عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکی صدارت میں منعقدہ انتظامی کونسل میٹنگ میں کٹھوعہ میں 2183 کنال اراضی انڈسٹریل اسٹیٹ کو منتقل کرنے کے منصوبے کو منظوری دی گئی جبکہ پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی میں ترمیم کوبھی منظوری دی گئی ۔ صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے 31 اکتوبر 2019 سے اب تک انتظامیہ نے 31000 کنال سے زیادہ ریاستی اور شاملات اراضی محکمہ صنعت و تجارت کو منتقل کر دی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں انتظامی کونسل کی میٹنگ منعقد ہوئی جسمیں کئی اہم منصوبوںکو منظوری دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی میں ترمیم کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر صدارت انتظامی کونسل کی میٹنگ میں منظوری دی گئی۔جبکہ کٹھوعہ میں 2183 کنال اراضی انڈسٹریل اسٹیٹ کو منتقل کو بھی ہر ی جھنڈی دکھائی گئی ۔
انتظامیہ نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں نجی شعبے میں روزگار پیدا کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی 2021-30 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ نئی پالیسی زمین کی خریداری پر اسٹامپ ڈیوٹی کی 100 فیصد واپسی کرے گی، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی اور سیل ڈیڈ پر رجسٹریشن فیس بھی فراہم کرے گی۔جموں و کشمیر پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی میں ترمیم کو جمعرات کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ انتظامی کونسل میٹنگ میں منظوری دی گئی۔ نئی پالیسی کے تحت اسٹیک ہولڈرز کو بہت سے فوائد دئیے گئے ہیں تاکہ ریاست میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہو اور صنعتوں کے قیام کی راہ میں آنے والے قوانین میں نرمی کی جائے۔تقریباً 2000 کنال (250 ایکڑ) اراضی پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹس کے ذریعے سالانہ تیار کی جائے گی۔ ریونیو حکام نے پالیسی کے رہنما خطوط میں مراعات کی واپسی کے ساتھ ساتھ دستاویزات کے اجراء کے لیے آخری تاریخیں بھی شامل کی ہیں۔پرائیویٹ صنعتوں کو سرکاری اراضی مختص کرنے کا تذکرہ بھی نظرثانی شدہ پالیسی میں وضع کردہ قواعد کے تحت ہوگا۔ میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر، چیف سکریٹری اتل ڈلو، ایل جی کے پرنسپل سکریٹری مندیپ کمار بھنڈاری موجود تھے۔ادھرکٹھوعہ میں 2183 کنال اراضی صنعتی اکائیوں کو منتقل کی گئی۔انتظامی کونسل کے اجلاس میں زمین کی منتقلی کی منظوری بھی دی گئی۔ اس کے تحت جموں و کشمیر میں نئی صنعتی اکائیوں کے لیے کٹھوعہ کے گائوں گنڈیال، ماجرا، بگتھلی اور تراف منجلی میں 2183 کنال 14 مرلہ سرکاری اراضی کو منتقل کیا گیا۔