چیف سیکریٹری کی دیہی صفائی کیلئے قائم اثاثوں کوفعال رکھنے کی ہدایت
جموں//مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیر کی 6650پنچایتیں گزشتہ برس اگست میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک قراردی جاچکی ہیں۔اس بات کی جانکاری چیف سیکریٹری کویہاں حکام نے ایک میٹنگ کے دوران دی۔سوچھ بھارت مشن (دیہی) کاجائزہ لیتے ہوئے چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے متعلقہ افسروں پردیاکہ وہ مرکزی زیرانتظا علاقہ کے کونے کونے کادورہ کرکے دیکھیں کہ کیا دیہات میں صفائی ستھرائی کیلئے قائم کیا گیا ڈھانچہ قابل کار ہے یانہیں۔دیہی علاقوں میں گھرگھر سے کچراجمع کرنے جائزہ لینے کے دوران چیف سیکریٹری نے اس قومی مشن کی اہمیت کو مدنظررکھ کر پائیدارماڈل اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلے میں رفع حاجت سے پاک مرکزی علاقہ کادرجہ پانے کے بعدلازمی ہے کہ اِسے ہماری کسی لاپرواہی کے بغیر برقراررکھاجائے۔ انہوں نے مرکزی زیرانتظام علاقہ کے تمام دیہات میں اس کیلئے قائم کئے گئے اثاثوں کاسروے کرنے کی صلاح دی تاکہ ان کے متعلقہ علاقوں میں قابل کار اوراستعمال ہونے کاجائزہ لیا جائے۔
انہوں نے ساراسال ان کوقابل استعمال رکھنے کیلئے ان کی معقول دیکھ ریکھ پرزوریا۔ انہوں نے متعلقہ محکمہ سے کہا کہ وہ دیہات میں ان اثاثوں کی افادیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے نقش راہ ترتیب دیں۔ڈلو نے متعلقین کویقین دلایا کہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ ان دیہی اثاثوں کی دیکھ ریکھ کیلئے ہرممکن امدادفراہم کرے گی۔انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ ان کے زیادہ سے زیاہ استعمال کیلئے معقول منصوبہ اورصفائی ستھرائی کودیہات کی پہچان بنائیں۔وزیراعظم کی طرف سے دیئے گئے پنچایتوں کیلئے کاربن نیوٹریل پلان کے نفاذاورعمل آوری سے متعلق چیف سیکریٹری نے بین المحکمہ جاتی تال میل پرزوردیاتاکہ یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔ انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ دیہات میں ماہرین کے ذریعے کاربن پیداوار کی تخمینہ لگائیں اوراس کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔میٹنگ میں سیکریٹری دیہی ترقی محکمہ اقبال چودھری نے اس مشن کی عمل آوری اور حصولیابی کاگہراتجزیہ پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی زیرانتظام علاقہ کی 6650پنچایتیں گزشتہ سال قواعد وضوابط کی پاسداری کرکے کھلے میں رفع حاجت سے پاک قراردی جاچکی ہیں ۔انہوںنے مزیدکہا کہ ٹھوس فضلہ اور مائع ناکارہ مواد کت بندوبست کیلئے ان دیہات میں نکاسی کانظام فراہم کیاگیا ہے اور اسے اَپ گریڈ بھی کیاگیا۔انہوں نے مزیدکہا کہ محکمہ کی طرف سے کل 2,36,137 SWM اثاثے ، 923331گرے منیجمنٹ اثاثے ،ناکارہ پلاسٹک کوٹھکانے لگانے کے80اثاثے، ٹھوس فضلہ کوٹھکانے لگانے کے8اور 3گوربردھن پلانٹ معہ 17,20,765بیت الخلاء گھروں میں بنائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اضلاع کی مانگ کے مطابق 28,077 IHHLs اور565 CSCs بھی قائم کئے گئے ہیں ۔میٹنگ میں یہ بھی بتایاگیا کہ یوٹی میں مزید 8گوبردھن بائیوگیس پلانٹ قائم کئے جارہے ہیں،اس کے علاوہ ناکارہ پلاسٹک کوٹھکانے لگانے کے 76مزیدپی دبلیوایم یوزمکمل کئے جارہے ہیں۔ میٹنگ میں بتایاگیا کہ پالی پنچایت سانبہ کوکاربن سے پاک پنچایت قرار دینے کیلئے یہاں10بائیوگیس پلانٹ،1گوردھن پلانٹ،سولر کوکرس کی تقسیم ،25000پیڑوں کی شجرکاری ،نامیاتی کاشتکاری کاآغاز،امرت سرور کی تعمیر،بارش کے پانی کوجمع کرنے اورمختلف فصلوں کی کاشت شروع کی گئی ہے۔میٹنگ میں سیکریٹری دیہی ترقی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔