عظمیٰ نیوز سروس
سانبہ //آئی سی ایف آر ای ۔ہمالیائی فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شملہ نے سی ایے ایم پی اے کے اشترک سے کسانوں کیلئے سانبہ میںجنگلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار ترقی پر ایک روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔ڈاکٹر جگدیش سنگھ، سائنسدان-جی، ہیڈ آف ڈویژن ایکسٹینشن اینڈ ٹریننگ کوآرڈی نیٹر/کوآرڈی نیٹر، آئی سی ایف آر ای- ہمالین فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شملہ نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور پائیدار آمدنی پیدا کرنا ہے۔ اس کا مقصد اسٹیک ہولڈرز، ترقی پسند کسانوں تک جنگلات کی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات پھیلانا ہے تاکہ وہ ماسٹر ٹرینرز کے طور پر دوسروں تک علم پہنچا سکیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ انسٹی چیوٹ نے باغبانی کے پودوں کے ساتھ انٹرکراپس کے طور پر دواؤں کے پودوں کو اگانے کے ماڈل تیارکئے ہیں۔ کسان باغبانی کی فصلوں کے درمیان کی جگہ کو دواؤں کے پودے اگانے اوراضافی آمدنی کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس خطے میں اگائے جانے والے موزوں دواؤں کے پودوں پر بھی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر سندیپ شرما، ڈائریکٹر، آئی سی ایف آر ای-ہمالیان فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیویٹ، شملہ نے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے جدید نرسری اور پودے لگانے کی تکنیک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے تیار کردہ کدو، نہانی، وانکاری کے دواؤں کے پودوں کی پانچ نئی اعلیٰ قسموں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے ہمالیہ کے خطے میں جڑی بوٹیوں کی حیثیت، استعمال اور تحفظ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں اور کہا کہ اس خطے میں اعلیٰ قیمت کے ادویاتی پودوں کی تجارتی کاشت اور اسے ایک پائیدار آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمی بنانے کے بہت امکانات ہیں۔ ان قیمتی ادویاتی پودوں کی حفاظت اور تحفظ کا واحد طریقہ ان کی کاشت ہے۔ انہوں نے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نامیاتی کاشتکاری کی طرف جائیں کیونکہ نامیاتی کاشت ماحول کے لئے اور معاشی فوائد کے لئے بھی اچھی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی پیداوار کا ریکارڈ رکھیں اور اپنی مصنوعات کے لیے سرٹیفیکیشن حاصل کریں تاکہ کسانوں کو نامیاتی پیداوار کی بہتر قیمت مل سکے۔ڈاکٹر سنجے کھجوریا، پرنسپل سائنسدان اور کرشی وگیان کیندر کے سربراہ – سانبہ نے بانس کی انواع کے زرعی جنگلات کے نظام میں انضمام کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ اصل ضروریات اور ذریعہ معاش کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ضلع سانبہ کی کاشتکار برادری کے فائدے کے لئے دیگر ایجنسیوں کے ساتھ اس طرح کے متعدد پروگرام بھی پائپ لائن میں ہیں۔