راحیم رہبر
میں نے آسمان کو تیر مارا اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین خون سے تر ہوئی!
پھر ایک خوفناک آواز نے بستی والوں کو جھنجھوڑ کر رکھا۔ لوگ ڈر کے مارے سہم گئے اور مجھے اپنے ہونے کا احساس ہوا۔
’’میں سب سے برا طاقتور ہوں‘‘۔۔۔ یہ ثابت کرنے کے لئے وہ آواز کافی تھی جو آسمان سے خون گرنے کے بعد لوگوں نے سُنی (میں ہوں) ’’میں نے کس کو مارا‘‘۔ اس سوال کا جواب دینا میرے لئے ضروری تھا۔ لوگ اسی سوال کا جواب جاننے کے لئے جلسہ گاہ میں جمع ہوئے تھے۔
’’تم ابن آدم ہو۔۔۔ تُم خلیفہ ہو۔۔۔ یہ گنبد مینائی تمہارے لئے تخلیق کیا گیا۔ ۔۔ تم اس سیارے کے سکندرؔ ہو!
تم میں سمندر کو سمیٹنے کی شکتی ہے۔۔ تم آسمانی راہوں کے شہسوار ہو۔۔۔ تم بُری راستوں کے رازدان ہو۔۔۔تم ’احسنِ تقویم‘ ہو۔! تم ہو۔۔۔ ہاں تم ہو! میں ابھی تصورات کی دنیا میں گھوم ہی رہا تھاکہ جلسہ گاہ میں سے ایک بزرگ شخص سٹیج پہ میرے قریب آگیا اور دھیمی آواز میں مجھ سے گویا ہوا۔
’’میں نے تمہاری لاج رکھی۔۔۔ ورنہ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔ تمہارے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔۔۔ تمہارا معاملہ ایک عَبد کا سا ہے۔۔ تم ایک غلام ہو۔۔۔ اس محیط بیکراں میں ایک ذرا سی آبجو!‘‘ اس بزرگ شخص نے گویا کہ مجھے گہری نیند سے بیدار کیا۔ میں کچھ دیر اُس کے چہرے کو تکتا رہا۔۔۔!
’’تمہارے سوال کا جواب میرے پاس ہے۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ تم نے کس کو مارا ہے‘‘ میرے اندر کی دُنیا سے یہ آواز آگئی۔
’’کون تھا وہ۔۔۔۔ جس کو میں نے تیر مارا؟‘‘ میں نے پوچھا
’’وہ تمہارا اپنا ہی تھا!‘‘
’’ارے کون!؟‘‘ میں نے انہماک سے پوچھا۔
’’تمہارا زخمی وجود۔۔۔ خون کے جم جانے سے تمہارےوجود کو پس (Abscess)ہوا تھا۔ تیر لگنے سے پس نکل آیا۔ اس طرح تمہارا گھائو ٹھیک ہوا ۔ تم سے رہا نہ گیا اور تم نے خود آواز دی’’میں ہوں‘‘۔
میں نے بزرگ کو یہ سارا ماجرا سُنایا۔ بزرگ نے مجھے سٹیج پہ لوگوں کے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا۔
’’ساتھیو! میں فرعون نہیں ہوں۔۔۔ میں نے اپنے زخمی وجود کا مرہم کیا ہے۔۔۔۔ زخمی وجود کے سبب میری فکر بھی زخمی تھی!‘‘ پھر میں نے وہ واقعہ دہرایا جو اُس غیبی آواز نے مجھے سنایا تھا۔ سارا جلسہ گاہ ’زندہ باد‘ نعروں سے گونج اُٹھا۔
اپنی مختصر بات اختتام کو پہچانے کے فوراً بعد میں نے اپنے تر کش سے وہ آخر تیر نکالا جو میں نے اپنے بچائو کے لئے رکھا تھا۔ میں نے وہ تیر آسمان کو مارا۔ آسمان سے زور دار پانی ٹپکا۔ دفتعاً میرے آنگن کے سب خون آلودہ گملے صاف ہوگئے۔ میں یہ منظر دیکھ کر چونک گیا میری آنکھ کھل گئی۔ میرا بستر پسینوں سے بھیگ گیا تھا!۔
���
آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ,موبائل نمبر؛9906534724