یو این آئی
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کل کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایوانوں میں ہنگامہ کر کے جمہوریت کو ‘تباہ’ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کو اپنے رویے کا خود جائزہ لینا چاہیے ۔بجٹ اجلاس کے آغاز سے پہلے مسٹرمودی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت میں منعقدہ پہلے اجلاس کے اختتام پر اس پارلیمنٹ نے ایک بہت ہی باوقار فیصلہ لیا تھا اور وہ فیصلہ تھا – ناری شکتی وندن ایکٹ اور اس کے بعد 26 جنوری کو بھی ہم نے دیکھا کہ ملک نے کس طرح خواتین کی طاقت کی استطاعت، خواتین کی طاقت کے شوریہ کو اور خواتین کی طاقت کے سنکلپ کا تجربہ کیا۔ آج بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے ، تب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو جی کی رہنمائی اور کل نرملا سیتا رمن جی کا عبوری بجٹ ایک طرح سے یہ نار ی شکتی کے ساکشات کار کا تہوار ہے ۔مسٹر مودی نے کہا، ‘‘میں امید کرتا ہوں کہ پچھلے 10 برسوں میں جس کو جو راستہ نظرآیا اس طرح سے پارلیمنٹ میں سب نے اپنا کام کیا ۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جن کی عادتاً ہنگامہ کرنے کی فطرت بن گئی ہے ، جو عادتاً جمہوری اقدارکو تار تار کرتے ہیں، ایسے سبھی باعزت ارکان پارلیمنٹ آج جب آخری اجلاس میں مل رہے ہیں، تب ضرور خود احتسابی کریں گے کہ دس سال میں انہوں نے جو کیا، اپنے پارلیمانی حلقے میں بھی 100 لوگوں سے پوچھ لیں، کسی کو یاد نہیں ہوگا، کسی کو نام بھی پتہ نہیں ہوگا۔
۔146 ارکان کی معطلی منسوخ
عظمیٰ نیوز ڈیسک
نئی دہلی// مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل تمام ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کو منسوخ کر دیا جنہیں سابقہ اجلاس کے دوران معطل کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس کل شروع ہوا اور اس سے قبل مرکزی حکومت نے ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ اس سیشن سے پہلے تمام معطل ارکان پارلیمنٹ کی معطلی منسوخ کر دی جائے گی۔گزشتہ سال سرمائی اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے 146 ارکان اسمبلی کو اس وقت معطل کیا گیا تھا۔