ادھم پور//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد میں اس لئے تاخیر کی جارہی ہے کیونکہ موجودہ یوٹی انتظامیہ ترقی، روزگار اور دیگر امور میں جموں وکشمیر کی عوام کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہی ہے۔الطاف بخاری ضلع ادھم پور کی تحصیل مونگری میں پارٹی ورکروں کے یک روزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ الطاف بخاری نے کہا’’بدنظمی کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا سامنا نہیں کرنا چاہتی ، لہٰذا الیکشن کے انعقاد میں بظاہر بغیر کسی جواز کے تاخیر کی جارہی ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ مونگری ، پنچاری اور جموں وکشمیر کے دیگر مقامات پر ڈھانچہ کی ترقی، بڑھتی بے روزگاری، تعلیم اور صحت شعبہ جات سے متعلق مسائل کو حل نہ کرنے سے انتظامیہ مخالف جذبات اْبھر رہے ہیں۔منتخب حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے زمینی سطح پر افسران میں جوابدہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اپنی پارٹی نے اگلی سرکار بنائے تو ہر ضلع میں ترقی سے متعلق وائٹ پیپر جاری کیاجائے گا اور یکساں ترقی یقینی بنائی جائے گی۔اپنی پارٹی صدر نے کہا’’قدرتی وسائل / معدنیات کو غیر مقامی کان کنی مافیا نکال رہا ہے جس کی وجہ سے تعمیراتی سامان کی قیمت غیر متوقع طور پر بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے اسی طرح منظور شدہ فنڈز اور مونگری روڈ میں اس کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جو ابھی تک خراب حالت میں ہے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ادھم پور ضلع میں سیاحت کے شعبے کو فروغ دیا جائے جس میں صلاحیت موجود ہے، لیکن یوٹی انتظامیہ ان مقامات کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے جس کو فروغ دیکر مقامی لوگوں کے لئے روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور صحت کے اداروں میں عملہ کی کمی ہے لیکن انتظامیہ مقامی لوگوں کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ باوقار جموں وکشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز، جموں وکشمیر پولیس سروساور دیگر سول سروسز امیدواروں کے لیے عمر کی بالائی حد کو بڑھا کر جنرل زمرے کے اْمیدواروں کے لیے 37 سال کیا جائے۔انہوں نے روایتی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے جذبات کا استحصال کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پچھلے نو سال سے جموں وکشمیر پر براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز سے حکمرانی کر رہی ہے لیکن وہ مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے اور اِس نے غیر مقامی افراد کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ کان کنی کے ٹھیکے اور غیر متوقع تعداد میں شراب کی دْکانیں کھولنے کے لئے غیر مقامی لوگوں کو فائیدہ پہنچایا ہے۔انہوں نے مختلف سرکاری محکمہ جات میں دو لاکھ کے قریب خالی پڑی اسامیوں کو مشتہر نہ کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کے اہم عہدوں پر بھی غیر مقامی افسران کو لاکر بٹھایاجارہا ہے جبکہ جے کے اے ایس اور جے کے پی ایس کو سائڈ لائن کیاگیاہے۔انہوں نے اپنے اس عزم کو دوہرایا ہے کہ ’’اگر اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں اگلی سرکار بنائے گی توہم مقامی لوگوں کے روزگار حقوق کا تحفظ کریں گے ، تمام ڈیلی ویجروں کو مستقل کیاجائے گا اور سبھی سرکاری محکموں میں خالی پڑی دو لاکھ اسامیوں کو مشتہر کرنے کے ساتھ سبھی خطوں کی یکساں ترقی یقینی بنائی جائے گی‘‘انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کی حکومت کریں تاکہ وہ اْن کے ساتھ سات دہائیوں سے ہورہی نا انصافی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کر کے امن، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے ۔