عظمیٰ نیوز سروس
جموں//مرکزی وزیر مملکت سائنس اور ٹکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ اروما اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے وابستہ نوجوان ملک کیلئے’پرپل ریوولوشن‘کے سفیر ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر باقی ہندوستان کے لئے بھی ایک رول ماڈل بن گیا ہے جس کی مثال جمہوریہ کے موقع پر قومی راجدھانی میں کارتاویہ پاتھ پر ایک ٹیبلو کے ذریعے ضلع ڈوڈہ کے بھدرواہ قصبے کے لیوینڈر فارموں کی تصویر کشی سے ملتی ہے۔مرکزی وزیر جموں میں پی آر آئی کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی میٹنگ کی صدارت کرنے کے بعد بات کر رہے تھے۔ سی ایس آئی آر -انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن جموں میں منعقد ہونیوالی میٹنگ کا مقصد خطے میں اسٹارٹ اپ کو فروغ دینے کے لئے سوسائٹی کے ساتھ رابطہ قائم کرنا تھا۔جموں و کشمیر کے آروما مشن کو ایک کامیابی کی کہانی بتاتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اب تک غیر دریافت شدہ یا کم تلاش شدہ علاقوں کو استعمال کرنے کے لئے وقت اور کوششوں کی سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ علاقے ہندوستان کی معیشت کو آگے بڑھانے کی کلید رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ زرعی سٹارٹ اپ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نوجوانوں کے لئے تیزی سے خود روزگار کے راستے بن رہے ہیں۔ایگری اسٹارٹ اپس میں مزید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ سائلو کا دور ختم ہوچکا ہے، اس لئے دونوں شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ لیوینڈر جیسے ہمالیائی وسائل کی کاشت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے موصو ف نے ڈی ڈی سی کے اراکین سے اس کوشش میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا تاکہ ان کے علاقوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایگری اسٹارٹ اپس میں شامل ہو کر پائیدار طریقے سے اپنی روزی روٹی کما سکے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایگری اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں پچھلے دس سالوں میں ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہندوستان کی بایو اکانومی کی مالیت اس وقت 140 بلین سے زیادہ ہے جو ایک دہائی قبل 10 بلین تھی۔