عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//سخت الفاظ میں لکھے گئے ایک مکتوب میں پی ڈی پی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے لوک سبھامیں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں مسلمانوں کومعاشرے میں نظراندازکرنے کیخلاف سخت موقف اختیار کریں۔مون سون پارلیمانی اجلاس سے قبل لکھے گئے اس مکتوب میں پہلگام حملہ،آپریشن سندوراورمسلمانوں کومبینہ طور بے اختیار کرنے کے نازک معاملات کواُجاگر کیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے روہنگیائی اوربنگلہ دیشیوں کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر سخت تشویش کااظہار کیااورآسام اور بہار میںمسلمانوں کوزبردستی نقل مکانی کرنے کی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کاحوالہ دیا۔انہوں نے بہار میں ہزاروں مسلم گھروں کو منہدم کرنے اور جاری خصوصی تحقیقاتی رپورٹوں کی نکتہ چینی کی اور کہاکہ یہ اس طبقہ کی موجودگی کوعلامتی اورلفظی طورمٹانے کی کوششیں ہیں۔مہاتماگاندھی اورجواہرلال نہروکی سیکولر میراث کاحوالہ دیتے ہوئے مفتی نے کہا کہ یہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی سیکولرروایات کوبرقراررکھاجائے ۔انہوں نے بنگلہ دیش اور پاکستان میں اقلیتوں کونشانہ بنانے پرغم وغصہ پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ایسی ہی کارروائیاں ہندوستان میں بھی اقلیتوں(مسلمانوں) کے ساتھ ہورہی ہیں،تواس وقت خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔مکتوب میں حزب اختلاف کے طور ان سیاسی معاملات پرآوازاُٹھانے کی ضرورت اُجاگر کی گئی۔