نواب دین کسانه
ہم یوٹیوب پر ایک خوفناک سیلابی ریلے کا منظر دیکھ رہے تھے۔ منظر بڑا ڈراؤنا اور دل دہلا دینے والا تھا۔ یہ سب کہاں ہو رہا تھا اس کا تو کچھ معلوم نہیں تھا کیونکہ جس یوٹیوب چینل پر یہ سب دکھایا جارہا تھا اس نے دریا اور مقام سیلاب کا کچھ اتا پتہ نہیں بتایا تھا مگر یہ سیلابی ریلہ بڑے زوروں کا تھا۔ ہر طرف تباہی اور بربادی کے مناظر نمایاں تھے۔ حیوانات ، نباتات اور آدم ذات یکساں اس کا شکار تھے۔ یہ سب شائد کہیں آس پاس بادل پھٹنے کی وجہ سے ہوا تھا۔ لوگوں اور جانوروں کو سنبھلنے کا موقع بہت کم ملا تھا۔ بہت سارے جانور سیلابی ریلے میں زندگی کی بازی ہار چکے تھے ۔ بہت سارے غوطے کھاتے ہوئے مسلسل بہتے جارہے تھے ۔ ان بہنے والے جانوروں میں ایک گائے بھی شامل تھی جو بڑے دلیری کے ساتھ طوفانی لہروں کے ساتھ نبرد آزما تھی۔ اس کے گلے میں ایک رسہ پڑا تھا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ جہاں بندھی تھی وہاں سے ویسے ہی بہہ گئی اور مالک کو رسہ کھولنے تک کا موقع نہیں ملا تھا۔ زندگی اور موت کی اس جنگ میں اُس کی سب سے بڑی طاقت قوتِ اُمید تھی ۔ اس کی آنکھوں میں امیدوں کے چراغ روشن تھے۔ وہ شائد اللہ کے حضور التجا کر رہی تھی ،
دو جہاں کے خالق، زندگی اور موت کے مالک مجھ بے بس پر رحم فرما۔ اس عذاب سے نجات دے کر مجھ غریب کی زندگی بچا۔ میرے لئے نہ سہی میرے مالک کے لیے ہی مجھ پر رحم فرما۔ بیچارا روزانہ میرے لئے ہری ہری گھاس اور بھوسے کا انتظام کرتا ہے ۔ میں ابھی بمشکل چند دنوں سے ہی دُدھیال ہوئی ہوں۔ ابھی مالک نے بمشکل میرا دودھ فروخت کرنا شروع کیا ہی تھا کہ اس مصیبت میں پھنس کر جان گنوانے جا رہی ہوں ۔ میں ابھی تک مالک کا حق ادا نہیں کر سکی ہوں ۔ میں اُس کا حق ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بچانے والے مہربان مجھ غریب کو بچالے تا کہ میں اپنے مالک کا حق ادا کر سکوں۔
ادھر سیلابی لہروں کے ظالم جبڑوں میں پھنسی ہوئی گائے یہ دُعا مانگ رہی تھی تو اُدھر کنارے پر کھڑے دو شخص بڑی بے بسی سے اُسے بہت دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ایک گائے کا مالک معلوم ہوتا تھا اور دوسرا کوئی اجنبی تھا۔ ان دونوں کے درمیان کچھ کھسر پھسر چل رہی تھی ۔ ان کے درمیان گفتگو کیا ہو رہی تھی یہ تو کسی کو معلوم نہیں تھا لیکن گائے کو اپنی جگہ یقین تھا کہ وہ یقیناً اُسے اس مصیبت سے نکالنے کے لئے کوئی منصوبہ سازی کر رہے ہوں گے۔ وہ ابھی باہمی گفتگو میں مصروف ہی تھے کہ سب کی سننے والے نے بے زبان گائے کی بھی سن لی ۔ گائے سیلابی لہروں کا حصار توڑ کر باہر نکل آئی۔ زندگی اور موت کی اس کشمکش میں زندگی جیت گئی ۔ موت ہارگئی ۔
گائے باہر آتے ہی کان ڈھیلے چھوڑ کر لمحہ بھر کے لئے کچھ اس طرح کھڑی رہی جیسے کہ وہ نئی زندگی عطا کرنے والے رب کا شکر ادا کر رہی ہو۔ کچھ دیر اسی طرح کھڑے رہنے کے بعد اُس نے گردن او پر اٹھائی اور پھر دم کھڑی کر کے بھنگڑا ڈالنے کے انداز میں اس طرح اُچھلی کو دی جیسے کہ وہ سیلابی لہروں پر اپنی فتحیابی کا اعلان کر رہی ہو۔ پھر وہ آہستہ آہستہ کلانچیں بھرتی ہوئی اپنے مالک کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اُسے اُمید تھی کہ اُس کا مالک نہ صرف پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا بلکہ اُس کا گلا بھی خراشے اور سہلائے گا۔ مگر اُدھر تو سب برعکس تھا۔ مالک کے رویئے میں مکمل سرد مہری تھی ۔ وہ ایک طرف تو گائے کو دیکھتا رہا اور دوسری طرف اپنے ساتھ والے اجنبی سے شخص کے ساتھ مصروف گفتگو ر ہا۔ جب گفتگو مکمل ہو گئی تو اس اجنبی سے شخص نے ذرا آگے بڑھ کر نوٹوں کے بنڈل مالک کے ہاتھ میں تھما دیئے ۔ دراصل مالک نے یہ سوچ کر گائے کو اُس شخص کوسستے میں بیچ دیا تھا کہ اگر خدانخواستہ یہ پھر کسی اِسی طرح کے حادثے کا شکار ہو گئی تو خواہ مخواہ میں نقصان ہو جائے گا۔ گائے یہ سب دیکھ کر سکتے میں آگئی تھی ۔ اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آنا فانا یہ سب کیا ہو گیا ہے۔ مگر پھر وہ سمجھ گئی کہ اُس کی تقدیر کا فیصلہ ہو چکا ہے وہ پک چکی ہے ۔ مالک کے اس خود غرضانہ رویئے سے اُسے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ ابھی وہ اسی پریشانی میں اُلجھی ہوئی تھی کہ مالک نے آگے بڑھ کر اُس کے گلے کا رستہ اس اجنبی آدمی کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ گائے نے احتجاج کیا مگر مالک نے اُسے بُری طرح جھڑک دیا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر پیچھے مڑ کر بے بسی سے مالک کو دیکھا اور پھر خاموشی سے یہ سوچ کر اس اجنبی سے شخص کے ساتھ چل پڑی کہ مالک کے چھوڑے ہوئے کو کوئی نہیں چھڑا سکتا ہے۔ اس کے دل میں صدمے کا ایک طوفان تھا۔ یہ طوفان اُس طوفان سے کہیں بڑا تھا جسے وہ ابھی ابھی شکست دے کر باہر آئی تھی ۔ اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کہ اُس کی بے بس نگاہیں اپنے مالک سے پوچھ رہی تھی ،
جب میں موت کے منہ آپ کے لئے تڑپ رہی تھی تو میں سوچ رہی تھی شائد آپ بھی اس طرح دریا کے کنارے کھڑے ہو کر میرے لئے اسی طرح تڑپ رہے ہوں گے ۔ مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے لئے نہیں بلکہ ان نوٹوں کیلئے تڑپ رہے تھے جو آپ کو ابھی ابھی ملے ہیں۔آہ! یہ بھی کیسی ستم ظریفی ہے کہ میری محبت آپ کے لئے اور آپ کی محبت پیسے کے لئے ہے۔ میں موت سے لڑ کر آپ کی خدمت کیلئے زندگی بچا کر لائی تھی مگر آپ نے اس جذبے کی کچھ قدر نہیں جانی اور مجھے چھوڑ کر نوٹوں سے رشتہ جوڑ لیا۔ کاش! اس موقعے پر آپ مجھ سے وہ سلوک کرتے جو احساس سے لبریز ایک جاندار دوسرے جاندار سے کرتا ہے ۔ مگر آپ یہ سب کرتے تو کیسےکرتے ۔ آپ کی آنکھوں میں تو حرص ولالچ کا پردہ حائل ہو چکا ہے ۔ یہاں یہ سب ہو جاتا ہےوہاں احساس مر جاتا ہے ۔ یہاں احساس مر جاتا ہے وہاں اچھے بُرے کی تمیز مٹ جاتی ہے اور بندہ فقط حرص وہوس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے ۔ ارے تم تو اشرف المخلوق ہونے کے دعویدار ہو مگر کیا تمہاری اشرفیت یہی ہے ؟ ۔ آج مجھے لگتا ہے کہ تم اشرف المخلوق نہیں بلکہ حرص
المخلوق ہو۔ اگر نہیں تو کیا تمہارے ہاں محبتوں اور وفاؤں کا صلہ یہی ہے جو تم مجھے دے رہے ہو۔
���
ادھمپور جموں
موبائل نمبر؛9055551111