ڈاکٹر فیاض فاضلى
شہروں کی گھٹن کی اپنی تاریخ ہے۔ وہاں غمزدہ اور ملول ہو جانے کی سب کی اپنی اپنی وجہیں ہیں۔ ایک سماج کے طور پر ماحولیاتی قدروں کی سطح پر ہماری سوچ میں ایسی کاہلی اور اتھلاپن موجود ہے، جس کو ہم قبول کرنے میں بھی جھجک کرتے ہیں۔کیا اخلاقی گراوٹ اور گندگی ماحول کی آلودگی ہماری زندگی کی قدر بن چکی ہے؟ کیا ہم اپنی جھیلوں اور ندیوں اپنی گلیوں، اپنے شہروں کو اس بے قدری سے گندہ ہوتے رہنے دیںگے کہ وہ ایک چلو بھر پانی لینے یا رہنے لائق ہی نہ رہیں؟کیا ہم سچ میں اس قدراپنےمیں کھوئے رہنے کی قیمت چکانے کو تیار ہیں کہ اپنے بچوں کو سانس بھرنے کے لئے کم از کم ضروری صاف ہوا بھی نہ دستیاب کرا سکیں۔کیا ہم قدرت کے سامنے اتنے مفلوک الحال ثابت ہونے والے ہیں۔اس ہوا کوجو اپنی بنیادی شکل میں ہمیں صاف ستھری، غیرکیمیاوی حاصل ہوئی تھی، اس کو ہم نے اپنے شہروں میں غیر ذمہ داری اور ناسمجھی سے ایک زہر میں بدل ڈالا ہے۔ معاشرے میں شرافت اور عزت کا فقدان،اخلاقی رہنمائوں کی کمی جو تہذیب کا نمونہ بناتے ہیں، بشمول غیر سیاسی میدان میںمعاشرے کے مفاد کے بجائے اپنے مفاد کا حصول۔ چاہے قانونی طریقے سے ہو یا غیر قانونی طریقے سے ہر کوئی دولت کی دوڑ میں لگتا ہے،میں کچھ اور اضافہ کر سکتا ہوں لیکن، میرے مضمون کے قارئین کے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی کہ کشمیر جو اپنے ثقافتی رویوں اخلاقیات ،تہذیب کے لیے جانا جاتا ہے ۔ کیا وہ شائستہ، عاجزی والا خدا کا خوف سے بھرپور کشمیر اور کشمیریت آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔13 ویں صدی کے دور کے ایک مشہور شاعر امیر خسرو کی نظم ’میں شہروں کا تصور کھینچی گئی شاعرانہ تصویر شمال اور جنوب میں لال قلعہ کے دیوان خاص کے اندرونی کونے کی محرابوں کے اوپر اکثر سنہری جوہ لکھا ہوا ہے:’’ اگر فردوس بار روئے زمین است حمین است۔اے حمین است۔اے حمین است۔‘‘
تہذیب کا کیا مطلب ہے، !کیا ہمیں اپنے شہروں اور ان کی ہر شے کی انسانی تجسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے جہاں ہواؤں میں کیمیا نہ ہوں، تیزاب نہ ہو! کیا ایسے شہروں کی تعمیر ممکن ہے جہاں ہم سبھی اجتماعی جوابدہی سے ایک صاف آسمان اور سفید ہواؤں کا بہنا متعین کر سکیں۔ لیکن اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے۔ اداسی اور پریشانی نے بلا امتیاز چھوٹے بڑے، مرد عورت، بچے بوڑھے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ غرض اس پریشانی اور بے چینی کی کشتی کے سب ہی مسافر نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ سب ہی مصیبت زدہ، گھائل اور زخمی ہیں۔ اس پریشانی، اضطراب، انتشار اور اداسی کی کیا وجوہات ہیں۔ کیوں سب ہی بے چینی، بے قراری اور بے آرامی کے شکار ہیں۔چاروں اور پریشانی اور افراتفری کا راج ہی نظر آتا ہے۔ فضاؤں میں اداسی ہے جیسے اب یہ دنیا بزم طرب نہ رہی بلکہ غم کدہ بن گئی ہے۔ سکون ہم سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندگی صرف پریشانیوں، مصیبتوں، آزمائشوں اور غموں سے نبرد آزما ہونے کا نام ہے۔ یہ ایک شخص کا قصہ نہیں کہ جس کا چین و سکون غارت ہوا ہے بلکہ اکثر اشخاص خاص طور پر نوجوان کو بھی دیکھیے دیوانہ اور مجنوں بنا بیٹھا ہے۔ پریشان صرف غریب نہیں بلکہ امیر اور فراخ دست بھی ہے۔اپوسٹ کوویڈ کا منظر اسی پچاسی سال کا کوئی عمر رسیدہ شخص اس دنیا کو چھوڑ کر جائے تو زیادہ افسوس اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ اپنے حصے کی بہاریں دیکھ چکا ہے۔ ان بہاروں میں یہ پھولوں کی مہک اور کلیوں کی چہک سے آشنا ہوا تھا لیکن اگر اٹھارہ بائیس سال کا جوان اس دنیا سے کوچ کر جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور آنکھوں سے اشک کے بدلے خون بہتا ہے۔انسان کو بے حد پچھتاوا اور افسوس ہوتا ہے۔ غمزدہ اور ملول ہو جانے کی سب کی اپنی اپنی وجہیں ہیں.جی بالکل، ہر انسان کے غمزدہ اور ملول ہونے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ۔ ذہنی سکون کا فقدان لوگ زندگی سے ناخوش اور مطمئن کیوں ہیں۔ کیا یہ معاشیات ہے دولت کی دوڑ، مذہب سے دوری ہے یا بدعنوانوں کو پھلتا پھولتا دیکھنا۔ ایمانداروں کی حوصلہ شکنی ہے۔جموں و کشمیر میں بزرگ آبادی میں ڈیمنشیا کا پھیلاؤ ملک میں سب سے زیادہ 11 فیصد ہے جبکہ قومی اوس7 .4 فیصد ہے ۔کشمیر عظمیٰ مئی 2024وادی میں ڈپریشن کی وجوہات اور ڈیمینشیا سے منسلک بے چینی ڈپریشن پر گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔کچھ عمومی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں۔ ذاتی زندگی تعلقات کے مسائل: وست، خاندان، یا شریک حیات کے ساتھ مسائل اور جھگڑے،صحت کے مسائل ،جسمانی یا ذہنی بیماری کے مسائل، ڈپریشن، اینزائٹی، غیر سکونی ور دیگر ذہنی صحت کے مسائل معاشی مشکلات یا بے روزگاری کا دباو،کام میں زیادہ دباؤ یا نوکری کا نا خوشگوار ماحول۔ ماضی کے تجربات: بچپن کی یادیں یا کسی صدمے کا اثر۔تنہائی: سماجی تعلقات کی کمی۔خود اعتمادی کی کمی: اپنی ذات پر یقین نہ ہونا یا خود کو کمتر محسوس کرنا اور دیگر ذاتی مشکلات بھی افسردگی کا باعث بن سکتی ہیں۔جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ، سماجی مسائل ،ثقافتی اور سماجی توقعات و تعلقات معاشرتی دباؤ عدم مساوات اور توقعات بھی افراد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور سماجی کمزوری ،ماحولیاتی عوامل ،آلودگی، شور، اور غیر صحتمند ماحول بھی لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ایمانداروں کی حوصلہ شکنی اور افسردگی دونوں زندگی کی مختلف صورتوں ہیں جو انسان کے دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے اور ایک مسلسل حالتِ افسردگی کی صورت میں ایمانداروں کی حوصلہ شکنی اور افسردگی کے مابین موثر عوامل بھی واضح ہوتے ہیں۔ہر شخص کے غم کی وجوہات ان کی زندگی کے تجربات اور موجودہ حالات پر منحصر ہوتی ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے مدد طلب کرنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا اہم ہے۔مذہب بھی ایک اہم عامل ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص مذہب سے دور ہوتا ہے یا اس کی اپنی آنے والی نسل مذہب سے دور ہوتی ہے، تو وہ اپنی روحانی ضروریات پوری نہیں کر پاتا، جس سے اس کی روحانیت پر اثر پڑتا ہے۔ مذہب ایک فراہم کنندہ ہوتا ہے جو انسان کو اس کے مقصد اور زندگی کے اہم معنوں کا علم دیتا ہے۔ اس کے بغیر، لوگ اکثر اپنی زندگی کو معنوں سے خالی محسوس کرتے ہیں اور ان کا جذبہ زندگی کے روابط، مقصد، اور معنیاں پر متاثر ہوتا ہے۔
ممکنہ حل: معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت کو معاشی سماجی اصلاحات ،روزگار کے مواقع بڑھانے، مہنگائی کنٹرول کرنے، اور غربت کم کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔ سماجی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے معاشرتی انصاف کو فروغ دینا ضروری ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنے، جرائم کی روک تھام اور سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ماحولیاتی بہتری ،ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ آلودگی کم کرنے، ملاوٹ اور آلودگی کو کنٹرول کرنے درختوں کی کچھ اقسام سے خارج ہونے والے جرگ لوگوں کے لیے صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔صحتمند ماحول فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبے بنائے جائیں۔ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ علاج کے لیے خصوصی کلینکس اور ماہرین کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ لوگوں کو اپنے عقائد میں مذہبی طریقوں کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ معاشرتی دباؤ اور کامیابی کی دوڑ سے بچنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ لوگوں کو سکھایا جائے کہ زندگی میں خوشی اور اطمینان کامیابی اور مال و دولت سے زیادہ اہم ہیں۔ان تمام اقدامات کے ذریعے کسی بھی شہر میں لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کی پریشانی اور افسردگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ سڑکیں مہنگی کاروں سے بھری ہوئی ہیں اونچی عمارتیں، مالز، کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹلوں کی ٹھوڑیوں کا شاہانہ طرزِ زندگی، شادی کی تقریبات میں نمائش نوو دولت کے شاندار انداز،سیاحت کھلتی ہے۔اگرچہ سمارٹ سٹی کے چمکتی دمکتی روشنیوں اور سجے ہوئے راستے کے اقدامات پرکشش تصویر فراہم کر رہی ہیں ٹریفک نظام ،حالات سے قطع نظر ہم خوش کیوں نہیں ہیں۔ہم خوشی دھن دولت، بڑے بڑے محلات، بڑی بڑی گاڑیوں، مخملی بستر، اعلیٰ سے اعلیٰ اور قیمتی کپڑے پہننے میں ڈھونڈتے ہیں۔ کیا اس کی بڑی وجہ مذہب سے دوری اور لاعلمی ہو سکتی ہے ؟ جب کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سکون مخملیں بستر کا محتاج نہیں بلکہ اگر خالق چاہے تو کانٹوں پر سونے میں بھی لذت اور سکون ہے۔ بڑا بننے کے خواب اور دولت کی پیاس نے ہمیں بے سکون کر دیا ہے۔ خواب دیکھنا برا نہیں ، ہاں ایسا نازیبا اور ناشائستہ خواب دیکھنا ضرور برا ہے جسں کو پورا کرنے کے لیے غلط طریقہ اپنانا پڑ جائے۔غلط طریقہ اپنانے کے بعد انسان خوف اور ڈر میں مبتلا ہو کر وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ وسوسے حوصلوں کا خون کر دیتے ہیں اور انسان بے سکون ہو جاتا ہے۔ جس انسان کے پاس سچائی کی لاٹھی ہو، پاک ارادے ہوں، منزہ اور بے میل خواب ہوں، صاف راستہ ہو وہ نہ گمراہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی پریشان۔ جو سکون اپنے خالق کی پہچان، عبادت، اطاعت اور بندگی میں ہے وہ نافرمانی، ناشکری، سرکشی اور روگردانی میں نہیں۔اگر انسان عاجز ہو کر خدا کے احکامات کی پیروی کرے، ان رشتوں کو اہمیت دے جن کو چھوڑ کر وہ غیروں کو اپنا بنانے کی کوشش میں لگا ہے، ماں باپ سے حسن سلوک اور نرمی سے پیش آئے تو وہ یقیناً بے سکونی سے نجات پا سکتا ہے۔
(مضمون نگار میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے علاوہ مختلف اخلاقی اور سماجی مسائل کے مثبت ادراک کے انتظام میں بہت سرگرم ہیں)
رابطہ۔[email protected] اورtwitter@drfiazfazili
���������������������