عارف شفیع وانی
اپنی بے مثال خوبصورتی کے لئے مشہور چنار کشمیر میں بہت زیادہ مذہبی، ثقافتی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتے ہیں۔ہر موسم میں چنار رنگ بدلتے رہتے ہیں لیکن اس کے جوش و خروش میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ تاہم سرکاری بے حسی اور عوامی لالچ نے اس عظیم الشان درخت کو بھی نہیں بخشا جسے اگنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔
چنار کے درخت غیر منصوبہ بند ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی دباؤ کی وجہ سے کشمیر میں بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیر میں چناروں کی ابتدا صدیوں پہلے کی ہے جب اسلامی مبلغین نے وسطی ایشیا سے کشمیر کا سفر کیاتھا۔ مورخین کے مطابق چنار کو ایران کے علاقے ہمدان سے اسلامی مبلغین، میر سید علی ہمدانی ؒ اور سید قاسم شاہ ہمدانی نے کشمیر لایا تھا۔ کشمیر کا سب سے قدیم600 سال سے زیادہ عمر کاچنار وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چھترگام میں ایک مسجد کے قریب موجود ہے۔
کشمیر میں مغلوں کے دور میں چنار پروان چڑھے۔ چنار، یعنی شعلہ، اس کا نام مغل بادشاہ جہانگیر نے رکھا تھا۔ مغلوں نے چناروں کو شاہی درختوں کی طرح برتا اور مغل باغات کو ان شاندار درختوں سے سجایا۔ مغلوں نے بجبہاڑہ، بڈگام، کوکرناگ اور اننت ناگ کے علاوہ ڈل جھیل کے کنارے نسیم باغ میں 1100 سے زیادہ چنار لگائے۔ باقی چند چنار اب بھی ان مقامات پر موجود ہیں۔ ڈوگرہ حکمران بھی چناروں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ تھے اور اس کی کٹائی پر پابندی لگا دی تھی۔ انہوں نے چنار کو سرکاری جائیداد قرار دیا تھا۔
بڑھتی ہوئی ترقیاتی سرگرمیوں خصوصاً سڑکوں کی توسیع کے ساتھ، چناروں کو پورے کشمیر میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سڑک چوڑی کرنے کے نام پر کئی چنار دفن کر دیے گئے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران سری نگر۔قاضی گنڈ ایکسپریس وے کے ساتھ لگ بھگ 75 چنار درختوں کو کاٹا۔ حکام نے ان شاندار درختوں کو بیچ کر 28.17 لاکھ روپے جمع کئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ شاہراہ کے دونوں طرف چنار کا ایک پودا بھی نہیں لگایا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ 50 سال پہلے کشمیر میں 42,000 چنار موجود تھے۔ فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایف آر آئی) کی جانب سے گزشتہ سال کی گئی سرشماری کے مطابق وادی میں چنار کے 18,000 درخت پائے گئے جن میں سے کم از کم ایک تہائی بیمار یا تباہ شدہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ درخت اگلی دہائی میں ختم ہو سکتے ہیں۔
سابق چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ محمد سلطان وڈو نے 2007 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دی ٹریز آف اوور ہیریٹیج‘ میں بتایا تھا کہ کشمیر میں 17,124 چنار تھے جن میں سے ہر سال تقریباً 746 کو کاٹ دیا جاتا تھا۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں، بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے جگہ بنانے کی خاطر چنار کے درختوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ بہت سے درخت بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں اور پیتھوجینز سے متاثر ہوئے، جس سے ان کی تعداد 1100 سے کم ہو کر 700 سے کم ہو گئی۔ سری نگر میں بہت سے چنار خشک ہو چکے ہیں اور بنیادی طور پر تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے سڑ رہے ہیں۔
زندہ ثقافتی ورثہ اور ’ریاستی درخت‘ ہونے کے باوجود چناروں کے تحفظ کے لیے کوئی قانونی یا سائنسی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔چند سال قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چناروں کی بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش ظاہر کی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا تھا’’یہ شاندار درخت کشمیر کی بھرپور ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے اور ہر کشمیری کے دل میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔ یہ درخت اپنی خوبصورتی اور جوش و خروش کے لیے جانا جاتا ہے اور جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں کے لیے ایک خاص توجہ کا مرکز ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وادی کشمیر میں دنیا کا سب سے قدیم چنار درخت ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 647 سال پرانا ہے اور یہ بڈگام ضلع کے گاؤںچھترگام میں واقع ہے۔ اور بھی بہت سے درخت بہت پرانے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ورثے کے درخت 300 سال سے زیادہ پہلے لگائے گئے تھے‘‘۔انہوںنے مزید کہاتھا”یہ تشویشناک بات ہے کہ ماضی میں چنار کے بہت سے درخت مختلف وجوہات کی وجہ سے ختم ہو چکے ہیں۔یہ نہ صرف طاقتور چناروں کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ نقصان کی تلافی کے لئے مزید چنار کے درخت لگانے کا بھی مطالبہ کرتا ہے”۔
چناروں کے تحفظ کے لیے امید کی ایک کرن اس وقت پیدا ہوئی جب سری نگر میں ڈل جھیل کے وسط میں مشہور چار چناری جزیرے میں دو بوسیدہ چنار کے درختوں کو دو بڑھے ہوئے درختوں کی پیوند کاری کے ساتھ بحال کیا گیا۔ کشمیر میں چنار کے درختوں کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی پیوند کاری تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چار چناری جزیرہ مغل بادشاہ اورنگزیب کے بھائی مراد بخش نے تعمیر کیا تھا۔
پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جہاں سڑک یا دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے دوران درختوں کی کٹائی سے گریز کیا جائے۔ ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں دیگر مقامات پر درختوں کو کیسے بچایا جاتا ہے۔ درختوں کی پیوند کاری ایک قابل عمل آپشن ہے جہاں سڑک کی توسیع یا ترقیاتی کام شروع کرنا ناگزیر اور لازمی ہے۔ پچھلے سال مہاراشٹر میں سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کے ساتھ 1025 برگد کے درختوں کی پیوند کاری کامیابی کے ساتھ کی گئی تھی۔ دہلی حکومت نے اربن ایکسٹینشن روڈUER-II پروجیکٹ، جسے دہلی کا تیسرا رنگ روڈ بھی کہا جاتا ہے، کی تعمیر کے لیے 6,600 درختوں کو کاٹنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کی منظوری دی ہے۔ دہلی حکومت کے ٹرانسپلانٹیشن پالیسی کے مطابق 6600 میں سے 80 فیصد درخت مجوزہ راہداری کے ساتھ لگائے جائیں گے۔
سڑک کو چوڑا کرنے کی خاطر راہ ہموار کرنے کے لیے چناروں کی کٹائی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ حکام چناروں کے تحفظ کے لیے کس قدر بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چنار کے درختوں کو اگنے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں اور کوئی بھی رقم یا شجرکاری ان کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتی۔ ہم چناروں کے ساتھ درختوں کی طرح سلوک کر رہے ہیں اور انہیں گرانے اور کاٹنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ چناروں کے تحفظ کے لیے عوامی مہم شروع کرنا ہمارا فرض ہے۔ چناروں کے تحفظ کے لیے عالمی ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ہمیں چناروں کے نگہبان کے طور پر کام کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے شاندار درختوں کو محفوظ رکھیں، جو ہمارا زندہ ورثہ ہیں۔
(مضمون نگار انگریزی روزنامہ گریٹرکشمیر کے ایگزیکٹو ایڈیٹرہیں۔)