غمِ دنیا بھلا دیتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
من و تو سے نکل جاتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
دلِ صد چاک سی لیتے، خفائیں تک بھلا دیتے
ستم سب بھول ہی جاتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
فضاؤں میں بھٹک جاتا، ستاروں سے اُلجھ پڑتا
نہ جانے ہم کہاں ہوتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
عدو کی پاسبانی اور نہ یادوں کی وفاداری
زمانے بھر سے لڑ پڑتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
کہیں نا مثنوی ہوتی، نہ کوئی داستاں ہوتی
نہ افسانے کہے ہوتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
نہیں معلوم تھا ہم کو وگرنہ ہم جگر اپنا
حیاتِ جاوِداں رکھتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
زمینِ شورِ سنبل بر نیارد پر، ہمی یاورؔ
زمیں کو آسماں کرتے، اگر وہ ملنے آ جاتے
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ، ہندوارہ، کشمیر
[email protected]
ہوں خستہ انداز پے، برہم
تیری زلفِ ناز پے ، برہم
تجھ کو کیسے تراشا ہے جانم
ہوں پوشیدہ راز پے ، برہم
کون تھے ہم کہاں تھے اب تک تو
وقت کے ہیں شہباز پے ، برہم
بانٹ گیا ہم کو فرقوں میں
ہوں اس اک الفاظ پے، برہم
بن گئی جس کی نمائش خیرات
ہوں میں ایسے نواز پے برہم
طلحہ قلم تو نازک تر ہے
تیری غزل کے الفاظ پے برہم
جنید رشید راتھر طلحہؔ
آونورہ شوپیان
[email protected]
رستہ ہوں میں منزل تم ہو
چاہت ہوں میں حاصل تم ہو
بیچ بھنور کے دیکھ پھنسی ہے
کشی دل کی، ساحل تم ہو
راہِ محبت کا یہ مسافر
کیا جانے لاحاصل تم ہو
چاند فلک پر ہوں میں تنہا
اور تاروں کی محفل تم ہو
جسم میں جیسے روح ہے صورتؔ
زیست میں میری شامل تم ہو
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364549