عظمیٰ نیوز سروس
پٹنہ//ووٹر ادھیکار یاترا کل اپنے 13ویں دن کی شروعات کر چکی ہے۔ صبح آٹھ بجے اس کا آغاز مغربی چمپارن کے بیتیا کے ہری واٹیکا گاندھی چوک سے ہوا، جہاں سے یاترا نے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور عوام سے براہِ راست رابطہ کیا۔ دن بھر کے شیڈیول کے مطابق یہ یاترا شام کو سیوان پہنچے گی، جہاں اپوزیشن اتحاد کے عظیم الشان اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا۔کل کی یاترا کے دوران کارواں محرم چوک، اجنتا سنیما چوک، ساگر پوکھرا چوک، نوتن بازار اور دیگر مقامات سے گزرتے ہوئے لوگوں کو اس پیغام سے آگاہ کرے گا کہ ووٹ کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس پر کسی بھی طرح کی چوری یا سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوپہر کے بعد یاترا گوپال گنج سے گزر کر عوامی رابطے کو وسعت دیتے ہوئے بابونیا موڑ، سیوان تک جائے گی اور اس کے بعد سارن میں داخل ہا جائے گی، جہاں شب کو قیام کیا جائے گا۔اہم پیش رفت یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی بہار میں جاری اس یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کا پروگرام پہلے 28 اگست کا تھا، مگر ایک دن کی تاخیر کے بعد وہ اب 29 اور 30 اگست تک بہار میں رہیں گے۔ ان کی آمد سے اپوزیشن اتحاد کو مزید تقویت ملی ہے اور کارکنان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔سیوان میں ہونے والی ریلی کو اپوزیشن اتحاد کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کل اشوکا ہوٹل میں کانگریس کارکنان کا اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں جھارکھنڈ کانگریس کے سابق صدر راجیش ٹھاکر نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں پہنچیں اور اس ریلی کو تاریخی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے ساتھ ساتھ اکھلیش یادو کی شمولیت اتحاد کو مزید مضبوط کر دے گی۔ 30 اگست کو آرا سے سیوان تک ایک تاریخی روڈ شو ہوگا جس میں تینوں بڑے رہنما – راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور اکھلیش یادو – عوام کے درمیان اتحاد کا پیغام دیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ روڈ شو بہار کی سیاست میں اپوزیشن کی یکجہتی کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوگا اور آنے والے انتخابات پر اس کے دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔