عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں// رواں سال اپریل-مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل، وزیر اعظم نریندر مودی 20 فروری کو یہاں مولانا آزاد سٹیڈیم جموں میں ایک عوامی ریلی سے انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔
تاہم جلسہ گاہ کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سٹیڈیم میں کھیلوں کی تمام سرگرمیاں بھی عارضی طور پر معطل ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم 20 فروری کو جموں کے ایم اے سٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔
ذرائع نے کہا کہ مودی رواں سال ریاسی ضلع میں کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والا سب سے اونچا ریلوے پل، سانبہ کے وجے پور میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS)، آئی آئی ایم جموں اور کٹھوعہ میں شاہ پور کنڈی ری ڈیولپمنٹ پلان سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کا بھی افتتاح کریں گے۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم ان منصوبوں کا ای-افتتاح کریں گے۔ جموں و کشمیر میں مختلف ترقیاتی کاموں کا ای-سنگ بنیاد بھی وزیر اعظم رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی طے شدہ جموں ریلی اور دیگر پروگراموں سے قبل، مودی سے 17 سے 18 فروری کو نئی دہلی میں ورکنگ گروپ کی دو روزہ میٹنگ کے دوران پارٹی کے جموں و کشمیر کیڈر سے ملاقات کی بھی توقع ہے۔
انہوں نے کہا، ”بھارت منڈپم میں 17 سے 18 فروری کو 2 روزہ قومی کنونشن بلایا جانا ہے، جو آئندہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر ہوگا جس کا افتتاح بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کریں گے اور اس کا اختتام وزیر اعظم نریندر مودی کے اختتامی خطاب کے ساتھ ہوگا“۔
ذرائع نے بتایا کہ مودی کا جموں و کشمیر کا دورہ لوک سبھا انتخابات سے قبل مرکزی زیر انتظام علاقے میں بی جے پی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے کیونکہ پارٹی کی نظریں تین سیٹوں پر ہیں۔
بی جے پی نے 2014 اور 2019 میں لگاتار دو بار جموں خطے سے دو لوک سبھا سیٹیں جیتیں۔
وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گزشتہ دو لوک سبھا انتخابات میں ادھم پور-کٹھوعہ سیٹ اور جگل کشور شرما نے جموں-پونچھ سیٹ جیتی تھی۔
بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا، ”پارٹی اس بار تیسری نشست اننت ناگ-پونچھ-راجوری پر نظر رکھے ہوئے ہے جس میں پہاڑی ووٹوں کی ایک بڑی تعداد ہے جنہیں حکومت نے حال ہی میں ختم ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایس ٹی کا درجہ دیا ہے“۔
دریں اثناءوزیر اعظم کی ریلی کے پرامن انعقاد کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جموں شہر کے قلب میں واقع ریلی کے مقام کے قریب سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور ایم اے سٹیڈیم سے متصل دریائے توی کے کنارے پر خصوصی چیک پوسٹیں لگائی گئی ہیں۔
ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا، ”سیکورٹی فورسز چوکس ہیں اور پنڈال کے ارد گرد چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں اور پنڈال میں داخل ہونے والوں کو مکمل تلاشی لینے کے بعد ہی آگے بڑھنے کی اجازت دی جارہی ہے“۔