عظمیٰ نیوز سروس
جموں //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے کے بعد اب تک 154 سرکاری ملازمین کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔یہاں ای ٹی نا گلوبل بزنس سمٹ 2024 سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ 154 سرکاری ملازمین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے کے بعد ملازمت سے ہٹا دیا گیاہے۔ آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے، ایل جی نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کی اور ان پر جموں و کشمیر کو انتشار کی طرف دھکیلنے کا الزام لگایا۔ سنہا نے کہا کہ پاکستان کے کہنے پر پتھرا ئواور حملے تاریخ بن چکے ہیں، آج کی حقیقت یہ ہے کہ نوجوان ترنگے کو فخر سے تھامے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی میں 30 سال بعد سنیما ہال دوبارہ کھولے گئے اور بازار اب ویران نظر نہیں آتے۔سنہا نے امن و امان کی بحالی کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کے حامیوں کے خلاف اپنی انتظامیہ کے سخت موقف کی توثیق کی۔انہوں نے کہا”جموں اور کشمیر میں تبدیلی کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے، جس نے ایک بار ناممکن سمجھے جانے والے اہداف کو حاصل کیا، خاص طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی،پتھرا ئواور پاکستان کی حمایت یافتہ ہڑتالیں تاریخ بن چکے ہیں، جس کے ساتھ یہ خطہ اب ہندوستان کے دیگر حصوں کی طرح ترقی کر رہا ہے، جس کا گواہ نائٹ لائف اور سنیما ہالز کی بحالی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ سالوں میں کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں موثر ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اچھی حکمرانی، ترقی اور امن کی راہ پر گامزن ہے۔شیڈول کاسٹ کی ریزرویشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس معاملے پر سیاست کرتے رہیں گے، جس طرح انہوں نے بے زمینوں کو زمین فراہم کرنے کے معاملے پر کی تھی۔ انہوں نے کہا’’انہیں اپنا کام جاری رکھنے دیں، ہم اپنا کام کریں گے” ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کو 28000 کروڑ روپے کے بھاری بجلی کے قرضوں کی دوبارہ ادائیگی وراثت میں ملی ہے۔حال ہی میں جموں و کشمیر کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اکائونٹ بجٹ پر حالیہ ووٹنگ کے بارے میں، ایل جی نے کہا کہ یوٹی کی اقتصادی حالت پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر انتظامیہ کی کوششیں سرمائے کے اخراجات میں اضافہ اور آمدنی کے اخراجات کو کم کرنے کی رہی ہیں‘‘۔ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے محصولات کے اخراجات 80,000 کروڑ روپے ہیں کیونکہ ایک بڑا حصہ ملازمین کی تنخواہوں میں جاتا ہے جبکہ سرمائے کے اخراجات میں 11000 کروڑ روپے سے 38000 کروڑ روپے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ سری نگر میں واقع یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ آف انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کے دفتر کی منتقلی کے بارے میں ایک سوال پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا “اس معاملے پر غور کیا جائے گا”۔ایل جی نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ اب جب کہ جموں و کشمیر مکمل طور پر ہندوستانی یونین میں شامل ہو چکا ہے ، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور کشمیر بھر میں ہندوستانی پرچم بلند ہے، سونوار میں اقوام متحدہ کا دفتر کام جاری رکھے ہوئے ہے،کیا اس کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا”اب جب کہ سوال پوچھا گیا ہے، ہم اس معاملے کو دیکھیں گے” ۔