عظمیٰ ویب ڈیسک
اودھم پور// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منگل کو کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تیسرے دور حکومت میں بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن کر ابھرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی ترقی کی کہانی میں اضافے کے رجحان کو جاری رکھنے کیلئے وزیرِ اعظم مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی واپسی میں ملک کا بڑا داو ہے۔
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی؛ پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کے انتخابی دفتر کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوے ان باتوں کا اظہار کیا۔
اُنہوں نے کہا، ”2014 میں جب وزیرِ اعظم مودی نے اقتدار سنبھالا تو بھارت دنیا کی دسویں معیشت کے طور پر کھڑا تھا۔ دس سال سے بھی کم عرصے میں، ہم برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر پانچویں نمبر پر آگئے، جس نے تقریباً دو صدیوں تک ہم پر حکومت کی۔ امید ہے کہ رواں سال یہ چوتھی سب سے بڑی معیشت کے طور پر ابھرے گی اور وزیرِ اعظم مودی کی تیسری میعاد کے دوران، بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہوگی، جو 2047 تک نمبر 1 کی معیشت بن جائے گی“۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پچھلے دس سالوں میں بھارت نے کئی عالمی معیارات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
مالی سال 2023-24 کے دوران، بھارت معیشت نے لگاتار تیسرے سال 7 فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کی یہاں تک کہ عالمی معیشت 3 فیصد سے زیادہ ترقی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور برطانیہ کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی فن ٹیک معیشت ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ”بھارت میں دنیا بھر میں تیسرا سب سے بڑا سٹارٹ اپ ایکو سسٹم ہے اور سب سے تیزی سے بڑھنے والا ملے ہے، سال 2014 میں تقریباً 350 سٹارٹ اپس سے، جب وزیرِ اعظم مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے اپنے یوم آزادی کے خطاب میں ‘سٹارٹ اپ انڈیا، سٹینڈ اپ انڈیا’ کا نعرہ دیا اور 2016 میں خصوصی سٹارٹ اپ سکیم شروع کی، اب نو سالوں میں 300 گنا سے زیادہ بڑھ گئے ہیں، آج ہمارے پاس 1,30,000 سے زیادہ سٹارٹ اپ ہیں”۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، صرف چار سال کے مختصر عرصے میں، سپیس سٹار اپس کی تعداد محض ایک ہندسے سے بڑھ کر 150 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ، لیوینڈر سیکٹر میں 6,300 سے زیادہ بائیو ٹیک سٹارٹ اپ اور 3,000 سے زیادہ ایگریٹیک سٹارٹ اپس ہیں۔
انہوں نے کہا، “تقریباً 4,000 لوگ لیوینڈر کی کاشت سے منسلک ہیں اور لاکھوں روپے کما رہے ہیں، ان میں سے کچھ کے پاس اعلیٰ قابلیت نہیں ہے، لیکن وہ بہت اختراعی ہیں”۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گلوبل انوویشن انڈیکس میں ہم 2014 میں 81 ویں نمبر پر تھے، ہم اب 41ویں مقام پر پہنچ چکے ہیں، آج ہم دنیا میں 40 ویں نمبر پر ہیں۔
انہوں نے کہا، ”2024 کا بھارت ایک بڑی چھلانگ لگانے کیلئے تیار ہے، جس کی مدد اس کی سائنسی ذہانت اور تکنیکی صلاحیتوں سے ہے”۔
2014 کے بعد سے گزشتہ 10 سالوں میں اودھم پور- کٹھوعہ- ڈوڈہ کو سب سے زیادہ ترقی یافتہ لوک سبھا حلقوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج اس حلقے کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں نہ صرف کئی قومی اور اپنی نوعیت کے پہلے منصوبے لائے گئے بلکہ ان منصوبوں کو بھی بحال کیا گیا جنہیں سابقہ حکومتوں نے ترک کر دیا تھا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ابھی حال ہی میں بھدرواہ قصبے نے اپنی مستقل مزاجی سے اس وقت قومی خبریں بنائیں جب اس کے لیوینڈر فارمز کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں کرتویہ پتھ، نئی دہلی میں دکھایا گیا اور اس حلقے کو اب “پرپل ریوولوشن” کی جائے پیدائش کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ واحد لوک سبھا حلقہ ہے، جس نے تین مرکزی فنڈڈ میڈیکل کالج، دو پاسپورٹ آفس، دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل، چینانی سے ناشری تک ایشیا کی سب سے لمبی سڑک ٹنل جسے شیاما پرساد مکھرجی ٹنل کہا جاتا ہے، شمالی بھارت کا پہلا صنعتی بائیوٹیک پارک حاصل کیا ہے۔ بسوہلی میں شمالی بھارت کا پہلا کیبل فری برج اٹل سیٹو، کشتواڑ میں تقریباً 4 سے 5 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس جو اسے بھارت کا پاور ہب بناتے ہیں، شاہ پور-کنڈی قومی آبپاشی پروجیکٹ، کٹرہ سے دہلی تک سب سے طویل ایکسپریس کوریڈور، ایک کے بجائے دو وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں کٹرہ سے دہلی کے اسی راستے پر تقریباً 200 پل اور چھوٹے پل، جبکہ ضلع ادھم پور کو پی ایم جی ایس وائی روڈز میں بھارت کے سب سے اوپر تین اضلاع قرار دیا گیا ہے۔
جب کہ مانسر جھیل کو حکومت ہند کے سوراجیہ منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، منتلائی جسے کانگریس کی سابقہ حکومت نے کھنڈرات میں چھوڑ دیا تھا، کو سٹیٹ آف دی آرٹ فلاحی مرکز کے طور پر بحال کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہمیں بس اتنا کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان کے فائدے اور ان کے بچوں کے فائدے کے لیے اس سب سے آگاہ کریں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں گزشتہ 10 سالوں میں اس حلقہ میں ہونے والی زبردست ترقی کو عام لوگوں بالخصوص نوجوانوں اور خواتین تک موثر طریقے سے پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔