ، اور والد صاحب کے گذرنے کے بعد محترمہ فریدہ جی کو اس ٹرسٹ کے بنیادی ٹرسٹی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے ، ان کی شان میں ہندوارہ کے شیخ العالم ہال میں ان کی ریٹائر منٹ پر حالیہ دنوں ایک محفل کا انعقادہوا ، جہاں کپوارہ ڈسٹرکٹ کے تمام کالجوں اور ہائر سیکنڈری پرنسپلز ، لیکچرارس اساتذہ کی ایک بڑی کہکشاں تو موجود تھی ہی لیکن ڈسٹرکٹ کے تمام کلیدی عہدے دار محفل کی رونق تھے ۔ ان کے علاوہ دوردراز علاقوں سے تجارتی وفود اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ معزز اور اہم شخصیات موجود تھیں ، میرے لئے اس طرح کی محفل بلکل نئی اور انوکھی بات تھی ، جہاں اپنے دس بارہ پندرہ کولیگ ریٹائر منٹ پر ایک چھوٹی سی پارٹی کا انتظام کر تے ہیں۔ یہ تو پورے علاقے اور میرے خیال میں یہ کہنا غلط بھی نہ ہوگا کہ پورے کپوارہ ڈسٹرکٹ کے معززین یہاں موجود تھے اور پھر سوپور اور بارہمولہ سے بھی کچھ اہم تعلیمی شخصیات یہاں رونق افروز تھیں، کسی مقرر کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگی کہ کسی شخص کی ریٹائر منٹ پر اس قدر تعلیمی اور مختلف شعبہ جات سے منسوب کہکشاوں کا یکجا ہونا ، فریدہ جی کے ( شوقؔتو وہ ہیں ہی ) ذوق ، ان کی اپنی سروس سے مخلصانہ وابستگی ، اپنے طلبا کے مستقبل کو سنوانے کی لگن ، طلبا سے محبت ، ان کی اپنے سماج میں کارکردگی اور ان کی بے تھکان مشقت اور محنت کا اظہار ہے ،کہ لوگ بڑی دور دور سے اس محفل کو رونق بخشنے اور فریدہ جی سے اپنے پیار کے اظہار کے لئے یہاں یکجا ہوئے تھے اور کچھ معززین نے فریدہ جی کے بارے میں جن خیالات اور احساسات کا اظہار کیا، میں سمجھتا ہوں کہ محظ الفاظ اور ایسے مواقع پر رٹے رٹے جملے نہیں تھے ، بلکہ کئی مقررین کے الفاظ ، ان کے اپنے تاثرات اور چہرے کے اتار و چڑھاو سے بالکل ہم آہنگ اور ترجمان تھے۔ میں نے اس مضمون میں ان کی اپنی نجی اور گھریلو زندگی کا تذکرہ جان بوجھ کر نہیں کیا ، بس یہ کہنا کافی ہے کہ ان کے بچے ہیں اور ان کے بھائی اور بہن بھی ہے جن کی وہ اب تک کفیل ہے، اکثر و بیشتر بڑے بڑے شعرا اور دانشور حضرات بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنی نجی زندگی میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتے ہیں یا ان کی اپنی زندگی کی کشتیاں اکثر اَن چاہی لہروں پر سوار رہ کر ہچکولے کھاتی رہتی ہے ۔ کچھ ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور کچھ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ، میں شوقؔکے بارے میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نہ اس کے حوصلے ٹوٹے ہیں ، نہ اس کے من میں فروزاں چراغوں کی لو ہی ماند ہوئی ہے نہ اس کی جستجوئیں دم توڑ چکی ہیں بلکہ وہ آج بھی اسی جملے کو دہراتی ہوئی نظر آتی۔ بڑھے چلو ، تھکن کا نام بھی نہ لو ۔ یہ تو اس کی بات ہے لیکن میں آپ سب کے لئے اور فریدہ شوق ؔاور اس کے اندر چھپے شوقؔ کی ترجمانیؔ کے لئے ساحرؔ کا یہ ایک شعر عرض کردوں ،
جو تار سے نکلی ہے وہ دھن سب نے سنی ہے
جو ساز پہ گذری ہے وہ کس دل کو پتہ ہے