یو این آئی
نئی دہلی// ون ڈے ورلڈ کپ 2023 بھارت میں ڈیڑھ ماہ تک جاری رہے گا اور 48 میچز کھیلے جائیں گے لیکن ایونٹ کے پہلے ہفتے اور 8 میچز میں ریکارڈوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔کرکٹ کا سب سے بڑا میلہ آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ بھارت میں کھیلا جا رہا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے اس میچ میں فائنل سمیت 48 میچز 10 مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے۔میگا ایونٹ کے آغاز کو ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا ہے اور صرف 8 میچز کھیلے گئے ہیں تاہم کرکٹ ریکارڈز کے حوالے سے یہ ایک ہفتہ خزانہ ثابت ہوا ہے جس میں بولرز اور بیٹرز نے ریکارڈز کی بھرمار کر دی ہے اور امکان ہے کہ جب یہ ورلڈ کپ اختتام پذیر ہوگا تو اس میں بننے والے ریکارڈز بھی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ورلڈ کپ 2023 میں گزشتہ روز حیدرآباد دکن کے راجیو گاندھی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا پاکستان اور سری لنکا کا میچ ریکارڈ کے حوالے سے زر خیز ثابت ہوا۔ میگا ایونٹ میں اپنی گنتی کے لحاظ سے یہ آٹھواں میچ تھا جو ورلڈ کپ کی 52 سالہ تاریخ کو الٹ پلٹ کر نئی تاریخ رقم کر گیا۔ سری لنکا نے 345 جیسا ہمالیہ جیسا ہدف دیا تو پاکستان کی 37 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد جب امیدیں دم توڑنے لگی تھیں تو عبداللہ شفیق، محمد رضوان، سعود شکیل اور افتخار احمد نے انہونی کو ہونی کرتے ہوئے ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔اس میچ میں پہلے سری لنکن بیٹرز نے پاکستانی بولرز کو دھویا جس کا فوری حساب پاکستانی بیٹرز نے آئی لینڈرز بولرز کی شامت لا کر کیا اور 11 گیندیں قبل ہی ہدف حاصل کر لیا۔پاک سری لنکا میچ میں ایک اور بڑا ریکارڈ بنا کہ پہلی بار کسی ایک ہی میچ میں چار کھلاڑیوں نے سنچریاں بنائی۔ سری لنکا کی جانب سے کوشل مینڈس (122) اور سدیرا سمارا ویرا (108) رنز کی شاندار اننگ کھیل کر شائقین کرکٹ کی داد وصول کی لیکن اگلی ہی اننگ میں عبداللہ شفیق (113) اور محمد رضوان کی نا قابل شکست 131 رنز کی میچ وننگ اننگز نے سری لنکن بیٹرز کی سنچریز کو دھندلا دیا۔اسی میچ میں سری لنکن بلے باز کوشل مینڈس نے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف نیا ریکارڈ بنا دیا اور صرف 65 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنا کر لیجنڈ سنگا کارا سے تیز ترین ورلڈ کپ سنچری کا ریکارڈ بھی چھین لیا۔ایک اور ریکارڈ ساز میچ میزبان بھارت اور ریکارڈ پانچ بار کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف کھیلا گیا جو اگرچہ بھارت کی آسان فتح پر اختتام پذیر ہوا لیکن ایک منفی ریکارڈ بھارت کے گلے کا ہار بن گیا جب کہ اس کے علاوہ بھی میچ میں کئی ریکارڈز بنے۔بھارت نے پہلے آسٹریلیا کو 199 رنز پر چلتا کیا اور پھر 4 وکٹوں پر ہدف حاصل کر کے جیت اپنے نام کی تاہم بھارتی اننگ کا آغاز بھی خاصا ڈراونا اور سنسنی خیز ثابت ہوا جب ٹاپ آرڈر تین بلے باز بغیر کوئی رن بنائے صفر پر واپس پویلین لوٹ گئے۔ اس میچ میں دونوں جانب سے کرکٹ کے کئی نئے عالمی اور ملکی ریکارڈز بنائے گئے۔