افسانہ
ریئس یاسین
گھڑی کی سوئیاں سست روی سے آگے بڑھ رہی تھیں، جیسے وقت خود بھی اس گلی میں آنے سے جھجک رہا ہو۔ دوپہر کی دھوپ میں جبران اپنی فائلیں سنبھالے، پسینے میں شرابور، اس دروازے کے سامنے کھڑا تھا جہاں اسے اطلاع ملی تھی کہ گھر کا مالک تعلیم یافتہ اور باشعور ہے۔
دروازہ بجایا۔
اندر سے مدھم آواز آئی، “کون ہے؟”
“السلام علیکم، جناب! ایک سوشل سروے کے سلسلے میں آیا ہوں، صرف دو منٹ چاہییں۔”
دروازہ کھلا۔ ایک چالیس سالہ شخص ہاتھ میں موبائل لئے، آنکھیں اسکرین پر گاڑھے، باہر نکلا۔ کانوں میں جدید ایئربڈز، انگلیاں مسلسل اسکرین پر چلتی ہوئی۔ وہ جبران کی طرف دیکھے بغیر بولا:
“ہاں، بولو، جلدی کرو۔”
جبران نے ہلکے لہجے میں کہا:
“آپ کے علاقے کے مسائل پر حکومت کی طرف سے سروے ہو رہا ہے۔ صرف چند سوالات ہیں۔”
آدمی نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی، پھر کہا:
“دیکھو بھائی، میں بہت مصروف ہوں۔ بعد میں آنا۔”
“جناب، بس دو منٹ دیں”
“دو منٹ بھی میرے پاس نہیں ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ واپس اندر چلا گیا۔
جبران پلٹا اور دھیرے دھیرے گلی سے نکلنے لگا۔ پیچھے سے کچھ ہنسی کی آواز آئی، — شاید وہ شخص موبائل پر کوئی مزاحیہ ویڈیو دیکھ رہا تھا۔
راستے میں جبران نے ایک سکول کے باہر رک کر پانی پیا۔ دیوار پر ایک جملہ لکھا تھا:
“تعلیم سے شعور آتا ہے، شعور سے ذمہ داری۔”
جبران نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور زیرِلب کہا:
“ہم نے شاید تعلیم کو صرف ڈگری سمجھا ہے، ذمہ داری نہیں۔”
اُس لمحے جبران کو احساس ہوا، وہ شخص مصروف نہیں تھا، وہ صرف بے پروا تھا۔ کیونکہ وقت تو اُس کے پاس تھا — صرف دوسروں کے لئے نہیں۔