عظمیٰ نیوز سروس
کٹھوعہ//مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر زرعی اسٹارٹ اپ ہب کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ نوجوانوں کو چائیے کہ وہ معیشت کی بہتری کیلئے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں شامل ہو جائیں ۔ہیرا نگر، کٹھوعہ میںسی ایس آئی آر -انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن کے زیر اہتمام ایک کسان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی راجدھانی میں کرتاویہ پاتھ پر ایک جھانکی کے ذریعے بھدرواہ کے لیوینڈر فارموں کی حالیہ تصویر کشی پر مسرت کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ خوشبو مشن سے متاثر ہوکر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور ناگالینڈ کی ریاستوں نے اب لیوینڈر کی کاشت شروع کردی ہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے تین ہزار سے زیادہ نوجوان اس مشن میں مصروف ہیں جو خود روزگار کے ایک راستے کے طور پر ابھرا ہے کیونکہ یہ نوجوان لاکھوں میں کما رہے ہیں۔ڈاکٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی کوششوں اور حکومت کے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے اقدامات کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، چاہے وہ نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنا ہو یا لیوینڈر مصنوعات کے لئے صنعت کے روابط کو یقینی بنانا ہو یا دیگر ضروری سامان کی فراہمی۔وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ یہ وزیر اعظم مودی ہی تھے جنہوں نے تاریخی لال قلعہ سے اسٹارٹ اپ انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم کی کال کے بعد لوگ تحریک میں شامل ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد اس وقت موجود صرف 350 سے بڑھ کر اب 1.25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، اس طرح ہندوستان اس میدان میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔مرکزی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایگری اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں شامل ہوں تاکہ وہ معیشت میں قدر میں اضافہ کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور امرت کال کے اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کو نمبر ایک معیشت بنانے کے قومی ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کریں۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ وہ علاقے جو یا تو غیر دریافت شدہ ہیں یا کم تلاش کیے گئے ہیں وہ معیشت میں قدر میں اضافے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جموں و کشمیر بالخصوص کٹھوعہ کے سرحدی علاقوں کے مکینوں کی حفاظت کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ ان کے لئے بنکر بنائے گئے ہیں تاکہ وہ سرحد پار سے بلا اشتعال فائرنگ سے پناہ لے سکیں۔